پاکستان تحریک انصاف اور آئین تحفظ پاکستان کے رہنماؤں نے بھارتی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاک فوج کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بھچر اور آئین تحفظ پاکستان کے چیف آرگنائزر لطیف کھوسہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے سکیورٹی کونسل کی میٹنگ بلانے کی اپیل کی۔ لطیف کھوسہ نے پریس کانفرنس کے دوران بھارت کے خلاف منظور کی گئی قرارداد بھی پڑھ کر سنائی۔**
**پنجاب اسمبلی کے باہر آئین تحفظ پاکستان کے چیف آرگنائزر لطیف کھوسہ، شائستہ کھوسہ، علی امتیاز وڑائچ، شیخ امتیاز اور فرخ جاوید مون کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر احمد خان بھچر نے کہا کہ پی ٹی آئی بھارت کی بزدلانہ کارروائی کی شدید مذمت کرتی ہے اور پاکستانی قوم ایک ہو کر پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک بھارت پاکستان کی خودمختاری کو تسلیم نہیں کر پایا۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی کونسل کی کوئی میٹنگ بانی پی ٹی آئی کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر راہول گاندھی اور مودی مل سکتے ہیں تو عمران خان کو کیوں نہیں رہا کیا جا رہا؟**
**لطیف کھوسہ نے کہا کہ مودی مسلم کش فسادات کا ذمہ دار ہے اور رات کے اندھیرے میں کی گئی بھارتی جارحیت کے بعد پاکستانی قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد ہو چکی ہے۔ انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کی حفاظت کے لیے اپنی جان کی آخری قطرہ تک قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر کے پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑ دی ہے، جبکہ پانی ملک کی شہ رگ ہے۔ انہوں نے ای پی سی میں ہونے والی شرمناک حرکتوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف دشمن حملہ آور ہے تو دوسری طرف ملک میں فسطائیت کی انتہا ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ای پی سی میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی، جو ایک منافقت ہے۔**
**لطیف کھوسہ نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں ملک کو ایک مضبوط قیادت کی ضرورت ہے، جو اس وقت اڈیالہ جیل میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ شہباز شریف حکومت اور فسطائیت کے خلاف ڈٹے رہیں گے۔ پریس کانفرنس کے دوران لطیف کھوسہ نے بھارت کے خلاف منظور کی گئی قرارداد کا اعلامیہ بھی پڑھ کر سنایا، جس میں کہا گیا کہ بھارت نے رات کی تاریکی میں پاکستانی سرزمین پر بزدلانہ حملہ کر کے معصوم شہریوں کو شہید کیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ تمام اختلافات کو پس پشت ڈال کر متفقہ طور پر اس اقدام کی مذمت کی گئی۔ اس میں حکومت پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اخلاقی اقدار کھو چکی ہے، جبکہ اڈیالہ جیل کے باہر بانی پی ٹی آئی کی بہن اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ بدترین سلوک کی مذمت کی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ نواز شریف اور موجودہ وزیر اعظم بھارت کو جواب دینے سے قاصر ہیں، جبکہ یہ جواب صرف ایک بہادر اور دلیر لیڈر عمران خان ہی دے سکتا ہے۔ آخر میں ملکی یکجہتی کو مدنظر رکھتے ہوئے ای پی سی کو موخر کرنے کا اعلان کیا گیا، جس کا باقاعدہ اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
No comments yet.