قومی اسمبلی میں سحر کامران کا مقامی کپاس پر 18 فیصد سیلز ٹیکس ختم کرنےکا مطالبہ
سحر کامران نے زور دے کر کہا کہ حکومت یا تو مقامی کپاس پر 18 فیصد سیلز ٹیکس ختم کرے یا درآمداتی کپاس پر برابر ٹیکس عائد کرے
اسلام آباد (پریس ریلیز) — آج قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما و رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے وزیرِ خزانہ سے مطالبہ کیا کہ مقامی فروخت ہونے والی کپاس، سوتی دھاگے اور خام کپڑے پر 18 فیصد سیلز ٹیکس فوری طور پر ختم کیا جائے۔
سحر کامران نے بتایا کہ یہ ٹیکس کسانوں اور متعلقہ صنعت کو تباہی کی دہانے پر لے آیا ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
“مقامی کپاس پر بھاری ٹیکسز لگنے کے باعث کاشتکار مالی مشکلات کا شکار ہیں اور ہمارا زرِ مبادلہ بھی کم ہو رہا ہے۔”
وزیرِ خزانہ کو مزید آگاہ کیا گیا کہ ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم کے تحت درآمد شدہ کپاس ٹیکس فری ہے، جس کی وجہ سے اس کی واردات میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 60 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس ناہموار پالیسی کے باعث پاکستان کی کپاس کی پیداوار چوتھے نمبر سے آٹھویں نمبر پر گر گئی ہے، جو کہ قومی المیہ ہے۔
سحر کامران نے زور دے کر کہا کہ حکومت یا تو مقامی کپاس پر 18 فیصد سیلز ٹیکس ختم کرے یا درآمداتی کپاس پر برابر ٹیکس عائد کرے، تاکہ کسانوں اور متعلقہ صنعت کو بچایا جا سکے۔ انہوں نے ہنگامی بنیادوں پر اس معاملے کے حل کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بغیر کپاس کی فصل اور اس سے جڑی صنعتیں مزید زوال کا شکار ہوں گی۔
No comments yet.