اداریہ: صدر زرداری اور وزیراعظم شریف کی ملاقات: ایک اہم موڑ پر قومی اتحاد اور مضبوط قیادت کا مظاہرہ
اس ملاقات کی خاص اہمیت قومی اتحاد اور تیاری پر زور دینے میں ہے۔ پاکستان کی پوری قوم اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے
ایسے نازک وقت میں جب بھارت کے ساتھ تناؤ اپنے عروج پر ہے، صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی 1 مئی 2025 کو ایوانِ صدر میں ہونے والی ملاقات قومی اتحاد اور مضبوط قیادت کی روشن مثال ہے۔ یہ ملاقات، جو پہلگام حملے کے بعد کی صورتحال کے تناظر میں ہوئی، نہ صرف بروقت تھی بلکہ اس نازک موڑ پر ناگزیر بھی تھی۔ دونوں رہنماؤں نے بھارت کے جارحانہ رویے اور اشتعال انگیز بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جو علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ اس ملاقات میں پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے عزم کو دوبارہ اجاگر کیا گیا، اور یہ واضح کیا گیا کہ پاکستان کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
پہلگام حملے نے ایک بار پھر جنوبی ایشیا میں امن کی نازک صورتحال کو عیاں کر دیا ہے۔ بھارت کی جارحانہ روش اور اشتعال انگیز کارروائیاں خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہی ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے اس ملاقات میں بھارت کے رویے کو علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔ لیکن اس بحران کے وقت میں، صدر زرداری اور وزیراعظم شریف نے قابلِ تحسین عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کا متحدہ محاذ یہ واضح پیغام دیتا ہے کہ پاکستان اپنے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
اس ملاقات کی خاص اہمیت قومی اتحاد اور تیاری پر زور دینے میں ہے۔ پاکستان کی پوری قوم اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے، جو کسی بھی خطرے یا جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ اتحاد ملکی دفاعی حکمتِ عملی کا سنگِ بنیاد ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اور فوج پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ کے مشن میں یکساں ہیں۔
صدر زرداری کی جرات مندانہ قیادت اس ملاقات میں نمایاں رہی اور وہ خاص طور پر قابلِ ستائش ہیں۔ انہوں نے بھارت کے بے بنیاد الزامات پر حکومت کے متوازن اور ذمہ دارانہ ردِعمل کی تعریف کی، جو ان کی دوراندیشی اور سیاسی حکمت کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے یہ اعادہ کیا کہ پاکستان "ہر قیمت پر" اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اہم قومی مفادات کا تحفظ کرے گا۔ یہ بیان ان کی مضبوط قیادت کا ثبوت ہے، جو اس نازک موڑ پر قوم کے لیے تحریک کا باعث ہے۔ وہ ایک ایسے رہنما ہیں جو نہ صرف حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہیں بلکہ قوم کے تحفظ کے لیے جرات مندانہ اقدامات اٹھانے کو بھی تیار ہیں۔
بھارت کی جانب سے پہلگام حملے کے حوالے سے بغیر کسی تحقیقات کے لگائے گئے الزامات نہ صرف امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرتے ہیں بلکہ اصل مسئلے سے توجہ ہٹاتے ہیں۔ پاکستان، جو گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور بے پناہ جانی و مالی نقصانات اٹھا چکا ہے، عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بھارت کی جانب سے پاکستان میں عسکریت پسندوں کو فنڈنگ، تربیت اور بھیجنے میں ملوث ہونے کا نوٹس لے۔ یہ محض قومی وقار کا معاملہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر انصاف اور جوابدہی کا سوال ہے۔
ملاقات میں کشمیر کے مسئلے پر توجہ اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا۔ کشمیری عوام کا حقِ خودارادیت خطے میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ یہ ملاقات پاکستان کے اصولی موقف کو تقویت دیتی ہے کہ کشمیر کے تنازع کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں استحکام لا سکتا ہے۔
صدر زرداری اور وزیراعظم شریف کی یہ ملاقات بیرونی جارحیت کے خلاف پاکستان کے ردِعمل میں ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔ یہ پاکستان کی قیادت کی مضبوطی، عوام کے اتحاد، اور مسلح افواج کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔ صدر زرداری کی جرات مندانہ قیادت اس نازک موڑ پر قوم کے لیے ایک مینارہِ نور ہے، جو واضح سوچ اور عزم کے ساتھ پاکستان کی رہنمائی کر رہی ہے۔ یہ ملاقات نہ صرف قومی اعتماد کو بحال کرتی ہے بلکہ دیرینہ علاقائی تنازعات کے حل کے ذریعے امن کی بحالی کی امید بھی جگاتی ہے۔
No comments yet.