اداریہ: محنت کش طبقے کے حقوق کے لیے پیپلز پارٹی کا مستقل عزم
قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر آج تک، پیپلز پارٹی کی مزدوروں کے حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد پاکستان کی متفرق سیاسی فضا میں ایک شاذونادر مثال ہے۔
عالمی یوم مزدور 2025 کے موقع پر، صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے پیغامات میں مزدوروں کے حقوق، ان کی فلاح و بہبود، اور ملکی ترقی میں ان کے کردار کو نمایاں کیا گیا ہے۔ یہ پیغامات صرف یوم مزدور کی اہمیت کو اجاگر نہیں کرتے بلکہ پیپلز پارٹی کی تاریخی جدوجہد کو بھی منعکس کرتے ہیں۔
صدر زرداری نے اپنے پُرمعنی پیغام میں مزدوروں کو "ہماری معیشت اور قومی ترقی کا محرک" قرار دیا ہے، جو ایک گہری حقیقت ہے۔ وہ صرف اعدادوشمار نہیں، بلکہ وہ قوت ہیں جو ہمارے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، صنعتوں کی ترقی، زراعت کی بہتری، اور ملکی معیشت کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ صدر کا یہ کہنا کہ "ہمارے کارکن ہمارا فخر ہیں، اور ہماری قومی ترقی انہی کی محنت اور کردار کی مرہون منت ہے" ایک ایسی حقیقت کو تسلیم کرنا ہے جسے اکثر نظرانداز کردیا جاتا ہے۔
یہ تسلیم کرنا خاص طور پر اہم ہے کہ یہ پیغام ریاست کے سربراہ کی جانب سے آیا ہے، جو عالمی یوم مزدور کو ایک صرف رسمی تقریب سے ہٹ کر ایک ایسا موقع بناتا ہے جہاں قومی سطح پر مزدوروں کی خدمات کا اعتراف اور ان کے لیے بہتر مستقبل کی تشکیل پر توجہ دی جاتی ہے۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے پیغام میں پیپلز پارٹی کی مزدور دوست پالیسیوں کے تاریخی تسلسل کو اجاگر کیا ہے، جو پارٹی کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر آج تک جاری ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ قائد عوام نے نہ صرف مزدوروں کو یونین سازی کا حق دیا بلکہ ایسے ادارے بھی قائم کیے جو مزدوروں کے مستقبل کی حفاظت کریں، جیسے ایمپلائیز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی)۔
شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت کا پہلا فیصلہ آمریت کے دور میں قید کیے گئے مزدور رہنماؤں کی فوری رہائی تھا، جبکہ صدر آصف علی زرداری کی پہلی حکومت میں تمام مزدور مخالف شقوں کو آئین سے نکالا گیا اور تنخواہوں و پنشنز میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے لیے مزدوروں کے حقوق صرف انتخابی نعرے نہیں بلکہ ان کا بنیادی عقیدہ ہیں جس پر وہ آغاز سے ہی عمل پیرا ہے۔
دونوں رہنماؤں کے پیغامات میں مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی پر زور دیا گیا ہے۔ صدر زرداری نے مزدوروں کی ہنرمندی پر خاص توجہ دی ہے، کہتے ہوئے کہ "آج کی تیزی سے بدلتی دنیا میں اپنے نوجوانوں اور کارکنوں کے روشن مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے ہمیں انہیں ہنرمند بنانے پر توجہ دینا ہوگی۔" یہ بصیرت دکھاتی ہے کہ آج کے مزدوروں کو صرف موجودہ حفاظت ہی نہیں بلکہ مستقبل کی تکنیکی اور معاشی تبدیلیوں کے لیے آمادہ کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ ڈیجیٹل دور کی معیشت کی حقیقتوں کے مطابق مزدور قوانین کو جدید بنانے کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف روایتی مزدوروں ہی نہیں بلکہ غیر رسمی شعبے اور ڈیجیٹل معیشت میں کام کرنے والوں کو بھی حقوق ملنے چاہیے، جو نئے دور کی مزدور رہنمائی کی عکاسی کرتا ہے۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سندھ حکومت کی مزدور دوست پالیسیوں کو خصوصی طور پر نمایاں کیا، خاص طور پر بینظیر مزدور کارڈ کے ذریعے۔ انہوں نے کہا کہ "محنت کشوں کے حقوق اور فلاح کے حوالے سے سندھ اسمبلی نے جو قانون سازی کی ہے، اس کی مثال ملک کے کسی اور صوبے میں نہیں ملتی۔" یہ بینظیر مزدور کارڈ ایک انقلابی اقدام ہے جس کے ذریعے رجسٹرڈ مزدوروں کو تعلیم، صحت، شادی گرانٹ، مالی امداد اور وظائف جیسی بنیادی سہولیات حاصل ہوں گی۔
سندھ حکومت کا یہ اقدام اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ پیپلز پارٹی صرف نظریاتی سطح پر ہی نہیں بلکہ عملی طور پر بھی مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں ہے۔ یہ اقدام دیگر صوبوں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے۔
صدر زرداری نے اپنے پیغام میں مزدوروں کی فلاح کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا ہے، کہتے ہوئے کہ "میں تمام حکومتوں، نجی اداروں، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی پر زور دیتا ہوں کہ وہ ہمارے مزدوروں کی ہنرمندی کیلئے ایک جامع نظام تشکیل دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔" یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ مزدوروں کی فلاح و بہبود صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک مشترکہ قومی ذمہ داری ہے جس میں سماج کے تمام طبقوں کو حصہ لینا ہوگا۔
اسی طرح، آجروں، ٹریڈ یونینوں، سول سوسائٹی اور پبلک سیکٹر کو "ایک منصفانہ لیبر ماحول تشکیل دینے اور مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے" ساتھ ملکر کام کرنے کی درخواست مزدوروں کے مسائل کو ہل کرنے کے لیے ایک جامع اور متوازن نقطہ نظر پیش کرتی ہے۔
عالمی یوم مزدور 2025 پر صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے پیغامات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ مزدوروں کے حقوق قومی ترقی سے الگ نہیں کیے جا سکتے۔ ان کا وژن تسلیم کرتا ہے کہ مزدوروں کا وقار، منصفانہ معاوضہ، اور سماجی تحفظ نہ صرف اخلاقی ضروریات ہیں بلکہ پائیدار معاشی ترقی کی بنیادی شرط بھی ہیں۔
قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر آج تک، پیپلز پارٹی کی مزدوروں کے حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد پاکستان کی متفرق سیاسی فضا میں ایک شاذونادر مثال ہے۔ جیسا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پرزور انداز میں کہا ہے، "ہمارے محنت کش ہی ہماری معیشت اور قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ پیپلز پارٹی ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑی رہے گی — جدوجہد میں بھی، خدمت میں بھی۔" اگر یہ عزم پورا ہوا تو یہ نہ صرف مزدوروں کے لیے بہتر حالات بلکہ تمام پاکستانیوں کے لیے ایک زیادہ مساوی اور خوشحال پاکستان کا وعدہ کرتا ہے۔
No comments yet.