سیالکوٹ ضمنی الیکشن: پیپلز پارٹی کا الیکشن کمیشن کو خط، ڈپٹی کمشنر کے تبادلے پر نوٹس لینے کی استدعا
پیپلز پارٹی کے امیدوار نے بھی ضمنی انتخاب کے لیے اپنی کاغذاتِ نامزدگی باقاعدہ طور پر جمع کروائے ہیں، اور اب اس انتخاب کی شفافیت کے لیے الیکشن کمیشن کا فوری نوٹس ناگزیر ہے۔ پ
سیالکوٹ (نامہ نگار) پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹینز کے سیکرٹری جنرل نیئر حسین بخاری نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ایک خط لکھ کر سیالکوٹ حلقہ پی پی-۵۲ میں ضمنی انتخاب کے سلسلے میں اہم امور پر نوٹس لینے کی استدعا کی ہے۔
نیئر حسین بخاری نے اپنے خط میں کہا ہے کہ ۱۸ اپریل ۲۰۲۵ کو حلقہ پی پی-۵۲ کے ضمنی انتخاب کے لیے انتخابی شیڈول کا نوٹیفیکیشن جاری ہوتے ہی ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کے تبادلے کا عمل شروع کیا گیا، جو آئین پاکستان اور الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ کے صریحی احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ “تمام اداروں پر لازم ہے کہ وہ آئین پاکستان اور الیکشن ایکٹ کے تحت صاف اور شفاف انتخابات کو یقینی بنائیں”۔
خط کے مطابق، الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ کے تحت الیکشن کمیشن کو پیشگی اجازت کے بغیر کسی بھی افسر کا تقرر یا تبادلہ کرنا ممنوع ہے، مگر پنجاب حکومت نے ۲۶ اپریل ۲۰۲۵ کو افسر صبا علی اصغر کو بطور ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ تعینات کرکے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ نیئر حسین بخاری نے لکھا کہ “الیکشن کمیشن صاف اور شفاف انتخابات کرانے کا پابند ہے اور اس طرح کے اقدامات عوامی اعتماد کو مجروح کرتے ہیں”۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کے امیدوار نے بھی ضمنی انتخاب کے لیے اپنی کاغذاتِ نامزدگی باقاعدہ طور پر جمع کروائے ہیں، اور اب اس انتخاب کی شفافیت کے لیے الیکشن کمیشن کا فوری نوٹس ناگزیر ہے۔ پارٹی رہنما نے استدعا کی ہے کہ کمیشن آئین و قانون کی خلاف ورزی کرنے والے حکومتی افسران کے تقرر و تبادلوں کا ازخود نوٹس لے اور حلقہ پی پی-۵۲ کے ضمنی انتخاب کو بغیر کسی غیر ضروری رکاوٹ کے کرانے کو یقینی بنائے۔
نیئر حسین بخاری نے خط کا متن الیکشن کمیشن کو بھیجتے ہوئے واضح کیا کہ اس سے عوامی اعتماد کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ انتخابی عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ الیکشن کمیشن ضمنی انتخاب کے شیڈول کے مطابق تقرر و تبادلوں پر شفاف تحقیقات کروائے اور ضروری حکم نامے جاری کرے۔
No comments yet.