جمعہ ،5 جون 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

سحر کامران نے پہلگام میں بھارت کے 'فالس فلیگ سازشوں' کا بھانڈا پھوڑ دیا

بھارتی حکومت کی دہشت گردی پھیلانے کی سازشوں پر پاکستان پیپلز پارٹی کی قابل احترام رہنما سحر کامران کا واضح اور جرأت مندانہ موقف قابل تحسین ہے۔

Editor

ایک سال قبل

Voting Line

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور خارجہ امور کی ماہر، رکنِ قومی اسمبلی سحر کامران نے ایک بے مثال بصیرت اور جرأت مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی حکومت کی فالس فلیگ سازشوں کو بے نقاب کیا ہے۔ پہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی مودی سرکار کی کوششیں، سحر کامران کی سخت اور ٹھوس تنقید کے سامنے بے معنی ثابت ہو گئیں۔ انہوں نے نہ صرف مودی حکومت کو اپنی سیکیورٹی کی ناکامی کا منہ توڑ جواب دینے کا چیلنج دیا بلکہ اس انتہاپسند نظریے کی بھی عالمی سطح پر بے نقابی کی ذمہ داری اٹھائی ہے۔

بھارتی حکومت کی دہشت گردی پھیلانے کی سازشوں پر پاکستان پیپلز پارٹی کی قابل احترام رہنما سحر کامران کا واضح اور جرأت مندانہ موقف قابل تحسین ہے۔ سحر کامران کا بیان محض تنقید نہیں، بلکہ ایک مضبوط حکمت عملی بھی ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ گجرات کے قتلِ عام سے لے کر کشمیر میں جاری مظالم تک، ہندوتوا انتہاپسندانہ پالیسیوں نے بھارت کی بین الاقوامی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ را کے مبینہ قاتل گروہوں کا کینیڈا اور امریکہ میں سراغ لگنا اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ مافیائی کارروائیاں صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہیں، بلکہ عالمی امن کی خاطر تشویش کا باعث بن گئی ہیں۔

سحر کامران نے بجا طور پر نشاندہی کی ہے کہ مودی حکومت کا پہلگام حملہ ایک اور فالس فلیگ آپریشن ہے جسے بھارت اپنی سیکیورٹی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ یہ کوئی نیا طریقہ کار نہیں ہے – گجرات سے لے کر کشمیر تک، مودی اور بی جے پی کی ہندوتوا انتہاپسندی کی تاریخ خون سے رنگی ہوئی ہے۔

سحر کامران کا تجزیہ اس لحاظ سے بالکل درست ہے کہ بھارت کے خفیہ قاتل گروہ اب صرف خطے تک محدود نہیں رہے، بلکہ کینیڈا اور امریکہ جیسے ممالک میں بھی ان کی سرگرمیاں بے نقاب ہو چکی ہیں۔ اس سے بھارت کی بین الاقوامی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچا ہے، اور دنیا بھر میں مودی حکومت کے دوہرے معیار اور جارحانہ پالیسیوں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔


سحر کامران نے بجا طور پر پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی حمایت کی ہے۔ واہگہ بارڈر کی بندش، فضائی حدود کی معطلی، اور تجارتی روابط کے منقطع ہونے سے بھارت کو واضح پیغام ملا ہے کہ اب جھوٹ اور سازشوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

انہوں نے بھارت کو بالاکوٹ، ابھی نندن، اور جھوٹی فتح کے دعووں کی یاد دلاتے ہوئے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ تاریخ کی شعوری شاگرد ہیں۔ ان کا اصرار کہ "حقیقت ہمیشہ سامنے آتی ہے" ان کے سچائی پر مبنی سیاست کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی تائید میں سحر کامران نے نہ صرف واہگہ بارڈر کی بندش، فضائی حدود کی معطلی اور تجارتی روابط کی منقطع کاری کو ضروری قرار دیا بلکہ یہ بھی باور کروایا کہ اب جھوٹ زیادہ دیر تک چھپ نہیں سکتا۔ بالا کوٹ اور ابھی نندن کے جھوٹے دعوؤں کا مسلسل تذکرہ اس امر کا مظہر ہے کہ حقیقت کو پوشیدہ نہیں رکھا جا سکتا۔

سحر کامران کی آواز صرف پاکستان کے اندر ہی نہیں بلکہ عالمی برادری میں بھی بھرپور اثر رکھتی ہے۔ انہوں نے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کی انڈس واٹرز ٹریٹی کی خلاف ورزیوں پر خاموش نہ بیٹھیں، ورنہ خطے میں معاشی و سفارتی بحران جنم لے سکتا ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی اور جھوٹے آپریشنز کے خلاف ان کا موقف پاکستان کے امن پسندی، انصاف اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کو بہترین طور پر پیش کرتا ہے۔

 سحر کامران کی یہ پالیسی اور بے باک بیان بازی پاکستان کے موقف کو منظم اور باوقار انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرتی ہے۔ ان کی قیادت میں پاکستان یہ پیغام واضح کر چکا ہے کہ کسی بھی جارحیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور سچائی کی قوت نے ہمہ وقت فتح حاصل کرنی ہے۔

سحر کامران کا سب سے اہم نکتہ جس پر عالمی برادری کو توجہ دینے کی ضرورت ہے، وہ بھارت کی انڈس واٹر ٹریٹی سے متعلق بدنیتی ہے۔ پانی کے مسائل پر ان کی خصوصی توجہ بتاتی ہے کہ وہ مستقبل کے خطرات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ بھارت کی خطے میں پانی کی جنگ مسلط کرنے کی کوششیں ایک سنگین ترین معاملہ ہیں، اور ان کے ماہرانہ انداز میں اس مسئلے کو اٹھانا ان کی سیاسی بصیرت کا ثبوت ہے۔

سحر کامران کا عالمی برادری سے مطالبہ کہ وہ بھارت کی شدت پسند پالیسیوں پر خاموش تماشائی نہ بنے، بھرپور حمایت کا مستحق ہے۔ ان کا زور دار بیان کہ "پاکستان کا مؤقف ہمیشہ امن، انصاف، اور بین الاقوامی قوانین پر مبنی رہا ہے" ہمارے ملک کی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔

سحر کامران کی جرأت مندانہ آواز اور بے باک تجزیہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے شعبے میں ایک اہم اثاثہ ہے۔ مودی حکومت کی سازشوں کا بے نقاب احتساب کرنے اور خطے میں امن کے لیے مستقل آواز اٹھانے کی ان کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔ پاکستان کو ایسے ہی باصلاحیت اور جرأت مند سیاستدانوں کی ضرورت ہے جو بین الاقوامی سطح پر ملک کا مؤقف واضح انداز میں پیش کر سکیں۔

Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry