قومی یکجہتی کے علمبردار: بلاول بھٹو زرداری کا بھارتی جارحیت کے خلاف موقف
بھارت کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنا اور اندرونِ ملک وفاق اور صوبوں کے توازن کو برقرار رکھنا ان کے سیاسی وژن کی جامع تصویر کشی کرتا ہے۔
آج پاکستان ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے جہاں بیرونی خطرات اور داخلی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے دانشمندانہ قیادت کی ضرورت ہے۔ ایسے وقت میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ملک کے حیاتیاتی وسائل، خصوصاً پانی کے حقوق کے تحفظ میں جو کردار ادا کیا ہے، وہ قابل تحسین ہے۔ سکھر میں منعقدہ عظیم الشان جلسہ عام میں ان کا خطاب پاکستان کی آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ان کی پختہ عزم اور دوراندیش قیادت کا عکاس ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے سکھر کے عظیم الشان جلسے سے اپنے دلیرانہ خطاب میں ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا کہ قیادت کا اصل مطلب عوام کے مفاد کو مقدم رکھنا اور بیرونی دباؤ کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی نے نہ صرف سندھ کے پانی کے وسائل کے دفاع میں اپنی مسلمہ پالیسی کی پاسداری کی بلکہ وفاقی حکومت کو اس امر پر مجبور بھی کیا کہ دریائے سندھ سے کوئی بھی نہری منصوبہ چاروں صوبوں کی رضامندی کے بغیر نہ بنے۔ یہ وہ حکمت عملی ہے جس نے نہ صرف سندھ کے عوام کا اعتماد بڑھایا بلکہ پورے ملک میں وفاق اور صوبوں کے مابین مفاہمت کی راہ ہموار کی۔
چیئرمین بلاول نے بھارتی یکطرفہ اقدام یعنی سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو نہایت شدید انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا:
“دریائے سندھ ہمارا ہے اور ہمارا ہی رہے گا، اِس دریا سے ہمارا پانی بہے گا یا اُن کا خون بہے گا۔”
یہ جذباتی مگر جامع الفاظ اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہوں نے نہ صرف ملکی خودمختاری کی حدوں کا تعین کیا بلکہ دشمن کے مذموم عزائم کا بے خوف مقابلہ کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔ بلاول کی قیادت میں عوامی ہوشیاری نے مرکزی حکومت کو مجبور کیا کہ مشترکہ مفادات کونسل کی شرائط پر تمام فریقین کی رضا مندی کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں ہوگا۔ اس سے یہ پیغام گیا کہ ترقی اور پالیسی سازی میں صوبائی حقوق کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی نے متنازعہ نہری منصوبے کے خلاف جو جدوجہد کی، اس نے ثابت کیا کہ وہ صرف سیاسی جماعت نہیں بلکہ پاکستان کے قومی مفادات کی محافظ ہے۔ انہوں نے اپنے پرعزم موقف کے ذریعے وفاقی حکومت کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ یہ تسلیم کرے کہ مشترکہ مفادات کونسل میں تمام صوبوں کی باہمی رضامندی کے بغیر کوئی نہر نہیں بنے گی۔ یہ پیپلز پارٹی کی عوامی جدوجہد کی کامیابی ہے جس نے ملک کے آبی وسائل کے تحفظ کو یقینی بنایا۔
ان کے خطاب کا ایک اور اہم پہلو یہ تھا کہ انہوں نے موجودہ حکومت اور وزیراعظم شہباز شریف کے تعاون کو سراہا، جس سے یہ واضح ہوا کہ بلاول اختر ذہین سیاست دان ہیں جو مقابلے کے بجائے رضامندی کے ذریعے نتائج حاصل کرنا جانتے ہیں۔ انہوں نے عوامی جدوجہد کو کامیاب قرار دے کر جیالوں اور کارکنان کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا:
“میں نے وعدہ کیا تھا ہم سندھ کو بچائیں گے، سندھ کو خطرات سے بچا دیا ہے، یہ آپ کی کامیابی ہے۔”
بلاول بھٹو زرداری نے نہ صرف عوام کو متحد رہنے کی اپیل کی بلکہ یکم مئی کو میرپورخاص میں منعقد ہونے والے عظیم الشان جلسے کا اعلان کرکے آئندہ لائحہ عمل کا بھی خاکہ پیش کیا۔ ان کا یہ منصوبہ عوام کو سیاسی عمل میں مزید سرگرم شمولیت کی دعوت دیتا ہے۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سندھ طاس معاہدہ کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے بھارتی اعلان کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے نہ صرف بھارت کو متنبہ کیا بلکہ پرعزم انداز میں یہ پیغام دیا کہ "دریائے سندھ ہمارا ہے اور ہمارا ہی رہے گا، اِس دریا سے ہمارا پانی بہے گا یا اُن کا خون بہے گا۔" یہ پرجوش بیان ان کی قوم پرستی اور ملکی حقوق کے تحفظ کے لیے ان کے عزم کا عکاس ہے۔
انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جارحانہ پالیسیوں کا بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں دہشتگردی کے واقعے کا الزام پاکستان پر لگا کر مودی اپنی کمزوریاں چھپانا چاہتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کا یہ موقف پاکستان کی خارجہ پالیسی کو مضبوط بنیادیں فراہم کرتا ہے
قومی یکجہتی کے فروغ میں بلاول بھٹو زرداری کا کردار نمایاں ہے۔ انہوں نے قوم کو اس مشکل گھڑی میں متحد ہونے کی اپیل کی ہے تاکہ بھارت کو منہ توڑ جواب دیا جاسکے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ "پاکستان کے عوام بہادر لوگ ہیں، ہم بھارت کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔" یہ بیان عوام میں اعتماد اور حوصلہ پیدا کرنے کے لیے اہم ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے اعلان کیا کہ دریائے سندھ کی حفاظت کے لیے ان کی جدوجہد جاری رہے گی جب تک بھارت اپنا فیصلہ واپس نہیں لیتا۔ اس سے ان کی استقامت اور عزم کا اندازہ ہوتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی بھارت کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ کھڑی ہے، جو قومی اتحاد کے فروغ میں ان کے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔
بلاول کی قیادت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ عوامی امنگوں کو حکومتی پالیسی میں ڈھالنا جانتے ہیں اور ملکی دفاع کو بھی عوامی طاقت سے مربوط کرتے ہیں۔ بھارت کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنا اور اندرونِ ملک وفاق اور صوبوں کے توازن کو برقرار رکھنا ان کے سیاسی وژن کی جامع تصویر کشی کرتا ہے۔ ایسے قائد کی قیادت میں پیپلز پارٹی نہ صرف سندھ کے حقوق کا تحفظ کرے گی بلکہ پورے پاکستان میں عوامی طاقت کو سیاسی استحکام میں بدلنے کا ثبوت بھی دے گی۔
بلاول بھٹو زرداری پاکستان کے نوجوان اور باصلاحیت سیاستدان ہیں جنہوں نے ملکی مفادات کے تحفظ میں اپنا کردار نمایاں طور پر ادا کیا ہے۔ ان کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی نے نہ صرف ملک کے آبی وسائل کے تحفظ کو یقینی بنایا بلکہ صوبائی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو بھی فروغ دیا ہے۔ وہ آج کے دور میں پاکستان کے ایک ایسے سیاسی رہنما ہیں جو اپنے والد آصف علی زرداری اور والدہ شہید بینظیر بھٹو کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کوشاں ہیں۔ دریائے سندھ کے تحفظ کے معاملے پر ان کی جدوجہد تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔
بھٹو ز فیملی پر فخر ہے ۔