جمعہ ،5 جون 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

پاکستان پیپلز پارٹی کا کینالز کے پانی کے بحران پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ

"یہ اپنے آپ کو پنجاب کا وارث کہتے ہیں، آپ وارث نہیں ہیں۔ آپ پنجاب کے وارث نہیں ہو سکتے، خریدار ہیں۔ آپ نے اربوں کی جائیدادیں بیچ ڈالیں، عوام کی سہولیات چھین لیں۔"

Editor

ایک سال قبل

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) - پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات ندیم افضل چن اور چوہدری منظور نے مشترکہ پریس کانفرنس میں پانی کے بحران، دہشتگردی اور حکومتی معاملات پر تفصیلی گفتگو کی۔ یہ پریس کانفرنس ایسے وقت میں منعقد کی گئی جب ملک بھر میں کینالز میں پانی کی شدید کمی سے کسان طبقہ پریشانی کا شکار ہے۔ دونوں رہنماؤں نے موجودہ حکومتی اتحاد اور خصوصاً پانی کے تقسیم کے مسئلے پر سخت تنقید کی۔

پریس کانفرنس کے آغاز میں ندیم افضل چن نے ملک کی موجودہ صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ "پاکستان میں اس وقت سیریس صورتحال ہے۔" انہوں نے حالیہ انڈیا میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا، "دہشتگردی جہاں بھی ہو، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔" انہوں نے اپنے ملک کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے اضافہ کیا، "پاکستان دہشتگردی کا بہت شکار ہے، ہمیں پتا ہے کہ دہشتگردی سے ہم کتنے متاثر ہوئے ہیں۔"

پیپلز پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات نے پانی کے بحران کو ملک کے سب سے سنگین مسائل میں شمار کرتے ہوئے کہا، "سب سے بڑا مسئلہ کینالز کا ہے۔" انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومتی معاملات پر بھی مذاکرات جاری ہیں، "سیاسی معاملات پر بھی حکومت کے ساتھ ہماری بات چیت چل رہی ہے۔"

پریس کانفرنس میں چوہدری منظور نے بھی اہم خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنے سابقہ موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "تین اپریل کو لاہور میں پریس کانفرنس کی تھی، پانی کے مسئلے پر پنجاب کی نمائندگی کر رہا ہوں۔" انہوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سوال اٹھایا، "مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس کیوں نہیں بلایا جا رہا؟"

چوہدری منظور نے کینالز منصوبے کے حوالے سے حکومت سے سوال کیا، "کون سی نہر بند کر کے نئی نہروں میں پانی دیا جائے گا؟" انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا، "صدر مملکت پارلیمان کے بل اور آرڈیننس کی منظوری دیتے ہیں، صدر کے پاس انتظامی کام کی منظوری دینے کا کوئی اختیار نہیں، کینالز منصوبہ کی منظوری صدر مملکت نے نہیں دی۔" انہوں نے حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، "حکومت کو ایک سال ہوگیا ہے اب تک مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس نہیں بلایا گیا، پنجاب حکومت کسانوں کے ساتھ ظلم کرنے جارہی ہے۔"

چوہدری منظور نے تکنیکی پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا، "آبی ماہرین کہتے ہیں یہ منصوبہ نا قابل عمل ہے، فلڈ تو 3 ماہ کے لیے ہوتا ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب بتائیں کون سی نہر کا پانی بند کرکے چولستان کو دیں گی؟ اس وقت سسٹم میں پانی کی 43 فیصد کمی ہے۔"

چوہدری منظور نے پانی کی کمی کے سنگین مسئلے پر روشنی ڈالتے ہوئے تفصیل سے بتایا، "پہلے جو نہریں چل رہی ہیں، ان میں پانی کی کمی ہے۔ پانی کی کمی ہے، مسئلہ کیسے حل ہوگا، پانی کہاں سے آئے گا؟" انہوں نے کسانوں کی تکالیف پر توجہ دلاتے ہوئے کہا، "کسان کو پہلے ہی مشکلات کا سامنا ہے، فصلیں کاشت نہیں ہوں گی تو کہاں جائے گا؟" انہوں نے اپنی جماعت کے موقف کو واضح کرتے ہوئے زور دیا، "پیپلز پارٹی پانی کے مسئلے پر کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔"

ندیم افضل چن نے دوبارہ گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے ملکی سلامتی کے لیے اتحاد کی اہمیت پر زور دیا، "اس وقت سب سے زیادہ ضرورت وفاق اور ریاست کو مضبوط کرنے کی ہے۔" انہوں نے موجودہ حکمرانوں پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، "یہ اپنے آپ کو پنجاب کا وارث کہتے ہیں، آپ وارث نہیں ہیں۔ آپ پنجاب کے وارث نہیں ہو سکتے، خریدار ہیں۔ آپ نے اربوں کی جائیدادیں بیچ ڈالیں، عوام کی سہولیات چھین لیں۔"

ندیم افضل چن نے ن لیگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا، "ن لیگ پنجاب کی جعلی وارث ہے، یہ لوگ ضیا الحق کے وارث تو ہوسکتے ہیں پنجاب کے نہیں، ان لوگوں نے پنجاب کی اربوں کی زمین بیچ دی اور خود کو پنجاب کا وارث کہتے ہیں۔" انہوں نے مزید طنز کرتے ہوئے کہا، "آپ خریدار اور بیچنے والے تو ہو سکتے ہیں پنجاب کے وارث نہیں، پنجاب حکومت بنیادی صحت مراکز کی تزئین و آرائش کر کے نجکاری کر رہی ہے، کینال کی وجہ سے صوبوں کو آپس میں نہ لڑائیں، سرمایہ داروں کے لیے عوام کو آپس میں نہ لڑائیں۔"

اپنی جماعت کے سیاسی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے ندیم افضل چن نے کہا، "ہم حکومت کے اتحادی نہیں سسٹم کے اتحادی ہیں۔" انہوں نے پنجاب حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا، "پنجاب حکومت نے سرکاری اسکولوں کو بیچنا شروع کر دیا ہے، کسانوں کو اربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے، کسان کو 1100 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔"

انہوں نے ملک کی موجودہ صورتحال کو "کرائسز" قرار دیتے ہوئے بجٹ سے قبل کی سیاسی صورتحال کے بارے میں امید ظاہر کی، "پیپلز پارٹی بجٹ سے پہلے حکومت کے حوالے سے ابہام دور ہو جائیں گے۔" انہوں نے سیاسی ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے کہا، "ہم اتحادیوں کے ساتھ سیاسی طور پر چلنا چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں عوام کو تقسیم نہ کریں۔ ہم تہذیب کا دامن نہیں چھوڑیں گے، دیگر سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں۔"

کینالز کے مسئلے پر انہوں نے رابطوں کی جانکاری دیتے ہوئے بتایا، "رانا ثناءاللہ نے سندھ کی بند شاہراہیں کھلوانے کے لیے رابطہ کیا ہے۔" لیکن پانی کے مسئلے کے حل کے حوالے سے انہوں نے وزیرِ اعظم پر شدید تنقید کرتے ہوئے اپنا سخت موقف ظاہر کیا، "میں سمجھتا ہوں کینالز کے ایشو پر وزیرِ اعظم اگر بے بس ہیں تو پھر اقتدار چھوڑ دیں۔"

ندیم افضل نے وزیر اعظم کے عملی اقدامات کی کمی پر تنقید کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا، "وزیرِ اعظم کو ہیلی کاپٹر میں گھومتے ہوئے دیکھتا ہوں، تصاویر بنواتے ہیں۔" انہوں نے عملی حل کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، "وزیراعظم سی سی آئی کا اجلاس بلا کر کینالز کے معاملے کو ٹیک اپ کریں۔"

پریس کانفرنس کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے پانی کے معاملے کو قومی سطح پر اٹھانے اور حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ خصوصی طور پر کسانوں کی مشکلات کو حل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا، جو کہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔

Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry