ندیم افضل چن کا پنجاب میں نہری پانی کے آڈٹ کا مطالبہ، پنجاب حکومت پر کڑی تنقید
نہروں کا مسئلہ درحقیقت پنجاب کے کسانوں کا مسئلہ ہے، جو اس وقت شدید پانی کی قلت کا شکار ہیں۔
لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات ندیم افضل چن نے پنجاب میں نہری پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے آڈٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت وضاحت کرے کہ چولستان کی نہر کو پانی فراہم کرنے کے لیے کن نہروں کا پانی کم کیا جائے گا۔ وہ پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری عثمان ملک کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
اس موقع پر عزیز ملک، آغا سید تقی، ابرار قریشی، ندیم الطاف، جاوید فاروقی اور نذیر بھٹی بھی موجود تھے۔
ندیم افضل چن نے کہا کہ بغیر کسی منصوبہ بندی کے نئی نہر کی تعمیر سے پنجاب کا وسیع زرعی رقبہ متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پنجاب کی تمام نہریں انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے شیڈول کردہ کم پانی پر چل رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نہروں کا مسئلہ درحقیقت پنجاب کے کسانوں کا مسئلہ ہے، جو اس وقت شدید پانی کی قلت کا شکار ہیں۔ "پنجاب کی نہروں میں پانی کا بہاؤ 50 فیصد سے بھی کم ہے، اور میرے علاقے منڈی بہاؤالدین میں تو صرف 40 فیصد بہاؤ ہے۔ ارسا کی اعلان کردہ 40 فیصد قلت سے بھی کم پانی پنجاب کے کسانوں کو فراہم کیا جا رہا ہے،" ندیم افضل چن نے دعویٰ کیا۔
ایک انٹرویو میں ندیم افضل چن نے کہا کہ "پنجاب حکومت جعلی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ہے۔" انہوں نے گندم اسکینڈل پر حکومت سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ "گندم چور حکومت کو جواب دینا ہوگا۔"
ان کا کہنا تھا کہ "سیاسی جماعت کو غیر سیاسی طریقوں سے ختم کرنے سے نقصان نہیں بلکہ فائدہ اسی جماعت کو ہوتا ہے۔" انہوں نے کہا کہ کسان زراعت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، لیکن پنجاب حکومت اس طبقے کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے۔
ندیم افضل چن نے اپنے بیان میں کہا کہ "جو جیل میں ہیں وہ بھی قیدی ہیں، اور جو جیل سے باہر ہیں وہ بھی قیدی ہیں،" اور اس جملے کے ذریعے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کی عکاسی کی۔
No comments yet.