جمعہ ،5 جون 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے کاشتکاروں کے لئے بہترین کسان پیکیج اورگندم پالیسی پر حکومتی ارکان کی جانب سے مریم نواز کو خراج تحسین جبکہ اپوزیشن کی جانب کسان پیکیج کو لالی پپ قراردیا گیا

وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے کاشتکاروں کے لئے بہترین کسان پیکیج اورگندم پالیسی پر حکومتی ارکان کی جانب سے مریم نواز کو خراج تحسین جبکہ اپوزیشن کی جانب کسان پیکیج کو لالی پپ قراردیا گیا

Editor

ایک سال قبل

Voting Line

لاہور(سیاسی رپورٹر)وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے کاشتکاروں کے لئے بہترین کسان پیکیج اورگندم پالیسی پر حکومتی ارکان کی جانب سے مریم نواز کو خراج تحسین جبکہ اپوزیشن کی جانب کسان پیکیج کو لالی پپ قراردیا گیا۔صوبائی وزیر زراعت کا کہنا تھا کہ کسان کارڈ چھوٹے فارمرز کو سپورٹ کرتا ہے، اجلاس میں چھ بل میں متعارف کرائے گئے۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ47 منٹ کی تاخیر سے سپیکر ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا،اجلاس میں محکمہ لیبر اور انسانی وسائل کے حوالے سے سوالوں کے جوابات مےعلقہ پارلیمانی سکرٹری نے دیے۔اجلاس میں رکن اسمبلی کرسٹوفیبلوس نے حافظ اباد میں زہریلی مٹھائی کھانے سے تین بچوں کی ہلاکت کا معاملہ اسمبلی میں اٹھا دیاان کا کہنا تھا کہ سینیٹری ورکر عرفان کو بلدیہ کی جانب سے مٹھائی دی گئی کہ آوارہ کتوں کو کھلادے سینیٹری ورکر کو کوئی آوارہ کتا نہیں ملا تو وہ مٹھائی کا ڈبہ ساتھ لے گیا۔علاقے کے بچوں نے مٹھائی کھا لی جس سے تین بچے جاں بحق ہوگئے دو کی حالت تشویشناک ہے جبکہ تین کی حالت تسلی بخش ہے۔پولیس نے سینیٹر ورکر عرفان کو پکڑ لیا ہے جبکہ اس میں عرفان کا کوئی قصور نہیں ہے۔اسپیکر پنجاب اسمبلی نے پارلیمانی وزیرمیاں مجتبیٰ شجاع الرحمان کو ایک گھنٹے میں تمام معاملے کی انکوائری کی ہدایت کر دی،گذشتہ روزبھی اپوزیشن حسب معمول ایوان میںنعرے بازی کرتے ہوئے داخل ہوئی، اپوذیشن اراکین ںے بانی پی ٹی ائی کی تصاویر اور احتجاجی نعروں والے کتبے اٹھا رکھے ہیں۔ حکومتی رکن امجد علی جاوید نے ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے آٹھ روز سے محکمہ ہیلتھ کے افسران سراپا احتجاج ہے،حکومت کو ان سے بات کرنی چاہیے،جس پر سپیکر ملک محمد احمد خان نے کہا کہ چیف وہپ رانا ارشد کوشش کریں کہ انیس رکنی کابینہ کے علاوہ کوئی اور مل جائے تو ان سے بات کرے ،کرسچئین کمیونٹی نے پنجاب اسمبلی میں گڈ فرائی ڈے اور ایسٹر کے دن چھٹی دینے کا مطالبہ کردیا مطالبہ کرسچئین کمیونٹی کے رہنما کرسٹوفر فیلبوس نے کیا،وزیر پارلیمانی امور میاں مجتبی شجاع الرحمن کا گزٹڈ چھٹیوں کے ساتھ معاملے کو نتھی کر دیااور کہا کہ گزٹڈ چھٹیاں دیکھنے کے بعد ہی کچھ کیا جا سکتا ہے،حکومتی رکن امجد علی جاوید نے ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نہروں کے معاملے پر پنجاب اور سندھ کو مل بیٹھ کر بات کرنی چاہیے جس پر پیپلز پارٹی کی رکن نرگس فیض اعوان نے کہا کہ گذشتہ روز بھی میری قیادت کے حوالے سے گفتگو کی گئی،سندھ نے کہاں پنجاب کا حق مارا ہے،پی پی پی نے پنجاب سے لاشیں اٹھائی ہیں،ہماری قیادت پر کیوں تنقید کی جارہی ہے،جس پر سپیکر نے کہا کہ امجد علی جاوید نے پنجاب کے پانی کے نظام پر بات کی ہے،میں کسی بھی سیاسی جماعت کی قیادت کے خلاف بات نہیں کرنے دیتا،امجد علی جاوید نے جو بات کی ہے وہ ٹھیک ہے، نہروں کے معاملے پر آپس میں مل بیٹھ کر بات کرنی چاہیے،وقفہ سوالات کے بعد پارلیمانی سیکرٹری برائے پارلیمانی امورخالد رانجھا نے ترمیمی آرڈینینس پولیس آرڈر 2025 ایوان میں پیش کردیا گیا جسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا ، اسی طرح مسودہ قانون ترمیم صوبائی موٹر گاڑیاں 2025ئ،مسودہ قانون ترمیم صوبائی موٹر گاڑیاں 2025ء،مسودہ قانون ترمیم ڈرگز 2025ء،مسودہ قانون ترمیم صوبائی موٹر گاڑیاں 2025ء،مسودہ قانون ترمیم سٹامپ 2025ء،مسودہ قانون ترمیم صوبائی ملازمین کا سماجی تحفظ 2025 ءبل بھی ایوان میں پیش کئے گئے مذکورہ تمام بل پارلیمانی سیکرٹری برائے پارلیمانی امورخالد رانجھا نے ایوان میں پیش کئے جنہیں متعلقہ قائمہ کمیٹیز کے سپرد کردیا گیا۔اس دوران سپیکر نے دس منٹ کے لئے اجلاس ملتوی کردیا جب دوبارہ شروع ہوا تو صوبائی وزیر زراعت عاشق کرمانی نے ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسان کارڈ چھوٹے فارمر کو سپورٹ کرتا ہے،کسان کارڈ کے ذریعے 52 ارب روپے کی لاگت سے چھوٹے کاشتکار نے بیج خریدا۔اس کارڈ کے ذریعے کسان ڈیزل اور زرعی ادویات بھی خرید سکتا ہے،جو قاعدہ قانون گندم سے متعلق دوسرے صوبے میں ہے وہی پنجاب میں ہونا چاہیے،قاعدے قانون کے تحت حکومت گندم کی قیمت کا تعین نہیں کرتی۔حکومتی ایم پی اے ملک وحید نے ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب نے کاشکاروں کے لئے بڑا ریلیف دیا ہے،محکمہ فوڈسود کے نیچے دبتا جارہا تھا،محکمہ بھی چل نہیں پارہا تھا،محکمہ خوراک نے پچھلے سال گندم نہیں خریدی حکومت کے پاس بائیس لاکھ میٹرک ٹن گندم موجود تھی،حکومت کے پاس 89 لاکھ میٹرک ٹن گندم موجود ہے،تیرہ لاکھ بہتر ہزار میٹرک ٹن گندم بیچی ہے،حکومت پنجاب گندم نہیں خریدے گی،بائیس کروڑ روپے روزانہ مارک اپ کی مد میں واجب الادا کیئے جارہے تھے،وزیر اعلی پنجاب نے سات سو انیس ارب روپے دے کر صوبے کوسود سے نکالا،محکمہ کا قرضہ تین سو پینتیس ارب سے کم ہوکر چودہ ارب روپے رہ گیا ہے،ساڑھے پانچ لاکھ کاشت کاروں کو پندرہ ارب روپے کے فنڈز کی منظوری دی گئی ہے،ہم کسان کو گندم سٹور کرنے کے لئے کسان کو ریلیف دینے جارہے ہیں،کیا۔سپیکر ملک محمد احمد خان نے کہا کہ فلور ملز مالکان کو گندم رکھنے کے لئے کیا قانون میں کوئی تبدیلی کرنے جارہے ہیں،مریم نواز نے عہد کیا ہے کسی کسان کا نقصان نہیں ہونے دوں گی،ملک وحید کی جانب سے وزیر اعلی پنجاب کی اسٹیٹمنٹ ہو بہو پڑھنے پر ایوان میں قہقے، ملک وحید کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے اس ملک میں قانون کی دھجیاں بکھیریں،نو مئی کا واقعہ انھوں نے کیاسپیکر کا کہنا تھا کہ تمام معزز اراکین سے درخواست ہے پلیز خیال کرے،تین سو پچاس ارب کا سالانہ خسارہ ہے اور کسان کا اضطراب بے تحاشا ہے،کسان آج آپ کے ایوان کی طرف دیکھ رہے ہیں،کسان کی گندم کی قیمت بائیس سو روپے بات ہورہی ہے، وفاقی اور صوبائی ادارے جو خسارے میں میں ہیں ان کو حکومت رول بیک کرے گی، ذوالفقار علی شاہ نے ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فوڈ سیکورٹی ہر ملک کی اولین ترجیح ہوتی ہے،سمجھ نہیں آرہی کہ ہنسیں یا روئیں۔گندم کو سٹور نہیں کر سکتے۔اس کو سٹور کرنا شرعی طور پر حرام ہے۔حکومت خدا کا خوف کرے کسان منافع کے لیے جنس سٹور نہیں کرسکتا۔سود سے جان چھڑائیں جو حرام ہے یہ اللہ کے ساتھ جنگ ہے۔کسان گندم سٹور نہیں کر سکتا حکومتیں سٹور کرتی ہیں۔وہ بھی صرف اس لیے کہ ضرورت کے وقت کام ائے،کسان کی صرف دو ڈیمانڈ ہیں۔ایک فصل کاشت کرنے کے اخراجات پورے ہوں دوسرا اچھے سے گندم فروخت ہو جائے۔اپوزیشن رکن وقاص مان نے ایوان میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے پچھلے سال بھی ایک دانہ بھی گندم نے نہیں خریدا اور پرائس طے نہیں کی،فری ٹریڈ پالیسی سے کسان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔فائدہ۔مڈل مین اٹھائےگا ،حکومت کو چاہیے کوئی پرائس دے۔چاہے وہ پینتیس سو ہو بائیس سو ہو۔اگر کسان کو فائدہ نہ دیا گیا تو ائندہ سالوں میں دیہی ابادی شہروں کا رخ کرے گی۔ حکومتی رکن مہر کاشف نے ایوان میں گفتکوکرتے ہوئے کہا کہ گندم پالیسی کو بغیر پڑھے سمجھے تنقید کا نشانہ بنانا بالکل غلط ہے۔چھوٹے کسان کے پاس گندم رکھنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی اس لیے وہ فوری طور پرآڑھتیوں کو اپنی فصل بیچ دیتے ہیں جس کی وجہ سے مڈل مین فائدہ اٹھا جاتا ہے۔کسان کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا تھا،حکومت نے چھوٹے کسان کے لیے کسان کو ستر فیصد رقم کی ادائیگی کا پلان کیا ہے اور ساتھ ہی گندم سٹور کرنے کی جگہ بھی فراہم کر رہے ہیں جو بالکل فری ہے۔کسان کو اس کا فائدہ ہوگا۔جب ریٹ اچھا ہوگا کسان تب بیچے گا گندم۔حکومتی رکن احسن رضا خان نے ایوان میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ بطور حکومتی رکن حکومت کی گندم پالیسی سے اتفاق نہیں کرتا۔کسان کارڈ کے لیے چودہ لاکھ کسانوں کی درخواستیں آئیں لیکن صرف چھ لاکھ کو ملا باقی کسانوں کا کیا ملا؟گرین ٹریکٹر جن کسانوں کو نہیں ملا ان کے لیے کیا کیا۔ایلیٹ کلاس صرف ایک پیزا تین ہزار کا کھاتی ہے کسان جو بائیس سو روپے من گندم لینا کہاں کا انصاف ہے،ائی ایم ایف کا بوجھ کسان پر نہ ڈالیں،چھوٹا کسان ایک گھنٹے کے لیے گندم سٹور نہیں کر سکتا اور اپ چار مہینے کا ٹائم دے رہے ہیں۔سٹور کی جگہ دینے کا فارمولا کامیاب نہیں ہوگا،اپ نے نقل و حمل کی صوبے کی سطح پر پابندی اٹھائی ہے اپ یہ پابندی ملکی سطح پر اٹھائیں۔کیا ہماری گندم ملک سے باہر نہیں جا سکتی؟کسان خوشحال ہوگا تو پنجاب خوشحام ہوگا تو پاکستان خوشحال ہوگا۔حکومت کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ حکومتی ارکن احسن رضا خان کی جانب سے گندم پر حکومتی پالیسی سے اتفاق نہ کرنے پر اپوزیشن بنچوں سے ڈیسک بجا کر خراج تحسین پیش کیا۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry