پیپلز پارٹی کے رہنما حسن مرتضیٰ نے نہروں کے بحران پر تشویش کا اظہار کیا، مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کی
پیپلز پارٹی کے رہنما حسن مرتضیٰ نے نہروں کے بحران پر تشویش کا اظہار کیا، مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کی
پیپلز پارٹی کے رہنما حسن مرتضیٰ نے نہروں کے بحران پر تشویش کا اظہار کیا، مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا
**لاہور (نامہ نگار):** پیپلز پارٹی پنجاب کے مرکزی سیکرٹری جنرل سید حسن مرتضیٰ نے نہروں کے مسئلے کو لے کر سنگین تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ دن بہ دن گمبھیر ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کہیں یہ نہریں بھی کالا باغ ڈیم کی طرح متنازعہ نہ بن جائیں۔**
**پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے زور دے کر کہا کہ پانی کی تقسیم کے موجودہ معاہدے پر سختی سے عملدرآمد ہونا چاہیے۔ انہوں نے بعض حلقوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مسئلے کو صرف سندھ تک محدود کر کے نظرانداز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ یہ پورے ملک کا ایشو ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ "6 نہروں میں پانی کہاں سے آئے گا، جبکہ پہلے ہی 20 فیصد کمی کا سامنا ہے اور 14 فیصد پانی بخارات بن کر اڑ رہا ہے؟"**
**انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر فوری توجہ نہ دی گئی تو کوئی بڑا المیہ رونما ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلائے بغیر اس مسئلے کا حل ممکن نہیں۔"**
**صدر مملکت کے دفاع میں بولتے ہوئے حسن مرتضیٰ نے کہا کہ "صدر آصف علی زرداری نے کبھی بھی قومی مفادات کے خلاف کام نہیں کیا۔" انہوں نے بعض لوگوں پر الزام لگایا کہ وہ پروپیگنڈے کے ذریعے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔**
**کسانوں کے مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "کاشتکاروں کو ان کا حق دیا جائے، کیونکہ پانی کا نظام اللہ کی رحمت ہے، نہ کہ کسی حکمران کی بخشش۔" انہوں نے کسانوں پر ٹیکس کے بوجھ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "کسان مر رہا ہے، مگر حکومت کوئی عملی اقدام نہیں کر رہی۔"**
**بجلی کے نرخوں پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "حکومت نے بجلی کی قیمت 70 روپے بڑھائی اور صرف 7 روپے 41 پیسے کم کیے ہیں۔ کیا حکمرانوں کے بیرونی دورے کسانوں کے مسائل سے زیادہ اہم ہیں؟"**
**انہوں نے واضح کیا کہ "پیپلز پارٹی کبھی بھی نہری مسئلے پر سخت اقدامات اٹھا سکتی ہے، لیکن ہم مشاورت اور مکالمے پر یقین رکھتے ہیں۔" ان کا کہنا تھا کہ "پیپلز پارٹی نے کبھی صوبائی تعصب کو ہوا نہیں دی، بلکہ ہم پاکستان کی وحدت کی علامت ہیں۔ اگر ہم صرف اقتدار کے مزے لینے کے خواہش مند ہوتے تو وزارتی عہدے حاصل کر لیتے، لیکن ہم تو وفاق کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔"**
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور ان کی ٹیم کے رہنماؤں ہمایوں خان، ندیم افضل چن اور آمنہ پراچہ کو مبارکباد دیتے ہوئے حسن مرتضیٰ نے کہا کہ ملک کے پسے ہوئے طبقات، رول آف لاء اور آئین کے لیے اپنا بہترین کردار ادا کریں۔ انہوں نے ق لیگ کے نئے منتخب صدر چودھری شجاعت حسین اور ان کی ٹیم کو بھی مبارکباد پیش کی۔
**پریس کانفرنس میں پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں میاں مصباح الرحمن، عائشہ نواز چوہدری، راو بابر جمیل، رانا عبدالعزیز، ذیشان شامی، آغا تقی، میاں عتیق الرحمن اور حسن اشرف بھٹی بھی موجود تھے۔**
Good effort