جمعہ ،5 جون 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

تاج حیدر: ایک نظریاتی سیاستدان، دانشور اور سچے کامریڈ کی یاد میں

تاج حیدر: ایک نظریاتی سیاستدان، دانشور اور سچے کامریڈ کی یاد میں

Tahir Rao

ایک سال قبل

Voting Line

تاج حیدر: ایک نظریاتی سیاستدان، دانشور اور سچے کامریڈ کی یاد میں- 

طاہر راؤ، جنرل سیکرٹری پاکستان پیپلز پارٹی، کینیڈا

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما، دانشور، اور سچے کامریڈ تاج حیدر کی وفات کی خبر نے پارٹی کے نظریاتی کارکنوں کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ تاج حیدر نہ صرف ایک علمی شخصیت تھے بلکہ ایک حساس دل رکھنے والے انسان بھی تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی پیپلز پارٹی کے لیے وقف کر دی۔

سیاسی سفر اور نظریاتی وابستگی

تاج حیدر نے 1967 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اراکین میں شامل ہو کر سیاست کا آغاز کیا۔ ان کی سیاست کا محور ہمیشہ نظریاتی اصولوں پر مبنی رہا۔ انہوں نے پارٹی کے مختلف عہدوں پر خدمات انجام دیں، جن میں سینیٹر اور سیکرٹری جنرل کے عہدے شامل ہیں۔ دسمبر 2023 میں انہیں پارٹی کا سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا۔

سادگی اور انکساری

تاج حیدر کی زندگی سادگی اور انکساری کا عملی نمونہ تھی۔ 2006 میں کراچی میں ان سے پہلی ملاقات کے دوران، ان کے چھوٹے سے فلیٹ میں داخل ہو کر اندازہ ہوا کہ وہ کس قدر سادہ زندگی گزار رہے تھے۔ ان کا لاونج اور میز کتابوں سے بھرا ہوا تھا۔ انہوں نے ہمیشہ شائستگی سے اپنے موقف کو پیش کیا اور پارٹی پالیسیوں کا دفاع کیا۔

 ایک یادگار ملاقات کی تفصیل

2006 کا سال تھا، جب میں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما، سینیٹر تاج حیدر سے ملاقات کا ارادہ کیا۔ اس وقت وہ سینیٹر کے عہدے پر فائز رہ چکے تھے، لیکن پارٹی نے انہیں دوبارہ ٹکٹ نہیں دیا تھا۔ میں نے ان سے فون پر رابطہ کیا اور ملاقات کی درخواست کی۔ حیرت انگیز طور پر، انہوں نے بغیر کسی تردد کے فوراً وقت دے دیا۔

ملاقات کے دن، میں ان کے دیے گئے پتے پر پہنچا۔ میرے ذہن میں یہ تصور تھا کہ ایک سینئر سیاستدان کا بڑا سا گھر ہوگا، جہاں چوکیدار دروازہ کھولے گا اور ملازم ڈرائنگ روم میں بٹھائے گا۔ لیکن جب میں وہاں پہنچا تو ایک سادہ سے فلیٹ کے سامنے کھڑا پایا۔ دروازے پر دستک دی تو خود تاج حیدر صاحب نے دروازہ کھولا۔ ان کی سادگی اور انکساری نے مجھے بے حد متاثر کیا۔

انہوں نے مجھے لاؤنج میں بٹھایا، جو کتابوں سے بھرا ہوا تھا۔ ہر طرف کتابیں ہی کتابیں تھیں، جو ان کی علمی شخصیت کی عکاسی کر رہی تھیں۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے پوچھا کہ میں ان سے کیوں ملنا چاہتا ہوں۔ میں نے جواب دیا کہ میں پیپلز پارٹی کا ایک عام کارکن ہوں اور صرف ان سے ملنے کی خواہش رکھتا تھا، کوئی خاص مقصد نہیں تھا۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھے تھے کہ رائے طاہر ملنے آ رہے ہیں۔ جب میں نے پوچھا کہ وہ کون ہیں تو بتایا کہ رائے طاہر پولیس میں ایس پی ہیں اور انہوں نے مرتضیٰ بھٹو پر گولی چلائی تھی، اس لیے وہ حیران تھے کہ وہ کیوں ملنا چاہتے ہیں۔

اس ملاقات میں، میں نے پارٹی کی پالیسیوں پر کھل کر سوالات کیے اور بعض پہلوؤں پر تنقید بھی کی۔ لیکن تاج حیدر صاحب نے نہایت تحمل اور بردباری سے میرے تمام سوالات کے جوابات دیے اور پارٹی کی پالیسیوں کی وضاحت کی۔ میں نے ذکر کیا کہ پارٹی نے ان کی جگہ کسی نئے آنے والے کو سینیٹ کا ٹکٹ دیا تھا، جو بعد میں ہار گئے۔ اس پر وہ مسکراتے ہوئے بولے، “دیکھا، پھر وہ شخص ہار بھی تو گیا؟ پارٹی ممبران نے خفیہ بیلٹ میں اسے ووٹ نہیں دیا اور قیادت کو پیغام مل گیا کہ اگر ٹکٹ صحیح آدمی کو نہیں ملے گا تو پارٹی میں ردعمل آئے گا۔” ان کی باتوں سے ظاہر ہوا کہ ان کے دل میں پارٹی یا قیادت کے بارے میں کوئی ملال نہیں تھا۔

یہ ملاقات میرے لیے نہایت یادگار رہی۔ تاج حیدر صاحب کی سادگی، علم دوستی، اور پارٹی سے غیر متزلزل وابستگی نے مجھ پر گہرا اثر چھوڑا۔ ان کی شخصیت واقعی ایک سچے کامریڈ کی تھی، جو نظریات پر قائم رہتے ہوئے ہر چیلنج کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتے تھے۔

علمی خدمات اور کارکنوں سے رابطہ

کرونا کے دنوں میں، جب میں پیپلز پارٹی کینیڈا کا جنرل سیکرٹری تھا، ہم نے زوم میٹنگز کا آغاز کیا۔ میں نے تاج حیدر صاحب سے رابطہ کیا اور انہیں لیکچر کے لیے دعوت دی، جو انہوں نے خوش دلی سے قبول کی۔ پاکستان کے وقت کے مطابق رات گیارہ بجے شروع ہونے والی اس کانفرنس میں انہوں نے پارٹی کی تاریخ، سیاسی حکمت عملی، اور پالیسیوں پر روشنی ڈالی اور شرکاء کے تمام سوالات کے جوابات دیے۔

آخری ملاقات

میری ان سے آخری ملاقات اکتوبر 2023 میں اسلام آباد میں ان کے دفتر میں ہوئی۔ ان کا دفتر فائلوں سے بھرا ہوا تھا، اور وہ ایگزیکٹو ٹیبل کی بجائے ورکنگ ڈیسک پر بیٹھے کام کر رہے تھے۔ اس دن انہیں کراچی جانا تھا، اس لیے سارے کام نمٹانا چاہ رہے تھے۔ ان کی محنت اور لگن دیکھ کر اندازہ ہوا کہ وہ واقعی ایک نظریاتی کارکن تھے۔

یادگار شخصیت

تاج حیدر کی وفات پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ ان کا خلا شاید بہت دنوں تک پورا نہ ہو سکے۔ ان کی یادیں اور خدمات ہمیشہ پارٹی کے کارکنوں کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔

اللہ تعالیٰ انہیں جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔

Comments
Dr khalid sohail ایک سال قبل

Wonderful introduction of a wonderful political leader by a wonderful writer

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry