پنجاب میں پیپلز پارٹی کی کامیابی کا رستہ این اے 127 سے نکلے گا
پیپلز وائس میں شائع ہونے والے جنید قیصر کے ایک آرٹیکل میں مصنف نے لکھا ہے کہ اگر پاکستان پیپلز پارٹی نے خود کو پنجاب میں مضبوط کرنا ہے تو اسے اپنے سفر کا آغاز این اے 127 سے کرنا ہوگا۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کبھی پنجاب بھر میں اپنے مضبوط سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے پہچانی جاتی تھی، پنجاب پیپلز پارٹی کا مضبوط قلعہ تھا، لیکن اب وہ صوبے کے مرکزی اضلاع میں اپنی کھوئی ہوئی حیثیت بحال کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ پنجاب ہمیشہ سے پی پی پی کی سیاسی طاقت کی بنیاد رہا ہے—یہ وہ صوبہ تھا جہاں پارٹی کے ترقی پسند فکر اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے نظریات عوام میں گہری پزیرائی رکھتے تھے۔ جب شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 1967 میں لاہور میں پارٹی کی بنیاد رکھی، تو انہوں نے معاشی ناانصافیوں اور سماجی عدم مساوات کے خلاف ایک تحریک کا آغاز کیا جو پاکستانی معاشرے کی گہری جڑوں تک پہنچتی تھی۔ پارٹی کا نعرہ مزدوروں محنت کشوں اور خاص طور پر پنجاب کے کسانوں کو متحرک کرنے میں کامیاب رہا، جو پی پی پی کے عوامی طبقے سے گہرے تعلق کی واضح علامت تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ، پی پی پی کا پنجاب میں اثر کم ہوتا گیا، جس کے بعد پارٹی قیادت کو اسے دوبارہ مضبوط بنانے کے لیے منظم کوششیں کرنی پڑرہی ہیں۔ حال ہی میں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے لاہور دورے میں نوجوانوں سے ملاقاتیں اسی تناظر میں ہیں، یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ پارٹی کو نئی نسل سے جڑنا ہوگا۔ انہوں نے پاکستان اسٹوڈنٹس فیڈریشن (پی ایس ایف) اور پیپلز یوتھ آرگنائزیشن (پی وائی او) کی تنظیم نو پر زور دیا، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ پارٹی کو نئی توانائی اور جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے بنیادی اصلاحات کی طرف بڑھا جارہا ہے۔ یہ نوجوانوں کے ساتھ تعلق اور اندرونی تنظیم نو پر توجہ اس بات کی عکاسی ہے کہ پارٹی قیادت کو احساس ہو رہا ہے کہ پاکستان کے بدلتے سیاسی ماحول کے ساتھ ساتھ نئی حکمت عملی ہی ان کی سیاسی بحالی کا راستہ ہے۔
لاہور، جو پنجاب کا دارالحکومت ہے، پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ یہ شہر "پاکستان کا دل" کہلاتا ہے، کیونکہ یہاں سے ہی وہ تحریکیں جنم لیتی ہیں جو ملک کی سمت بدل دیتی ہیں۔ 1940 میں لاہور میں ہی تاریخی قراردادِ لاہور منظور ہوئی تھی، جس نے پاکستان کے قیام کی بنیاد رکھی۔ لاہور کی بڑی آبادی، صنعتی و تعلیمی مرکز ہونے کی حیثیت اور معاشی سرگرمیوں کے باعث اس کا سیاسی وزن اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ پی پی پی کا صوبائی سیکرٹیریٹ لاہور میں ہونے کی وجہ سے بھی یہ شہر پارٹی کے لیے انتظامی لحاظ سے انتہائی اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور میں مضبوط تنظیمی موجودگی پی پی پی کے لیے صوبائی اور قومی سطح پر اثر بڑھانے کے لیے ناگزیر ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بات مشہور ہے کہ جو پارٹی لاہور سے جیتے گی، وہ عموماً وفاق میں بھی حکومت بنائے گی—یہ لاہور کی سیاسی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا 2024 کے انتخابات میں این اے-127 سے حصہ لینے کا فیصلہ پارٹی کارکنوں کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوا تھا، اس سے لاہور میں پارٹی ورکرز میں نئی امید پیدا ہوئی تھی۔ اس حلقے میں تقریباً 70,000 رجسٹرڈ مسیحی ووٹرز تھے، جبکہ اسلم گل نے پچھلے ضمنی انتخابات میں 33,000 ووٹ حاصل کیے تھے، جو اس حلقے میں پی پی پی کے لیے امید کی کرن تھے۔ لیکن ناقص منصوبہ بندی، نااہلی، حکمت عملی کی غلطیاں، اور اندرونی اختلافات کی وجہ سے ممکنہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔
ایک حالیہ پارٹی تقریب میں، پی پی پی کے سینٹرل پنجاب کے فنانس سیکرٹری رانا جواد نے این اے-127 کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کو فوری طور پر پبلک کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جن افراد کی نااہلی یا غلط حکمت عملی کی وجہ سے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کو شکست ہوئی، انہیں جوابدہ ٹھہرایا جائے، ان کا احتساب ہو۔ یہ مطالبہ محض شفافیت کا نعرہ نہیں، بلکہ پارٹی کے اندر ایک بڑھتی ہوئی اس احساس کی عکاسی ہے کہ احتساب اور خود احتسابی کے بغیر پی پی پی اپنا کھویا ہوا مقام واپس نہیں حاصل کر سکتی۔ اگر پارٹی قیادت اس رپورٹ کو پبلک کرتی ہے، تو یہ ایک ایسی مثال قائم ہوگی جو پارٹی میں شفافیت کو فروغ دے گی اور کامیابیوں اور ناکامیوں کے جائزے کا نیا معیار بنے گی۔
پی پی پی کے پنجاب میں کمزور ہونے کی وجوہات میں شہید بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد صوبے سے توجہ ہٹنا، سیاسی حریفوں کا مضبوط ہونا، اور تنظیمی کمزوریاں شامل ہیں۔ انتخابات میں بیرونی گروپوں پر انحصار اور اپنے نظریاتی بنیادوں کو مضبوط نہ کرنا بھی اہم وجوہات رہی ہیں۔
این اے-127 اور پنجاب میں اپنی حیثیت بحال کرنے کے لیے پی پی پی کو ایک جامع اصلاحی ایجنڈا اپنانا ہوگا:
- پنجاب پر نئی توجہ: وسائل اور قیادت کی توجہ این اے-127 جیسے اہم حلقوں پر مرکوز کی جائے۔
- پارٹی کی تنظیم نو: اندرونی کمزوریوں کو دور کرکے مقامی قیادت کو بااختیار بنایا جائے۔
- واضح پالیسی ایجنڈا: مقامی مسائل جیسے صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر کے ساتھ قومی سطح پر پی پی پی کے نظریات کو جوڑا جائے۔
- کارکنوں کو بااختیار بنانا: تربیت، مائیکرو فنانس اور تعلیمی مواقع فراہم کرکے ان کی صلاحیتوں کو بڑھایا جائے۔
- اختیارات کی غیرمرکزیت: مقامی قیادت کو زیادہ اختیارات دے کر شمولیت اور احتساب کو یقینی بنایا جائے۔
- اندرونی ونگز کو مضبوط بنانا: نوجوانوں، خواتین اور اقلیتوں کے ونگز کو فعال کرکے ووٹرز تک رسائی بڑھائی جائے۔
- نوجوانوں کے ساتھ بہتر تعلق: این اے-127 میں یوتھ سنٹرز قائم کرکے سیاسی بحثوں اور کمیونٹی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے۔
- سماجی پروگراموں کی توسیع: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسی اسکیموں کو این اے-127 میں مؤثر طریقے سے نافذ کیا جائے۔
- میڈیا اور کمیونیکشن کی بہتر حکمت عملی: سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوان ووٹرز تک پیغامات پہنچائے جائیں۔
- مقامی کمیونٹی کے ساتھ مسلسل رابطہ: عوامی میٹنگز اور ٹاؤن ہالز کے ذریعے عوامی مسائل کو سنا جائے اور ان کا حل نکالا جائے۔
پی پی پی ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ این اے-127 میں کامیابی اور پنجاب میں اپنی حیثیت بحال کرنے کے لیے پارٹی کو اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرنا ہوگا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا اس حلقے سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ ایک اہم قدم تھا۔ اب اگر پی پی پی مقامی رابطے، تنظیم نو اور واضح پالیسیوں پر کام کرے، تو وہ لاہور اور پنجاب میں ایک بار پھر اپنی طاقت بحال کر سکتی ہے۔
آگے کا راستہ مشکل ضروری ہے، لیکن اگر پارٹی جڑوں کو نئے خون سے مضبوط کیا جائے، احتساب کے معیارات ہوں اور اصلاحات جدید تقاضوں کے مطابق کی جائیں تو ان کے ذریعے پی پی پی ایک بار پھر لاہور—پاکستان کے دل—کی دھڑکن بن سکتی ہے۔
اس آرٹیکل کو انگریزی میں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں
No comments yet.