جمعہ ،5 جون 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

بیگم نصرت بھٹو

بیگم نصرت بھٹو مضبوط اعصاب کی مالک تھیں ۔ جنہوں نے ایوب آمریت کے بعد ضیاء آمریت کے ظلم و ستم کا مقابلہ کیا ۔

Editor

ایک سال قبل

Voting Line

 

تحریر و تحقیق : محمد ضرار یوسف

ھر ماں اپنے بچوں کے لئے دستیاب وسائل ھمت اور حوصلے سے قربانیاں دیتی ھیں ۔ لیکن کچھ مائیں صرف اپنے بچوں کے لئے ھی نہیں اپنی پوری قوم کے لئے پوری دنیا اور فسطائی قوتوں سے لڑ جاتی ھیں ۔ ان بے مثال لاجواب خصوصیات کی حامل ماؤں میں سے ایک ماں محترمہ بیگم نصرت بھٹو بھی ھیں ۔ 

بیگم نصرت بھٹو کاروباری مالدار گھرانے کی سلیقہ شعار خوبصورت و خوب سیرت بیٹی تھیں ۔ لیکن انہوں کا رویہ غریب نادار کارکنوں کے ساتھ ایسا تھا کہ ھر کارکن ایک ماں کی محبت کی اچھوتی گرمی اور اخلاص کو محسوس کر سکتا تھا ۔
ان کی شخصیت کا جائزہ لیا جائے تو انہوں نے صرف ایک ماں کا کردار ھی نہیں ادا کیا ۔ انہوں نے ایک سنجیدہ سیاسی راھنماء کی حثیت سے اپنے شوھر ذوالفقار علی بھٹو کے ھمراہ 1967 میں پاکستان پیپلز کی بنیاد رکھنے کے بعد گلی گلی محلہ عوامی رابطہ مہم شروع کی ۔  پاکستان پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کی سربراہ کی حثیت سے اپنی ذمہ داریوں کو بااحسن ادا کیا ۔ 

بیگم نصرت بھٹو مضبوط اعصاب کی مالک تھیں ۔ جنہوں نے ایوب آمریت کے بعد ضیاء آمریت کے ظلم و ستم کا مقابلہ کیا ۔
انہوں نے ایک مخلص جانثار بیوی ۔ ایک سیاسی قائد ۔ اور عظیم قائد اور شوھر کے عدالتی قتل کے بعد اس جدوجہد کی سپاہ سالاری کے فرائض اپنے ھاتھ میں لے کر قوم کے حقوق کی خاطر خود میدان عمل میں اتریں  اور انہوں نے ایک مجاھدہ کی طرح ضیاء آمریت کا مقابلہ کیا ۔ 

محترمہ بے نظیر بھٹو ابھی صرف 24 سال کی تھیں جب قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو کی عوامی حکومت کو غیر ملکی سازش کے آلہ کار جنرل ضیاع نے بغاوت کرکے ختم کیا ۔ اور بھٹو صاحب بیگم بھٹو صاحبہ کو نام نہاد حفاظتی تحویل میں مری میں نظر بند کر  دیا گیا ۔ اور کچھ دنوں بعد بیگم نصرت بھٹو کی رھائی ھوئی ۔ رھائی کے بعد خاتون اول کی حثیت سے عوام کے ساتھ مربوط رابطے رکھنے والی عظیم بہادر راھنماء نے کسی بھی خوف یا دباؤ میں مبتلا ھونے کی بجائے عوامی رابطوں کی سرگرمیاں شروع کر دیں ۔ اور عوامی رابطوں سے بزدل ڈکٹیٹر ضیاء خوفزدہ ھوگیا ۔ بیگم بھٹو صاحبہ نے ذوالفقار علی بھٹو کی عدم موجودگی اور شہادت کے بعد قیادت کا خلاء پیدا نہیں ھونے دیا ۔ پیپلز پارٹی کو قائم رکھنے اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی تربیت کرکے قیادت ان کے حوالے کرنے میں اھم لازوال کردار ادا ۔  

ایوب و یحیی خان آمریت میں اپنے شوھر کے کندھے سے کندھا ملا کر جدوجہد کرنے والی نصرت بھٹو اب کے بار جنرل ضیاء یزید وقت کے خلاف تن و تنہاء مقابلہ کرنے نکل پڑیں ۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں اھم عہدوں سے لطف اندوز ھونے والے کئی اھم عہدیدار ضیاء یزید کے قدموں میں بیٹھ چکے تھے اور میر جعفر کا کردار ادا کرنے اور پیپلز پارٹی کو ضیاء آمریت کے طابع کرنے کی کوشش میں مصروف ھو چکے تھے ۔ 

قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو کا جیل میں بند ھونا اور پارٹی میں غداروں کا سانپ کی طرح سر اٹھائے پھن پھیلائے کھڑے ھونا بھی بیگم صاحبہ کی راہ میں رکاوٹ پیدا نہ کر سکا ۔ بیگم صاحبہ نے اپنے حوصلے جرآت مندی سے تمام مصائب کا مقابلہ کیا انہوں نے خود کو حضرت زینب کی سچی عملی پیروکار ثابت کیا ۔ 

قائدعوام جناب ذوالفقار علی بھٹو کو 4۔اپریل 1979 کو شہید کر دیا اور ان کی شہادت کے بعد بیگم نصرت بھٹو پہ ضیاء آمریت نے مزید اپنا دباؤ بڑھا دیا ۔ 

ضیاء نے  18۔ اکتوبر 1977 کو ھونے والے انتخابات  30۔ستمبر 1977 کو ملتوی کرنے کے بعد ایک دفعہ پھر مورخہ 16۔ اکتوبر 1979 کو اعلان کردہ انتخابات ملتوی کر دیے ۔ ضیاء نے عام انتخابات کی بجائے ستمر 1979 میں بلدیاتی انتخابات کا اعلان کیا ۔ جس میں پیپلز پارٹی نے اپنے امیدواروں کو عوام دوست امیدوار کی حثیت سے ان انتخابات کے میدان میں اتارا ۔ اب پیپلز پارٹی کا نیوکلیس ذوالفقار علی بھٹو شہید ھو چکے تھے ۔ بیگم صاحبہ سیاست کے میدان میں سر گرم تھیں ۔ آمریت کے طاقتور بدمست ھاتھیوں کا خیال تھا کہ پیپلز پارٹی اب زوال پذیر ھو جائے گی ۔ لیکن عوام دوست امیدواروں کی اکثریت پورے پاکستان میں کامیاب ھوئی ۔ لیکن یہ الگ معاملہ ھے کہ کامیاب عوام دوست کونسلروں میں سے کئی مارشل لاء کے دباؤ اور لالچ کی تاب نہ لا سکے اور انہوں نے ان کی تابعداری کا طوق پہن لیا ۔ یہاں بھی ضیاء ناکام و نامراد ھوا ۔ اس کی نظر میں ایک نہتی عظیم خاتون لیڈر اس کے لئے سب سے بڑی خطرہ تھیں ۔

بیگم نصرت بھٹو نے خود کو ہمیشہ سیاسی جنگجو ثابت کیا ۔  انہوں نے آمریت کے خلاف سڑکوں پر عوام کے حقوق و استحکام کیلئے جنگ لڑی۔ وہ عدالتوں میں اپنے حقوق کے لئے لڑیں ۔ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ضیاء آمریت کے بنائے گئے جھوٹے بے بنیاد مقدمات کے خلاف عدالتوں میں قانونی جنگ لڑتی رھیں ۔ 

ضیاء نے دباؤ بڑھانے اذیت دینے کا ذریعہ اب بھٹو صاحب کی اولاد کو بنایا گیا اور یقینن یہ ماں کو تکلیف دینے اور  ان کو ذھنی طور پر ریزہ ریزہ کرنے میں کسی ماں کو پسپا کرنے میں یہ ترکیب خاصی کارآمد ھو سکتی تھی ۔ مگر یہاں پہ بیگم نصرت بھٹو تھیں ۔ اور ان کے سامنے بزدل بندوقوں والے جرنیل جنہوں نے دشمن کے سامنے اپنی پتلونیں اتار دی تھیں جو دشمن کی بجائے اپنی قوم کو بار بار فتح کرنے کی ایک شرمناک تاریخ رکھتے ھیں ۔ 

بیگم صاحبہ کو صرف ذھنی اذیت میں ھی نہیں مبتلا رکھا گیا ۔ بلکہ ان پہ جسمانی تشدد بھی کیا گیا ۔ جس کی وجہ سے وہ دھیرئے دھیرئے الزائمر کی شکار ھو گئیں ۔ 
ضیائی مارشل لاء نے بھٹو صاحب کے عدالتی قتل پر ھی اکتفا نہیں کیا ۔ بلکہ بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی مسلسل نظربندی کے احکامات دیئے گئے ان کی طویل نظربندی کے دوران پھیپھڑوں کا کینسر تشخیص ھوا ۔ لیکن حکومت نے کسی قسم کی مدد کرنے سے انکار کر دیا ۔ جس پر اقوام عالم نے ضیاء حکومت پر علاج معالجے کے لئے دباؤ ڈالا تو 22۔ نومبر 1982 کو علاج کے لئے جرمنی روانہ ھوگئیں ۔  

18۔ جولائی 1985 کو ان کے سب سے چھوٹے بیٹے شاھنواز بھٹو کو کرائے کے قاتلوں کے ذریعے قتل کروایا ۔ اور ضیاء باقیات نے ایک اور کاری ضرب محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کی سازش کے ایک حصے طور پر مرتضی بھٹو کو 20۔ ستمبر 1996 کو جعلی پولیس مقابلے میں شہید کر کے لگائی ۔ بیگم بھٹو مسلسل اذیت , دکھوں اور مصائب کو برداشت کرتے کرتے تھک گئیں اور الزائمر کی بیماری ان پر اس قدر حاوی ھوگئی کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بارے مں ان کو کچھ معلوم نہ تھا ۔ 
بیگم نصرت بھٹو صاحبہ 23 اکتوبر 2011 کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں ۔ صدر آصف علی زرداری ان کی تدفین کے سلسلے میں نوڈیرو میں مصروف تھے ۔ قائم مقام صدر چیئرمین سینٹ فاروق ایچ نائیک نے بیگم نصرت بھٹو کی جمہوریت کے لئے گراں قدر خدمات پر پاکستان کا سب سے بڑا سول ایوارڈ " نشان امتیاز " دینے کا اعلان کیا ۔ 
عام طور پر ایسے اعلانات 23۔مارچ کو کیے جاتے ھیں ۔ لیکن یہ اعلان 24۔ اکتوبر 2011 کو کیا گیا۔ 

بیگم نصرت بھٹو نے ھمیشہ کارکنان کے ذاتی مسائل کے حل کے لئے ذاتی دلچسپی لی ۔ کارکنوں کو ھمیشہ یقین ھوتا کہ ھماری ماں ھمیں کبھی مایوس نہیں کرے گی ۔ 

بیگم صاحبہ کارکنوں کے ساتھ رابطہ رکھنے میں کسی کو رکاوٹ نہیں بننے دیا ۔ ایک دفعہ بیگم نصرت بھٹو لاھور تشریف لائیں اور حسب معمول بیگم نادرہ خاکوانی کے گھر ٹھہریں ۔ انہوں نے پنجاب کے ایک لیڈر سے میرے گھر جانے کا ارادہ ظاھر کیا ۔ تو انہوں نے کہا کہ مجھے ڈاکٹر ضرار کے گھر کا معلوم نہیں ۔ جس پر بیگم صاحبہ نے کہا کہ گرین ٹاؤن چلو میں خود معلوم کر لوں گی ۔ بیگم صاحبہ نے گرین ٹاؤن مین مارکیٹ میں اپنی گاڑی رکوائی تو عوام کی کثیر تعداد ان کی گاڑی کے اردگرد اکٹھی ھو گئی ۔ بیگم صاحبہ نے بلند آواز سے پوچھا " آپ میں سے کسی کو ڈاکٹر ضرار کے گھر کا پتہ ھے " تو کئی کارکنان نے کہا کہ ھمیں معلوم ھے ۔ اور پھر بیگم صاحبہ میرے گھر تشریف لائیں ۔ 

آج بیگم نصرت بھٹو صاحبہ کی بانویں سالگرہ پہ صرف مبارکباد پہ اکتفاء نہیں کرنا چاھئے ۔ آج ان کے نقش قدم پہ چلتے ھوئے عوامی رابطہ مہم کو مضبوط و مربوط کرنے کی اھم ضرورت ھے ۔ پیپلز پارٹی آج پھر 1967 والی جدوجہد کا تقاضہ کر رھی ھے ۔ اگر قیادت سمجھتی ھے کہ الیکٹیبلز سے پاور پولیٹکس چل سکتی ھے تو یہ بھی یقین رکھیں کہ جو الیکٹیبلز آپ کو فراھم کریں گے ۔ ان کی خواھش و منشاء کے خلاف کسی ایک قدم پہ وہ الیکٹیبلز واپس بھی لے لیں گے ۔ 

سیاسی پارٹیاں ھمیشہ سیاسی کارکنوں کی بدولت مضبوط ھوتی ھیں ۔ لہذا پارٹی کارکنوں سے رابطوں کو بحال کریں پارٹی کا سیاسی ڈھانچا مضبوط کریں ۔ کارکنوں کو بھی یہ نظریہ کچل دینا چاھئے کہ شائد کوئی مشورہ پارٹی قیادت کو ناگوار گزرے گا ۔ پارٹی کی بہتری اور فعالیت کے لئے شہید ذوالفقار علی بھٹو ۔ بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے نقش قدم پہ چلنا ھو گا ۔

Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry