جمعہ ،5 جون 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

پیپلز پارٹی لائلپور کی معدوم تاریخ

چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی  کے قیام کے بعد پنجاب میں پہلا عوامی جلسہ لائلپور (موجودہ فیصل آباد) میں 19 مارچ 1968 کو ایوبی آمریت کے خلاف دھوبی گھاٹ کی گراؤنڈ میں کیا تھا۔

Editor

ایک سال قبل

Voting Line

 

تحریر : محمد ضرار یوسف 

مختار رانا گورنمنٹ کالج میں لیکچرر کی ملازمت کر رہے تھے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے 30 ۔ نومبر 1967 کو قائم ہونے کے بعد مختار رانا نے لائلپور میں پیپلز اکیڈمی کے قیام کے لئے سوچ بچار شروع کر دی ۔

مختار رانا نے سرکاری ملازمت خیرباد کر کے پیپلز اکیڈمی جناح کالونی لائلپور میں فروری 1968 میں قائم کی ۔ 
  اس اکیڈمی کے قیام کا مقصد پاکستان پیپلز  (PPP) کے نظریاتی کارکنوں کی تعلیمی اور سیاسی تربیت کرنا تھی۔

 اکیڈمی میں پارٹی کے اہم رہنما جلسے، ملاقاتیں اور مشاورتی اجلاس منعقد کرتے تھے۔ پیپلز اکیڈمی نے 1970 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ۔
اور اکیڈمی نے کئی نامور سیاسی اور مزدور راہنماء پیدا کئے ۔ 

چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی  کے قیام کے بعد پنجاب میں پہلا عوامی جلسہ لائلپور (موجودہ فیصل آباد) میں 19 مارچ 1968 کو ایوبی آمریت کے خلاف دھوبی گھاٹ کی گراؤنڈ میں کیا تھا۔ اس دن موسلادھار بارش کے باوجود عوام کا جوش و خروش دیدنی تھا ۔ اس جلسے کی تیاری اور اشتہار بازی میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے علاوہ پیپلز اکیڈمی کے طلباء کا  کردار بے مثال تھا ۔ اس وقت کارکنوں میں خلوص ، محبت بے انتہاء اور لالچ کا عنصر رائی برابر بھی نہ تھا ۔
اس جلسے میں چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے انقلابی سوشلسٹ منشور سے عوام کو روشناس کروایا ۔ 
جلسے میں مزدوروں ، کسانوں اور طلباء کی بڑی تعداد اپنے جوش اور ولولے سے منشور کی حمایت کا اعلان کیا ۔ اس جلسے میں پیپلز پارٹی نے روٹی کپڑا مکان کے بنیادی عوامی حق دلوانے کا وعدہ کیا ۔ اور صدر ایوب خان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوبی آمریت کے خلاف بھر پور تحریک بحالی جمہوریت کا آغاز کیا ۔ لائلپور کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ایوبی آمریت کے خلاف تحریک کا باقائدہ آغاز اس جلسے کے بعد شروع ہوا ۔
 یہ تحریک اس وقت زور پکڑ گئی جب 7 نومبر 1968 کو راولپنڈی میں ایک طالبعلم عبدالحمید کے پولیس فائرنگ سے جاں بحق ہوگیا ۔ اس کے بعد ملک بھر میں طلبہ، مزدوروں عوام الناس اور  سیاسی جماعتوں نے ایوب خان کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔
 1969 کے اوائل میں چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو لاہور سے لاڑکانہ پہنچے ۔ جہاں حکومت نے ان کو نظر بند کر دیا ۔ 
لائلپور سے اقبال کاسترو ، میاں محمد اقبال ، مختار رانا ، بدرالدین چوہدری ، شمیم احمد خان کو گرفتار کر لیا گیا ۔

صدر ایوب خان نے 25 مارچ 1969 کو استعفی دے دیا اور جنرل یحیی خان نے اقتدار سنبھالا ۔ یحیی خان نے اقتدار سنبھالتے ہی اعلان کیا کہ پاکستان میں الیکشن 1970 میں منعقد کروائے جائیں گے ۔ 

صدر یحیی خان نے مارچ 1970 میں ایک نیا آئینی حکم (Legal Framework Order - LFO) جاری کیا گیا، جس میں انتخابات کے طریقہ کار، نشستوں کی تقسیم اور آئندہ دستور سازی کے اصول واضح کیے گئے۔ انتخابات کی تاریخ 7 دسمبر 1970 مقرر کی ۔ یہ پاکستان کی 
تاریخ کے پہلے انتخابات منعقد ہونے جا رہے تھے ۔ 

لائلپور میں یکم مئی 1970 بروز جمعہ کو یومِ مزدور (Labour Day) کا شاندار جلوس نکالا جس میں لائلپور کی تمام صنعتوں کے مزدوروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اس جلوس کی قیادت بابائے سوشلزم شیخ رشید نے کی ۔ 
دوسری طرف دائیں بازو کی مذھبی جماعتوں نے لاہور میں "یومِ شوکتِ اسلام" کے نام سے دن منایا اور جلوس میں جمعیت علماء اسلام کے مرکزی قائدین حضرت مولانا عبداللہ درخواستیؒ (امیر)، حضرت مولانا مفتی محمودؒ (ناظم عمومی)، اور حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، جمعیت علماء پاکستان کے قائدین مولانا عبدالستار نیازی اور جماعت اسلامی کے امیر مولانا ابواعلی مودودی نے شرکت کی ۔

 اس کے بعد 26 تا 28 جون 1970 کو بادشاہی مسجد لاہور میں جمعیت علماء اسلام کے زیر اہتمام "آئینِ شریعت کانفرنس" منعقد ہوئی ۔ جس میں مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے ایک گھنٹہ تک آئین شریعت کی حمایت میں خطاب کیا ۔
چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو شیخ رشید اور تین دوسرے ہمراہیوں کے پرائیویٹ اور نجی دؤرے پہ عمر حیات سیال کو ملنے جھنگ گئے ۔ واپسی پہ 06۔ستمبر 1970 کو شیخ صاحب نے چند ایک کارکنوں لائلپور چیئرمین کے آنے اطلاع دی ۔ 
لائلپور جھنگ روڈ پہ بابر سینما کے چوک پہ بھٹو صاحب کا استقبال کیا گیا ۔ مختصر ملاقات کے بعد شیخ رشید نے بدرالدین چوہدری کو گاڑی میں جگہ نہ ہونے کے باوجود اپنی گود میں بٹھا لیا اور مختار رانا کے گھر روانہ ہو گئے ۔ مختار رانا اس وقت جیل میں نظر بند تھے اور چیئرمین کا مقصد حال احوال دریافت کرنے کے ساتھ حوصلہ دینا تھا اس کے بعد  رائے عبدالرزاق ایڈووکیٹ جو کہ اس وقت لائلپور بار کے صدر بھی تھے ان کی والدہ کی وفات پہ افسوس کرنے ان کے گھر گئے ۔ تو عبدالرزاق اور ان کی فیملی کمالیہ اپنے گاؤں گئی ہوئی تھی ۔ لہذا ملاقات نہ ہو سکی ۔ 
پھر بھٹو صاحب غلام محمد آباد کے مرکزی قبرستان پہنچے جہاں انہوں نے جنگ 1965 کے شہدا کی قبروں پہ گل پاشی کی اور فاتحہ پڑھی ۔ 

چیئرمین نے الیکشن 1970 کے لئے اُمیدواروں سے ٹکٹ کے لئے درخواستیں طلب کیں ۔ تو پاکستان پیپلز پارٹی لائلپور کے پہلے صدر محمد یعقوب اعوان تھے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا انہیں گاؤں کے حلقے کی بجائے شہری حلقہ پی پی 53 سے ٹکٹ دیا جائے ۔ جبکہ اس حلقے کے لئے ڈاکٹر ملک حلیم رضا بھی امیدوار تھے ۔ اس سلسلے میں چیئرمین نے فیصلہ شیخ رشید پہ چھوڑ دیا اور شیخ رشید نے کہا کہ اس ٹکٹ کا فیصلہ بدرالدین چوہدری کریں گے ۔ اور بدرالدین چوہدری نے حلیم رضا کی حمایت کر کے ٹکٹ ان کو دلوایا ۔ یعقوب اعوان کو حلقہ پی پی 61 لائلپور کا ٹکٹ دیا گیا ۔ اور وہ اسی حلقہ سے کامیاب ہوئے ۔

ذو الفقار علی بھٹو نے 12 اکتوبر 1970 کو حافظ آباد کا دورہ کیا اس دوران چیئرمین سے لائلپور کے کچھ لیڈروں نے ملاقات کی ان میں مختار رانا اور ملک حامد ایڈووکیٹ بھی شامل تھے ۔
چیئرمین حافظ اباد سے لائلپور (موجودہ فیصل آباد) ا رہے تھے کہ ایک بے قابو بھینس ان کی گاڑی سے ٹکرا گئی ۔ اس حادثے میں بھٹو صاحب معمولی زخمی ہوئے لیکن گاڑی کو کافی نقصان  پہنچا تھا۔ اس حادثے کے بعد بھٹو صاحب لائلپور جانے کی بجائے سیدھے لاہور روانہ ہو گئے ۔ 

اس روز ڈاکٹر حلیم رضا نے اپنے گھر چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے اعزاز میں ضیافت کا اھتمام کے علاؤہ کئی پارٹی راہنماؤں نے مختلف پروگرام ترتیب دے رکھے تھے جس میں اس حادثے کی وجہ سے نہ پہنچ سکے ۔ ان کے نہ پہنچنے کی وجہ سے غلط فہمی پیدا ہو گئی اس وجہ سے کئی لیڈر مختار رانا کے خلاف ہو گئے ۔ اور انہوں نے مختار رانا کے خلاف خوب پراپیگنڈہ کیا کہ بھٹو صاحب سے مختار رانا نے خود مل لیا اور باقیوں کے خلاف سازش کرتے ہوئے پروگرام منسوخ کروائے ۔

ذوالفقار علی بھٹو 13 اکتوبر 1970 کو لاہور سے لائلپور (موجودہ فیصل آباد) تشریف لائے اور لائلپور بار ایسوسی ایشن سے خطاب کیا ۔

بار ایسوسی ایشن لائلپور سے چیئرمین نے خطاب کیا جس کے  بعد چوھدری بدرالدین نے چیئرمین صاحب کو ایک درخواست پیش کی کہ پیپلز اکیڈمی کے طلباء کی سٹوڈنٹ یونین کی حلف وفاداری چیئرمین صاحب لیں ۔
لیکن لائلپور کے کئی راہنماؤں نے چیئرمین کو پیپلز اکیڈمی نہ جانے کا مشورہ دیتے وقت کہا کہ آپ کی جان کو وہاں خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ۔ اس موقع پہ احمد رضا قصوری نے بھٹو صاحب کو مشورہ دیا کہ آپ کو نوجوان طلباء کے اس پروگرام میں شرکت کرنی چاھئے ۔ جس پہ چیئرمین نے کہا کہ مجھے کوئی خوف نہیں اور میں اس پروگرام میں شرکت کروں گا اور وقت بھی دے دیا ۔
 چیئرمین صاحب نے اس موقع پہ قلم مانگا تو چوہدری محمد حسین نے ایگل کا قلم کا ڈھکن اتار کر اپنے پاس رکھ لیا کر قلم چیئرمین صاحب کو تھما دیا ۔ چیئرمین صاحب نے درخواست پہ دستخط کر دیئے اور حلف کے لئے ٹائم بھی دے دیا ۔ مگر قلم قریب ایک گملے میں پٹخ دیا ۔
پیپلز اکیڈمی کی سٹوڈنٹ یونین جس کے صدر بدرالدین چوہدری اور جنرل سیکریٹری صبیحہ شکیل منتخب ہوئیں تھیں سے جناب ذوالفقار علی بھٹو نے پروقار پررونق تقریب میں حلف لیا ۔

اس کے بعد مختار رانا کو گرفتار کر لیا گیا۔ 

چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو 13 نومبر 1970 کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا ۔
جبکہ اسی روز لائلپور سے  شمیم احمد خان ، چوہدری بدرالدین ، اقبال کاسترو ، اور صالح محمد نیازی گرفتار ہوئے ۔

بیگم نصرت بھٹو نے 17 نومبر 1970 کو لائلپور (موجودہ فیصل آباد) میں ذوالفقار علی بھٹو کی گرفتاری کے خلاف ایک بڑے احتجاجی جلوس کی قیادت کی جو ذوالفقار علی بھٹو کی فورا رہائی کا مطالبہ کر رہا تھا ۔ یہ جلوس پیپلز اکیڈمی سے شروع اور چوک گھنٹہ گھر پہ اختتام ہوا ۔
 یہ گرفتاری سیاسی وجوہات کی بنا پر عمل میں  آئی تھی، لیکن عوامی دباؤ اور احتجاج کے بعد حکومت کو انہیں 21 نومبر کو رہا کرنا پڑا۔

مختار رانا جو پیپلز پارٹی کے بانی رکن تھے انہوں نے پیپلز پارٹی کی پہلی تنظیم سازی کی ۔ پیپلز پارٹی کا پہلا یونٹ مومن آباد کچی ابادی فیکٹری ایریا میں 1968 میں کھولا گیا تھا ۔
 ان کا لائلپور میں تعلیمی میدان میں بہت سرگرم کردار تھا جنہوں نے پیپلز پارٹی کو تعلیم یافتہ سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے نظریاتی کارکن مہیا کئے اور ان کی بیوی  ڈاکٹر کشور مختار جو زرعی یونیورسٹی کی ڈسپنسری کی انچارج تھیں عوامی خدمت کے چذبوں سے سرشاد تھیں ۔ ان کی ڈسپنسری سے زرعی یونیورسٹی کے ملازمین ہی نہیں غلام محمد آباد کی غریب عوام بھی بہت فائیدہ حاصل کرتے تھے ۔ ڈاکٹر کشور لائلپور  میں اپنی چھٹی کے دن مختلف جگہوں پہ میڈیکل کیمپ لگاتیں اور غریبوں کے لئے ادویات مہیا کرنے کے لئے پارٹی کے مخیر حضرات سے فنڈ اکٹھا کرتیں ۔ اور غریبوں میں ادویات تقسیم کرتیں ۔ فنڈ کے لین دین کا ایسا شفاف حساب کتاب ہوتا تھا کہ کوئی بھی فنڈ دینے خواہ اس نے پانچ پیسے بھی دیئے ہوتے وہ حساب کتاب دیکھ سکتا تھا ۔ 
سیاست کا عوامی خدمت ، احساس اور معاشرے میں موجود تمام اکائیوں سے رابطوں کا بہت گہرا تعلق ہوتا ہے ۔

صدر جنرل یحیی خان کے منعقد کروائے گئے 1970 کے الیکشنز کی بابت اسقدر پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ وہ آزادانہ غیر جانبدارانہ انتخابات تھے ۔ حالانکہ ان انتخابات میں بھی ذوالفقار علی بھٹو کا راستہ روکنے کی منظم سازش کی گئی ۔ 
حلقہ این ڈبلیو 49 لائلپور1 کے امیدوار مختار رانا نے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پہ جیل سے الیکشن میں حصہ لیا اور تقریبا 84 ہزار ووٹ حاصل کئے ۔ 
جبکہ کنونشن مسلم لیگ کے امیدوار میاں زاہد سرفراز نے حکومتی نوازشات کے ساتھ ساڑھے انیس ہزار ووٹ حاصل کر سکے ۔

اسی طرح شمیم احمد خان نے صوبائی حلقہ پی پی 53 لائلپور  کے الیکشن میں جیل سے حصہ لیا اور تقریبا 46 ہزار ووٹ حاصل کئے ۔ جبکہ حکومتی نوازشات کے ساتھ آزاد امیدوار محمد اسحاق صرف 11 ہزار ووٹ حاصل کر سکے ۔

مختار رانا ، شمیم احمد خان  کو الیکشن کے بعد 1971 کو رہا کر دیا ۔ 

مختار رانا نے باوجود کہ 1970 کا الیکشن جیت لیا تھا ۔ مگر وہ مالی بدیانتی میں کبھی ملوث نہ ہوے ۔ 
پیپلز اکیڈمی کے لیکچررز کی تنخواہیں دینا مشکل ہوگیا ۔ اور مالی مسائل کھڑے ہو گئے ۔ ان مسائل سے نپٹنے کے لئے مختار رانا نے بھوانہ بازار میں اپنی کتابوں کی دکان جو " مکتبہ علم و ادب " کے نام سے تھی کو بیچنے کا فیصلہ کیا ۔ یہ دکان انہوں نے تنویر بٹ کو بیچی اور تنویر بٹ نے اس دکان کا نام تبدیل کر کے اپنے بھائی کے نام پہ " ظہیر بک ڈپو" رکھا ۔ 
اس دکان کو بیچ کر مختار رانا نے پیپلز اکیڈمی کے اساتذہ کی تنخواہوں کا حساب چلتا کیا ۔
مختار رانا، جو فیصل آباد سے منتخب ایم این اے ، ایک معروف استاد اور مزدور رہنما ، پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رکن تھے ۔ ان کا مزدوروں کی تنظیموں میں بھی اہم کردار تھا ۔
نیشنل ہوزری لائلپور میں 1972 کے اوائل میں دو مزدوروں کو قتل کر دیا گیا ۔جس پہ ہوزری کے مزدوروں کا یقین کی حد تک شک تھا کہ مزدوروں کا قتل ہوزری مالکان نے کروایا ہے بنیادی طور پہ وہ اس جرم میں برابر کے شریک ہیں ۔ لہذا اس قتل کے الزام میں مالکان کو گرفتار کیا جائے ۔
 دوسری طرف پیپلز پارٹی کے ہی ٹکٹ پہ حلقہ پی پی 54 لائلپور سے طاہر احمد شاہ کے ذریعے گورنر ملک غلام مصطفی کھر کی نیشنل ہوزری کے مالکان کو مکمل تحفظ حاصل تھا ۔
نیشنل ہوزری کے مزدوروں نے اپنے ساتھی مزدوروں کے قتل کے انصاف کے لئے ہڑتال کر دی ۔ اور یہ بات بھی بہت زور شور سے زیر گردش تھی کہ مختار رانا ہڑتالی مزدوروں کی مدد کرنا چاھتے ہیں ۔
اس زیر گردش افواہ کی بنیاد پہ بابائے سوشلزم شیخ رشید کی خواہش پہ چوہدری بدرالدین نے شیخ رشید اور مختار رانا کے درمیان مختار رانا کے قریبی عزیز کے گھر لاہور  خفیہ ملاقات کروائی ۔ 
اس ملاقات میں جہاں کئی موضوعات پہ بات ہوئی ۔ شیخ رشید صاحب نے مختار رانا کو مشورہ دیا کہ آپ وقت کو پہچانیں اور کسی قسم کی ھنگامہ آرائی سے دور ہیں ۔ اور قومی اسمبلی کے ممبر کی حثیت سے حلف اٹھا لیں ۔ پھر جو مناسب سمجھیں کریں ۔ اگر آپ اس سے قبل ھنگامہ خیزی پہ مشتمل سیاست کریں گے تو آپ کے لئے مشکلات کھڑی ہو جائیں گی ۔ آپ سمجھیں کہ اگر  آپ اس قدر طاقتور ہیں کہ مشکلات کا دریا اکیلے عبور کر سکتے ہیں تو بے شک کریں ۔ لیکن میرا اندازہ ہے کہ نہیں کر سکتے ۔

اس میٹنگ کے بعد باوجود مختار رانا نے شیخ رشید سے پرامن اور اعتدال میں رہنے کا وعدہ کیا ۔ مگر ریاض شاہد ، مختار رانا کو مضطرب و شدید غصے میں مبتلا مزدوروں کے اجتماع میں لے گئے جہاں انہوں نے ہڑتالی مزدوروں سے پر جوش خطاب کیا اس خطاب میں گورنر ملک غلام مصطفی کھر اور ملز مالکان کے حامی پیپلز پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ پہ شدید تنقید کی ۔
 جس پر مزدوروں میں اشتعال پھیل گیا اور انہوں نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مل کے مالک کو ہلاک کر دیا۔ اس واقعے کے بعد حکومت پنجاب جس کی سربراہی گورنر پنجاب ملک غلام مصطفی کھر کر رہے تھے نے مختار رانا کو سزا دینے کا فیصلہ کیا ۔

مختار رانا کے خلاف مقدمات قائم کر کے فورا چالان ملٹری کورٹ میں سماعت کے لئے پیش کردیا اور دس یوم میں "ڈیسٹربڈ ایریاز ایکٹ 1955" اور "ڈفنس آف پاکستان رولز" کے تحت نااھل قرار دے کر قومی اسمبلی کی رکنیت کا نااہل قرار دے کر تین سال قید کی سزا سنائی ۔

حلقہ این ڈبلیو 49 لائلپور 1 کی نشست خالی قرار دیئے جانے کے بعد یہاں ضمنی الیکشن کی تیاری ہوئی اور محمد افضل رندھاوا کو پیپلز پارٹی نے ٹکٹ دیا جن کے مقابلے پہ زرینہ رانا ہمشیرہ مختار رانا  الیکشن کے میدان میں اتریں ۔ زرینہ رانا نوعمر مگر باوقار لڑکی جو پنجاب یونیورسٹی کی طالبہ تھیں ۔ افضل رندھاوا کے مقابلے پہ میدان میں اتریں ۔

مجھے آج بھی وہ منظر بہت اچھی طرح یاد ہے ۔ کہ زرینہ رانا ہمارے گھر کے آنگن میں ا کر بیٹھیں تھیں اور میرے والد نے کارکنوں کو ایک خاص مقصد کے لئے بلایا ۔ اور زرینہ رانا سے درخواست کی کہ وہ پیپلز پارٹی کے خلاف الیکشن نہ لڑیں ۔ وہ بہت بااصول خاتون تھیں انہوں نے کہا کہ میری یہ خواہش ہے کہ عوام بے شک مجھے ووٹ نہ دیں مگر وہ پھر پیپلز پارٹی کے علاؤہ کسی اور کو ووٹ نہ دیں ۔ 
اس میٹنگ کے بعد محمد افضل رندھاوا کی کئی میٹنگ ہمارے گھر پہ ہوئیں اور وہ ضمنی الیکشن جیت گئے ۔

کچھ عرصے بعد مختار رانا کو جیل سے رہا کر دیا اور وہ بیرون ملک چلے گئے ۔

Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry