جمعہ ،5 جون 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

آمور فاؤنڈیشن کے متعلق معروف ادیب و خطیب کالم نگار محترم منشا قاضی کے تاثرات واحساسات

آمور فاؤنڈیشن کی سربراہ محترمہ لیلۃ القدر کی قدر افزائی اور ان کی حوصلہ افزائی کے بدلے میں ان سے آپ مسیحائی کی تاثیر میں ڈوبی ہوئی خدمات لے سکتے ہیں

Editor

ایک سال قبل

Voting Line
آمور فاؤنڈیشن کے متعلق
معروف ادیب و خطیب کالم نگار
محترم منشا قاضی صاحب کے تاثرات واحساسات
انہی کے زبان قلم سے
درج ذیل ہیں۔
میں بھی پاکستان ہوں
منشا قاضی
حسب منشا
میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ ادارے، وہ قافلے ، وہ تنظیمیں ، وہ فاؤنڈیشن، وہ جماعتیں، بڑی کامیاب اور کامران ہوتی ہیں جن کے سربراہ کی دورس نگاہ کا اعجاز مظلوم ، مجبور، بے سہارا اور نا امیدیوں اور قنوطیت کے بادلوں میں چھپا ہوا ہو اور بادلوں کی اوٹ سے کوئی یقین کا سورج طلوع ہو رہا ہو اور ان کے لیے نوید مسرت ثابت ہو تو ایسے رہنما ملت کا اثاثہ ہوا کرتے ہیں ان کی قدر کرنی چاہیے آمور فاؤنڈیشن کی سربراہ محترمہ لیلۃ القدر کی قدر افزائی اور ان کی حوصلہ افزائی کے بدلے میں ان سے آپ مسیحائی کی تاثیر میں ڈوبی ہوئی خدمات لے سکتے ہیں، میں نے گزشتہ روز جوان سال جواں فکر جواں ہمت ہائیکر بائیکر اور کچھ کر گزرنے والے نوجوان عادل وحید کی معیت میں محترمہ لیلۃ القدر کی طرف سے دعوت نامہ جو انہیں ملا ہوا تھا اور میں ان کے ساتھ بن بلائے مہمان کی حیثیت سے تقریب میں پہنچا تو مجھے اپنائیت اور اپنائیت سے بھی آگے پذیرائی ملی جس کے لیے میں ان کا ممنون احسان ہوں ، ہمارا ایک ایسا طبقہ جسے نہ صرف گھر والوں نے نظر انداز کر رکھا ہے بلکہ معاشرے میں بھی وہ خوش نظری اور احترام کا سزاوار قرار نہیں دیا جاتا بلکہ انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ان کی عزت نفس کو بحال کرنے اور انہیں ایک کامیاب شہری بنانے کے لیے معاشرے میں انہیں عزت و توقیر عطا کرنے میں لیلۃ القدر کی کارکردگی کا حسن ماحول میں چاندنی بکھر رہا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ یہ وہ عبادت ہے جس کا بدل اللہ کی ذات گرامی انہیں دے گی ،
جہاں بھر کے اندھیرے سمیٹ لاؤ تم
وہ ایک چراغ جلائے گی اور جیت جائے گی
لیلۃ القدر کو اندھیروں سے نپٹنے کا فن آتا ہے وہ کڑے وقت سے لڑنے کا ہنر بھی جانتی ہے اور وہ سمجھتی ہے کہ معاشرے میں توازن قائم کرنا یہ ہم سب کا فرض ہے توازن بگڑنے سے معاشی بحران پیدا ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جس طرح اس کائنات کو توازن پر تخلیق کیا ہے اسی طرح ہم معاشرے میں توازن قائم رکھیں گے تو ہم سب کے لیے بہتری ہوگی یہ انسان خود اپنی ذات میں ایک چھوٹی سی کائنات ہے اس کائنات کا بھی اگر توازن جب بگڑتا ہے تو بلڈ پریشر ہائی ہو جاتا ہے شوگر ہو جاتی ہے ہارٹ اٹیک ہونا شروع ہو جاتا ہے دماغ کی رگیں پھٹنے لگتی ہیں اس توازن کو قائم رکھنا چھوٹی کائنات ہو یا بڑی کائنات اس کے لیے ضروری ہے کہ
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ہے انہی اجزاء کا پریشان ہونا
اس لیے جو لوگ مظلوموں کے لیے، مجبوروں کے لیے، مقہوروں کے لیے کام کر رہے ہیں ان کے ہاتھوں میں ہاتھ دو اور جنہیں ہم نے نظر انداز کر رکھا ہے ان معصوم بچیوں ، بچوں ، خواجہ سراؤں کیا قصور ہے بچیوں سے مشقت لی جاتی ہے ان کو سکول نہیں جانے دیا جا رہا اور ان بچوں کا مستقبل تاریک کرنے والے راستہ روکے ہوئے ہیں اس منزل کی طرف بڑھنے والے لوگوں کا جن کا عزم بالجزم پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر دیتا ہے
دست گلچین کا تشدد دیکھو
پھول نے جرم کیا ہو جیسے
امریکہ میں مقیم 40 سال سے عزت مآب جناب خادم حسین بھی اپنی شریک حیات محترمہ مصباح چوہدری کے ساتھ تقریب میں موجود تھے ان کی موجودگی ماحول میں آسودگی پیدا کر رہی تھی وہ خود بھی کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھتے ہیں انہوں نے بزرگوں کے لیے ضرورت اور سہولت کے اسباب مہیا کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں بے سہارا بزرگوں کے لیے سہارا بنا جائے بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر جن کی شاعری ہمالہ کی رفعتوں سے ہم کنارے ہے جناب قیصر نذیر صاحب وہ موجود تھے اان کا کلام اتنا سریع ا لاثر ہے کہ خطیبوں کی گھنٹوں تقریروں پر ان کا ایک شعر بھاری ہے اچھے چہرے دعا ہوتے ہیں خوبصورت خیالات دعا ہوتے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ خوبصورت خیالات زمین کی پاتال سے پیدا نہیں ہوتے یہ فلک الافلاک سے آتے ہیں اور یہ روح کی غذا ہیں روح جب جسم کو چھوڑتی ہے تو جس کو جہاں سے غذا ملتی ہے وہ وہیں لوٹ جاتا ہے اجسام و ابدان زمین میں چلے جاتے ہیں اور روح آسمان کی طرف پرواز کر جاتی ہے میں یہ سمجھتا ہوں کہ روح پر بھی کام ہونا چاہیے زمین میں جانے والی ہستیاں اپنے پیچھے یادوں کے چراغ روشن چھوڑ جاتی ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ
خاک گلشن سے نکل کر گل نے ثابت کر دیا
خاک میں ملنے سے پہلے زندگی ملتی نہیں
آمور فاؤنڈیشن کی سربراہ اور ان کے ڈائریکٹرز صاحبان یہ سارے کے سارے مور کی صفت رکھتے ہیں یہ جنگل میں چلے جائیں جنگلوں میں چلے جائیں پر پھیلا دیں گلستان کھلانے کی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں اس لیے کہ ان کے اندر بہار موجود ہے اور وہ بیک زبان سب کے لیے بات کر رہے ہیں کہ
اگر ہمارے نصیبوں میں نو بہار نہیں
آؤ چمن پرستو خزاں ہی کو سازگار کریں
Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry