ایف پی سی سی آئی کم ٹیرف والے 12 ونڈ پاور پروجیکٹس کے لیے پاور پر چیز میں کٹوتیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے عاطف اکرام شیخ، صدر ایف پی سی سی آئی
ایف پی سی سی آئی کم ٹیرف والے 12 ونڈ پاور پروجیکٹس کے لیے پاور پر چیز میں کٹوتیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے عاطف اکرام شیخ، صدر ایف پی سی سی آئی
ایف پی سی سی آئی کم ٹیرف والے 12 ونڈ پاور پروجیکٹس کے لیے پاور پر چیز میں کٹوتیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے
عاطف اکرام شیخ، صدر ایف پی سی سی آئی
(12مارچ 2025): صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کم ٹیرف والے 12 ونڈ پاور پراجیکٹس پر جاری کٹوتیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان پاور پلانٹس کے ساتھ یہ سلوک ان پا ور پلا نٹس کی لاگت کم ہونے اور ان کے ملکی توانائی کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگی کے باوجود ہو رہا ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے مہنگے اور متروک ٹیکنالوجی پر مبنی بجلی کے ذرائع کو مسلسل ترجیح دینے پر بھی تنقید کی ہے اورحکومت سے قابل تجدید توانائی کی پالیسی 2006 پر عمل پیرا ہونے کا مطالبہ کیا ہے؛ کیونکہ، اس طرح ونڈ انرجی کے پروجیکٹ ڈویلپرز کو کافی مالی نقصان ہو رہا ہے۔مزید برآں، یہ صورتحال ان کی قرضوں کی واپس ادائیگی کرنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کر رہی ہے اور ان کے لیے اپنے آپریشنز کو برقرار رکھنا اور ان کی انوسمنٹ پر ریٹرن (ROI) پر بھی نقصانات ہو رہے ہیں۔انہی وجوہات کی بنیاد پر ونڈ انرجی میں مستقبل کی سرمایہ کاری بھی خطرے میں ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ان پاور پر چیز کٹوتیوں کے مسائل کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بری طرح متاثر ہوگا کہ جو قابل تجدید توانائی کے شعبے میں مستقبل کی کسی بھی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کو براہ راست متاثر کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بالآخر، یہ پروجیکٹ ڈیفالٹ اور پروجیکٹ میں مالی عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے قابل تجدید توانائی کے لیے ایک مستحکم، پائیدار اور معاون ماحول پیدا کرنے کی اہمیت پر زور دیا؛ تاکہ، توانائی کے شعبے پر خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کی توجہ کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔دریں اثنا،ایف پی سی سی آئی کی سینٹرل ا سٹینڈنگ کمیٹی برائے قابل تجدید توانائی کے کنوینر فواد جاوید نے ونڈ پاور کے معاشی اور ماحولیاتی فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ونڈ انرجی 13.8 روپے فی کلو واٹ کے ٹیرف پر ماحول دوست اور سستی بجلی فراہم کرتی ہے؛ جو کہ RLNG، RFO اور کوئلے سے چلنے والے پلانٹس سے نمایاں طور پر کم قیمت ہے۔ فواد جاوید نے وضاحت کی کہ جھمپیر ونڈ کوریڈور میں 610 میگاواٹ کی مشترکہ صلاحیت کے ساتھ 12 ونڈ پاور پراجیکٹس 2021 سے شروع کیے گئے ہیں۔ تاہم، ان پلانٹس کو مسلسل چلایا جانا چاہیے؛ جیسا کہ قابل تجدید توانائی پالیسی 2006 کے ذریعے طے کیا گیا تھا۔لیکن،ان پروجیکٹس کو بار بار پاور پر چیز کٹوتیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ہمارے ملک کے لیے سستی بجلی سے فائدہ اٹھانے میں ناکامی کا باعث بنتا ہے۔ فواد جاوید نے واضح کیا کہ یہ امر ہمارے پائیدار توانائی کے اہداف کو نقصان پہنچاتا ہے اور 2030 تک کاربن اخراج میں 50 فیصد کمی اور 2030 تک قومی گرڈ میں قابل تجدید توانائی کا 30 فیصد حصہ حاصل کرنا ممکن نہیں ہو گا؛ جیسا کہ متبادل اور قابل تجدید توانائی کی پالیسی 2019 میں بیان کیا گیا ہے۔ فواد جاوید نے کٹوتیوں کے منفی معاشی اثرات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ونڈ پاور پلانٹس اپنی صلاحیت کے عنصر کو تقریباً 38 فیصد تک پہنچنے کے بعد غیر معمولی سستی بجلی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم، کیپیسٹی کا کم استعمال ان پلانٹس کی لاگت کی بچتوں کو صارفین تک پہنچانے سے روکتا ہے۔ایف پی سی سی آئی قومی معیشت اور بجلی کے صارفین کے مفاد میں کم ٹیرف والے 12 ونڈ پاور پراجیکٹس کی پاور پر چیز کٹوتیوں کو فوری اور دیرپا بنیادوں پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ FPCCI یہ بھی مطالبہ کرتی ہے کہ موجودہ توانائی کی خریداری کے معاہدوں (EPAs) کا احترام کیا جائے۔
No comments yet.