جمعہ ،5 جون 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے آگاہ کیا ہے کہ پاکستان کی کاروباری، صنعتی اور تاجر برادری ملک میں جا ری مانیٹری پالیسی سے غیر مطمئن ہے؛ کیونکہ یہ بنیادی افراط زر کے مقابلے میں بھاری پریمیم پر مبنی ہے

صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ

Editor

ایک سال قبل

Voting Line

صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے آگاہ کیا ہے کہ پاکستان کی کاروباری، صنعتی اور تاجر برادری ملک میں جا ری مانیٹری پالیسی سے غیر مطمئن ہے؛ کیونکہ یہ بنیادی افراط زر کے مقابلے میں بھاری پریمیم پر مبنی ہے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی مانیٹری پالیسی کمیٹی کی آخری میٹنگ جو کہ 27 جنوری کو ہو ئی تھی میں پالیسی ریٹ میں محض 100 بیسس پو ائنٹ کی ناکافی کمی کا اعلان کیا تھا۔انہوں نے اس حقیقت پر زور دیا کہ ملک میں مہنگائی 9 سال کی کم ترین سطح تک گرچکی ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے بتایا کہ حکومت کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق مہنگائی کی شرح فروری 2025 میں 1.5 فیصد اور جنوری میں 2.4 فیصد رہی۔ لیکن،اس کے باوجود پالیسی ریٹ کی شرح 12 فیصد پر موجود ہے؛ جوکہ، بنیادی افراط زر کے مقابلے میں 1050 بیسس پوائنٹس کے پریمیم کی عکاسی کرتی ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے اپنی بات جاری رکھتے ہو ئے کہا کہ تمام صنعتوں اور شعبہ جات کے اسٹیک ہو لڈرز کے ساتھ مشاورت اورفیڈریشن میں غور و خوض کے بعد ایف پی سی سی آئی مانیٹری پالیسی کو معقول بنانے کے لیے 10 مارچ 2025 کو ہونے والے MPC کے اجلاس میں فوری اور سنگل اسٹروک 500 بیسس پوائنٹس کی کمی کا مطالبہ کرتی ہے اور مانیٹری پالیسی کو خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے وژن اور اقتصادی تر قی و برآمدات کے وزیر اعظم کے وژن کے مطابق بنایا جائے۔صدر ایف پی سی سی آئی نے مزید کہا کہ ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے تخمینے کے مطابق مالی سال 2025 کی چوتھی سہ ماہی یعنی کہ اپریل تا جون 2025 میں بنیادی افراط زر 1 سے 3 فیصد کی حد میں رہنے کی توقع ہے؛ جس کی وجہ اشیاء کی گرتی ہوئی قیمتیں اور مہنگائی کے دباؤ میں مسلسل کمی ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے وضاحت کی کہ تیل کی بین الاقوامی قیمتیں بھی مستحکم رہنے کی امید ہے اور یہ اس لیے اہم ہے کہ پاکستان میں افراط زر کا دباؤ پیدا کرنے میں کروڈ آئل کی قیمتیں سب سے اہم کردار ادا کرنے والے عوامل میں سے ایک ہیں۔واضح رہے کہ بین الاقوامی اور علاقائی منڈیوں میں تیل کی فراہمی وافر ہے اور اوپیک پلس ممالک میں کروڈ آئل کی سپلائی کی اضافی گنجائش آنے والے کئی مہینوں میں تیل کی بین الاقوامی قیمتوں کو 70 ڈالر فی بیرل کے آس پاس رکھنے کے لیے کافی ہو گی۔ لہذا، پاکستان میں حکام کے پاس اب پالیسی ریٹ کی شرح میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کرنے کے لیے تمام لوازمات موجود ہیں اور اب معاشی سکڑاؤ اور کاروبار مخالف مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے کا کوئی جواز موجود نہیں رہا ہے۔ صدرایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے فیڈریشن کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ کاروبار کرنے کی لاگت؛ پاکستان میں کاروبار کرنے میں آسانی اور فنانس تک رسائی برآمدی منڈیوں میں اپنے تمام حریف ممالک کے مقابلے میں سب سے کم سطح پر ہے۔لیکن، خوش قسمتی سے مہنگائی کے دباؤ میں فیصلہ کن کمی کا رجحان پچھلے کئی مہینوں سے جاری ہے اور ملک میں اقتصادی ترقی کی بہتر رفتار پر واپس آنے کا واحد قابل عمل حل صنعت اور ایکسپورٹ کو سپورٹ کرنا ہے۔سنیئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں نے تجویز پیش کی کہ شرح سود کو فوری طور پر سنگل ہندسوں پر لایا جائے؛تاکہ پاکستانی برآمد کنندگان کو کسی حد تک کاروبار کرنے کی لاگت کو بامعنی انداز میں کم کرکے علاقائی اور بین الاقوامی برآمدی منڈیوں میں مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جاسکے اور یہ ا قدام صنعتوں کے لیے بجلی کے نرخوں کو معقول بنانے کے حکومتی وعدے کی تکمیل کے ساتھ ہونا چاہیے

Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry