محترمہ بے نظیر بھٹو کا قتل
بینظیر بھٹو، پیپلز پارٹی، سیاست
تحریر و تحقیق : محمد ضرار یوسف
27دسمبر 2007 کی ایک منحوس گھڑی جب محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور پاکستان پیپلز پارٹی کے 23 کارکنان کو دوسرے اندھناک قاتلانہ حملے میں شہید کیا گیا ۔ جبکہ دو سو سے زائد کارکن زخمی ھوئے ۔
اس سے قبل محترمہ بے نظیر بھٹو پہ وطن واپسی کے موقع پر 18۔اکتوبر 2007 کو ان کے کارواں پہ خودکش حملے کئے گئے اور ان حملوں میں تقریبا دو سو کارکنان پیپلز پارٹی شہید ھوئے اور پانچ سو سے زاید کارکن زخمی جن میں سے دو سو کارکن مستقل معذوری میں مبتلا ھوگئے۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت دراصل غریب اور مزدوروں کی خواھشات کا قتل تھا ۔ محترمہ کے بعد غریبوں اور مزدوروں کے لیے کوئی ان کی طرح پرجوش طاقتور آواز اٹھانے والا نہیں رہا۔ پاکستان کی غلط خارجہ پالیسی اور سٹرٹیجک غلطیوں پر روک ٹوک کرنے والا کوئی نہیں رہا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی آخری کتاب ’مفاہمت‘ کے فارمولے پر عمل ہوتا تو تہذیبوں کا ٹکراؤ ختم ہو سکتا تھا ۔ مذہبی انتہا پسندی کے خلاف سالہاسال جو تساہل برتا گیا محترمہ کی شہادت سے انتہاء پسندی کے خلاف بیانیئے میں الجھاؤ پیدا ھو گیا ۔
محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ نے 21۔دسمبر 1988 کو بھارت اور پاکستان کے مابین تاریخی غیر جوہری جارحیت معاہدہ ( Non-Nuclear Aggression Agreement ) کیا جس کے تحت دونوں ہمسایہ ممالک کے وزراء اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو اور راجیو گاندھی نے دستخط کیے کہ ایک دوسرے کی جوہری تنصیبات پر حملہ کر سکتے ہیں اور نہ ہی کسی دوسرے ممالک کی مدد کرسکتے ہیں۔ اس دفعہ محترمہ اپنے تمام ھمسایوں سے بہترین تعلقات قائم کرنے کا عزم لئے وطن واپس لوٹی تھیں ۔ دھشتگردی کے خاتمے اور پرامن برصغیر کا پروگرام لے کر وطن واپس آئیں تھیں ۔ جن کو وطن واپس لوٹتے ھی ملک میں دھشتگردی کو پروان چڑھانے والی قوتوں نے دھشتگردی کا نشانہ بنایا ۔
پاکستانی فوج اور عوام ایک ہوتے تو جمہوریت مضبوط ہوتی۔ اداروں کا استحکام آئین کی روشنی میں ہوتا اور آج پاکستان دنیا کے جمہوری ممالک میں سر فہرست ہوتا۔
لیکن یہ یہ سب کچھ ملکی اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کو قطعا قبول نہیں تھا ۔ لہذا محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا ۔ اب ھم محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل اور اس کے پس پردہ محرکات کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پہ دستیاب معلومات کو یکجا کرکے قاتلوں کے خدوخال سمجھنے کی کوشش کرتے ھیں ۔
مشرف حکومت کی بدنیتی اور قاتلوں کو مکمل سہولت کاری مہیا کرنا صاف ظاھر ھوتا ھے ۔
سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے مقدمہ قتل میں استغاثہ کے اہم گواہ اور امریکی شہری مارک سیگل نے انسداد دہشت گردی کی عدالت راولپنڈی میں ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرواتے ھوئے عدالت میں بیان کیا ۔
کہ سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو نے اُنھیں بتایا تھا کہ ’سنہ 2007 میں اُس وقت کے صدر پرویز مشرف نے ٹیلی فون کرکے کہا تھا کہ پاکستان آنے کی صورت میں اُن کی (بے نظیر بھٹو) کی سکیورٹی اُن (مشرف) کے ساتھ بہتر تعلقات سے مشروط ہے۔‘
اُنھوں نے مزید کہا کہ 18 اکتوبر سنہ 2007 کو پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو جب کراچی پہنچی تھیں تو اس وقت بھی ان کی سکیورٹی کے لیے جو جیمرز دیے گئے تھے وہ بھی ٹھیک طریقے سے کام نہیں کرر ہے تھے کیونکہ اس ٹرک پر لوگ موبائل پر لوگوں سے باتیں کرر ہے تھے۔
امریکی تفتیشی صحافی اور آر ٹی کے معاون وین میڈسن ( Wayne Madsen ) کے مطابق سی آئی اے کے نئے ڈائریکٹر لیون پنیٹا ( Leon Panetta ) کو امریکی نائب صدر ڈک چینئی ( Dick Cheney ) نے حکم دیا کہ کے القاعدہ رہنماؤں کی تلاش اور ان کے قتل کے خفیہ منصوبے کو منسوخ کر کے سی آئی ائے کی امریکی گانگرس کو انسداد دھشت گردی کے بارے معلومات فراھم کرنے سے روک دیا ۔ اور "اس قاتلانہ ٹیم سے محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کا پروگرام تشکیل دیا گیا ۔
واشنگٹن میں مقیم امریکی تفتیشی صحافی مسٹر سیمور ہرش ( Seymour Hersh ) جو نیو یارک میگزین اور دیگر ممتاز ذرائع ابلاغ کے لئے لکھتے ہیں ، نے بھی دعوی کیا ہے کہ امریکی نائب صدر ڈک چینئ ایک "ایگزیکٹو قاتلانہ اسکواڈ " چلا رہے تھے۔
امریکی صحافی نے 12 مئی 2009 کو گلف نیوز کو بتایا کہ اس قاتل اسکواڈ نے کا محترمہ بھٹو کا قتل کیا ۔ یہ خبر 19 مئی 2009 کو ڈان اخبار کراچی نے شائع کی ۔
پلوٹزر انعام یافتہ ( The Pulitzer prize-winning ) امریکی صحافی سیمور ہرش نے دعوی کیا کہ اس یونٹ نے لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق الحریری اور آرمی چیف کو امریکی مفادات کا تحفظ نہ کرنے اور لبنان میں امریکہ کو فوجی اڈے بنانے کی اجازت دینے سے انکار کرنے پرہلاک کردیا تھا۔ مسٹر ہرش نے کہا کہ اسرائیل کے وزیر اعظم ایریل شیرون بھی اس سازش کے کلیدی آدمی تھے ۔
برگیڈیئر امیر فیصل علوی کو جنوری 2003 میں میجر جنرل کے عہدے پہ ترقی دے کر خصوصی سروس گروپ (ایس ایس جی) کا پہلا جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) مقرر کیا گیا تھا۔
وہ پاکستان آرمی کے پہلے افسر بھی تھے جنہوں نے 23 مارچ 2005 کو آرمی فورس سکائی ڈائیونگ ٹیم (اے ایف ایس ٹی) کی جنرل آفیسر کی حیثیت سے سربراہی کی۔
میجر جنرل علوی نے اسپیشل سروس گروپ کے چیف کے عہدے کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے 2004 میں شمالی وزیرستان میں آرمی کے پہلے آپریشن اور خیبر پختونخواہ صوبے میں طالبان کے خلاف آپریشن کی سربراہی کی۔
تاہم ، اگست 2005 میں ، انھیں جنرل پرویز مشرف نے پاکستان کے اسپیشل سروس گروپ (ایس ایس جی) کے سربراہ کی حیثیت سے " نامعقول طرز عمل" کا الزام لگا کر برطرف کردیا ۔
فوجی امور سے متعلق برطانوی صحافی اور مصنفہ کیری شوفیلڈ ( Carey Schofield ) نے برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز میں لکھا کہ میجر جنرل امیر فیصل علوی کے دشمنوں نے طلاق یافتہ پاکستانی خاتون کے ساتھ اسے بدنام کرنے کے لئے افیئر استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اپنے ساتھیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہیں اس معاملے پر چیلنج کیا گیا ۔ فیصل علوی نے اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف پہ تبصرہ کیا اور اس کے مخالفین نے اس کی آواز کو ریکارڈ کر کے صدر جنرل پرویز مشرف کو سنوائی تو جنرل مشرف نے اسے اپنی توھین سمجھا اور میجر جنرل امیر فیصل علوی کو برخاست کردیا گیا۔
21 جولائی 2008 کو جنرل امیر فیصل علوی نے پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو ایک خط بھیجا جس میں اپنی بحالی کی درخواست کی تھی اور یہ انکشاف کیا کہ پاکستانی فوج کے دو سینئر جنرلز نے 35 سالہ عسکری طالبان رہنما بیت اللہ محسود کے ساتھ معاہدہ کیا تھا ۔ جس کے میں تمام ثبوت بھی پیش کروں گا۔
بیت اللہ محسود 2007 میں بے نظیر بھٹو کے قتل کا مرکزی ملزم تھا۔ جب جنرل علوی کو کیانی کی طرف سے کوئی جواب موصول نہ ھوا تو ان کو اپنی جان کی فکر ھوئی ۔
اکتوبر 2008 میں ، اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہوئے جنرل کیانی کو لکھے گئے خط کی ایک کاپی انہوں نے ٹاکنگ فش ریستوراں اسلام آباد میں کیری شوفیلڈ کو دی ۔
کسی بھی ادارے نے جنرل امیر فیصل علوی کے سینئر جنرلز پر لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کرنے اور بیت اللہ سے کئے گئے خفیہ معاھدے کو منظر عام پہ لانے کی کوشش نہیں کی ۔
19۔ نومبر 2008 کو میجر جنرل امیر فیصل علوی کی گاڑی کو ایک اور گاڑی کے ذریعے روک کر ان کے گھر واقعہ بحریہ ٹاؤن شاھراہ اسلام آباد راولپنڈی کے قریب تین نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ان کو قتل کر دیا گی
محترمہ بے نظیر بھٹو نے لیاقت باغ راولپنڈی میں عوام الناس کے عظیم الشان جلسے سے خطاب کرکے جلسہ گاہ سے باھر نکل رھی تھیں کہ اس ریلی میں دھماکے سے راولپنڈی لرز اٹھا ۔ ابتدائی پولیس رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایک سے زیادہ قاتلوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے بلٹ پروف وائٹ ٹویوٹا لینڈ کروزر پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ جلسہ کے بعد واپس روانہ ھو رھی تھیں۔
ایک خودکش بمبار نے پہلے ان پر ایک پستول سے تین فائر کئے اور بعد میں ان کی گاڑی کے اگلے حصے میں بم دھماکہ کر کے خود کو اڑا دیا تھا ۔
واقعہ کے بعد بے ھوش محترمہ بے نظیر بھٹو کو شام پانچ بجکر 35 منٹ پر راولپنڈی جنرل ھسپتال لے جایا گیا ۔ جہاں میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر محمد مصدق خان کی سربراھی میں ڈاکٹر کی ٹیم ان کو طبی امداد دینے اور ان کے دل کو دوبارہ متحرک کرنے کی کوشش کرتے ھوئے ۔ ان کے سینے کو کھول کر دل کا ڈائریکٹ مساج کرکے دل کی حرکت کو بحال کرنے کی کوشش کی ۔ اس پروسیجر کو طبی زبان میں"left anterolateral thoracotomy for open cardiac massage " کہا جاتا ھے ۔ لیکن ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور شام 6۰00 بجے ھسپتال کی ٹیم نے ان کو مردہ قرار دے دیا گیا ۔
نناس مقدمے کی تحقیقات پہلے پنجاب پولیس نے کی اور بعد اگست 2009 میں ، بینظیر قتل کی تحقیقات کو پنجاب پولیس سے صدر آصف علی زرداری کی خواہش پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) میں منتقل کردیا گیا ۔
پنجاب پولیس نے اپنی تحقیقات میں ثابت کیا کہ لیاقت باغ کے سانحہ میں ایک دھماکہ ھوا ھے ۔ خود کش بمبار جس کی شناخت بلال اک / ک / ایک سعید کے نام سے کی گئی اس نے محترمہ بے نظیر بھٹو پر فائرنگ کرنے کے بعد خود کو اڑا لیا تھا ۔
جبکہ ایف آئی اے نے اپنی تحقیقات میں ثابت کیا کہ دو دھماکے ہوئے تھے۔ ایف آئی اے کے تحقیقات کاروں کے خیال میں اکرام اللہ دوسرا بمبار تھا جس نے لیاقت باغ کے گیٹ کے قریب خود کو اڑایا تھا۔ بینظیر بھٹو کے مقدمۂ قتل کے سرکاری وکیل چوہدری اظہر کے مطابق دو دھماکوں کی تصدیق لیبارٹری رپورٹس سے بھی ہوتی ہے۔ اور ایف آئی اے نے اس کے فورنزک ثبوت بھی پیش کئے ۔ اور مزید یہ بھی بتایا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کرنے کے لئے تین خود کش بمبار لیاقت باغ بھیجے گئے تھے ۔ جن میں دوسرا اکرام محسود (سرکاری وکیل کے بقول راولپنڈی لیاقت باغ میں دوسرا دھماکہ کرکے خود کو ھلاک کر چکا ھے ) اور تیسرا خود کش بمبار عبداللہ عرف سعید تھا ۔
ایف آئی ائے کی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے مطابق محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کرنے میں تحریک طالبان پاکستان , القائدہ کا مشترکہ منصوبہ تھا ۔
حکومت پاکستان نے ایک ٹیلیفون ٹیپ ریکارڈ کرکے جاری کی۔ جو کہ مولوی صاحب اور بیت اللہ محسود کے درمیان ھونے والی گفتگو کو ٹیپ کیا گیا ۔ جس میں بیت اللہ محسود نے مولوی صاحب سے پوچھا کہ اس واقعہ پہ کون کون تھا ؟ جس پہ مولوی نے جواب دیا کہ "وہاں سعید تھا ، دوسرا بدر والا بلال تھا اور اکرام اللہ بھی تھا۔"
پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ایک اہلکار نے ٹیلیفون پر یہ گفتگو ریکارڈ کرنے کا دعویٰ کیا تھا بعد میں غائب ہوگی۔
محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے مقدمہ قتل پہ مجموعی طور پر نو چالان اور تحقیقاتی رپورٹیں پیش کی گئیں۔ ان میں سے پانچ وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے نے جبکہ چار پنجاب پولیس نے پیش کیں۔
جبکہ 30۔ نومبر ، 2017 کو طالبان کے ایک کمانڈر اور راھنما ابو منصور عاصم مفتی نور ولی کی شائع کی گئی ایک کتاب ‘ انقلاب محسود جنوبی وزیرستان: برٹش راج سے امریکن سامراج تک’ میں دعوی کیا گیا ھے کہ بیت اللہ محسود کے فراہم کردہ دو خود کش حملہ آوروں میں سے ایک بلال اک / ک / ایک سعید تھا جس نے لیاقت باغ میں خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت ہوئی ، جبکہ دوسرا خودکش حملہ آور اکرام اللہ جائے وقوع سے فرار ہوگیا اور اس وقت وزیرستان کے ملحقہ افغانستان کے صوبہ پکتیا میں آزادانہ زندگی گزار رھا ھے ۔
طالبان کمانڈر اور راھنما ابو منصور عاصم مفتی نور ولی نے اپنی کتاب " انقلاب محسود " میں یہ بھی لکھا کہ دو خود کش حملہ آوروں محسن محسود اور رحمت اللہ محسود نے 18۔ اکتوبر 2007 میں کراچی میں کارساز کے مقام پر محترمہ بے نظیر بھٹو پر خودکش حملے کیے تھے ، جس کے نتیجے میں قریب 200 افراد ہلاک ہوگئے تھے لیکن بے نظیر بھٹو اس حملے سے بچ گئیں تھیں ۔ یہ پہلا موقع تھا کہ طالبان نے ایف آئی ائے کی تحقیقات اور محترمہ کو شہید کرنے کے اس منصوبے کی تصدیق انقلاب محسود نامی کتاب میں بھی مصنف نے کی ۔
تحقیقاتی اداروں نے مندرجہ ذیل افراد کو براہ راست محترمہ کے قتل میں چالان کیا ۔
اعتزاز شاہ (مانسہرہ سے تعلق لیکن قیام کراچی میں تھا)
شیر زمان (بنیادی تعلق جنوبی وزیرستان کے علاقے لدھا سے لیکن ڈیرہ اسماعیل خان میں مقیم)
حسنین گل (القاعدہ کے اہم رہنما جو امریکہ کی مطلوب افراد کی فہرست میں بھی شامل ہیں، تعلق راولپنڈی سے)
محمد رفاقت (راولپنڈی)
رشید احمد عرف ترابی (چارسدہ)
اکرام محسود (سرکاری وکیل کے بقول ہلاک لیکن طالبان ذرائع کے مطابق زندہ ھے اور پکتا افغانستان میں رھائش پذیر ھے )
بلال اک / ک / ایک سعید کے نام سے کی گئی ( اس نے محترمہ بے نظیر بھٹو پر فائرنگ کرنے کے بعد خود کو اڑا لیا تھا ۔ )
مندرجہ ذیل ملزمان کو سازش کرنے مالی وسائل فراھم کرنا سہولت کاری کرنا اور محترمہ کو شہید کرنے کے لئے مدد فراھم کرنا اور جائے وقوع سے شہادتوں کو ضائع کرنا اور اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ھوئے سرکاری ذرائع سے ساز باز کرنے کے الزامات کے تحت چالان کیا گیا ۔
سعود عزیز (سینئر پولیس افسر)، سیکیورٹی فراہم کرنے میں ناکامی۔
خرم شہزاد حیدر (سینئر پولیس افسر) پر سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکامی اور جائے واقع کو جلد دھونے کا جرم۔
پاکستان کے سابق صدر ریٹائیرڈ جنرل پرویز مشرف پر بھی بینظیر بھٹو کو مناسب سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکامی اور انھیں دھمکی دینے کا الزام ہے۔
بیت اللہ محسود (تحریک طالبان پاکستان کے سابق امیر)
عباد الرحمان عرف نومان عرف عثمان (مالاکنڈ اور اکوڑہ خٹک سے تعلق۔ نوشہرہ کے ایک مدرسے کے طالب علم)
عبد اللہ عرف صدام (مہمند ایجنسی اور اکوڑہ خٹک سے تعلق۔ نوشہرہ کے ایک مدرسے کے طالب علم )
فیض محمد عرف کسکٹ (صوابی اور اکوڑہ خٹک سے تعلق۔ نوشہرہ کے ایک مدرسے کے طالب علم)
نصر اللہ عرف احمد (مدرسہ حقانیہ، اکوڑہ خٹک کے طالب علم)
نادر عرف قاری اسماعیل (مدرسہ حقانیہ، اکوڑہ خٹک کے طالب علم)
تحقیقاتی اداروں نے یہ بھی بتایا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو پہ دوسرے قاتلانہ حملے کی سازش مولانا سمیع الحق کے مدرسے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے ھاسٹل کے کمرے میں تیار کی گئی ۔
سرکاری چارج شیٹ کے مطابق ، حملے کا ایک اہم حصہ مدرسہ دارالعلوم حقانیہ میں اکوڑہ خٹک میں مدرسہ کے سابق طلباء: نادر عرف قاری اسماعیل ، نصراللہ عرف احمد اور عبد اللہ عرف صدام نے تیار کیا تھا۔ یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ سہولت کار ایک سینئر منصوبہ ساز عباد الرحمن عرف فاروق چتن کے ذریعے چل رہے تھے جنھوں نے خودکش جیکٹس بھی فراہم کیں۔ دارالعلوم حقانیہ میں تینوں خودکش حملہ آور عبداللہ عرف سعید , بلال اور اکرام اللہ کو جنوبی وزیرستان سے جمع کیا اور انہیں واپس اکوڑہ خٹک لایا۔ اس کے بعد نصراللہ لڑکوں کو راولپنڈی لے گیا جہاں انہوں نے ہینڈلرز سے رابطہ کیا ، مقامی طور پر مقیم کزن حسنین گل اور محمد رفاقت ، جنہیں بعد میں گرفتار کرلیا گیا۔
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون ( Ban Ki-moon ) نے 5 فروری 2009 کو حکومت پاکستان کی درخواست پر بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لئے ایک تین رکنی کمیشن چلی کے سفارت کار ہیرالڈو معوز (Heraldo Muñoz) کی سربراہی میں تشکیل دیا جس میں مرزوکی دارسمن ( Marzuki Darusman ) انڈونیشین وکیل اور آئرش ڈپٹی پولیس کمشنر پیٹر فٹزجیرالڈ ( Peter Fitzgerald ) بھی شامل تھے ۔ کمیشن متعین کردہ وقت میں تحقیقات مکمل کرنے کے لئے 16 جولائی 2009 کو اسلام آباد پہنچا۔
اقوام متحدہ کے ذریعہ باضابطہ تحقیقات کا آغاز ہوا۔ تحقیقات کی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ
حکومت نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو فراہم کردہ حفاظتی اقدامات " خطرناک حد تک ناکافی اور غیر موثر" تھے۔
2 محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جرم کے منظر نامہ کے ساتھ انتہائی نااھلی کا سلوک کیا گیا ۔
3 پولیس کے اقدامات اور غلطیاں ، بشمول جرائم کے واقعات کو جمع کرنا اور شواہد اکٹھا کرنے اور اسے محفوظ رکھنے میں ناکامی سمیت ، تفتیش کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔"
رپورٹ میں کہا گیا ھے کہ : متعدد سرکاری عہدیداروں نے محترمہ بھٹو کی حفاظت میں بڑے پیمانے پر نااھلی اور کوتاھی کی گئی ھے اور دوسرا اس کے قتل کے ذمہ داران کو نہ صرف حملے کی پاداش میں بلکہ تصور ، منصوبہ بندی اور مالی اعانت میں بھی تحقیقات کرنا چاھئے تھی ۔
محترمہ بھٹو کے قتل کے دن کی حفاظت کی تمام تر ذمہ داری وفاقی حکومت ، حکومت پنجاب اور راولپنڈی ڈسٹرکٹ پولیس پر تھی۔ ان اداروں میں سے کسی نے بھی غیر معمولی اور فوری حفاظتی خطرات کا جواب دینے کے لئے ضروری اقدامات نہیں کیے جس کا انھیں معلوم تھا ۔
پولیس نے پیپلز پارٹی کی اپنی سیکیورٹی کے ساتھ غیر تسلی بخش کوآرڈینیشن رکھا۔
پولیس ایسکورٹ یونٹوں نے محترمہ بھٹو کی گاڑی کی حفاظت ٹاسک کے مطابق نہیں کی۔
کھڑی پولیس کی گاڑیوں نے ہنگامی راستہ بند کردیا۔ اور پولیس نے بھیڑ کو صاف کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر ناکافی اقدامات کیے تاکہ محترمہ بھٹو کی گاڑی لیاقت باغ سے نکلنے پر محفوظ راستہ بن سکے۔
فارورڈ پلاننگ ، احتساب اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کے شعبوں میں پولیس کے افسران اور پولیس قیادت کی کارکردگی انتہائی ناقص تھی۔
دھماکے کے فورا. بعد ہی جرائم کے مناظر کو نظرانداز کرنا محض نااہلی ھی نہیں بلکہ نااھلی سے کہیں بالاتر تھا اور بہت سے لوگوں پر مجرمانہ ذمہ داری عائد کرنے کی ضرورت تھی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے بہادر کاکنان نے اپنی جان کی پروا کئے بغیر بہادری سے اپنی قائد محترمہ بے نظیر بھٹو کی جان کی حفاظت کرنے کی ھر ممکن کوشش کی ۔ جبکہ وہ مکمل طور پر غیر تربیت یافتہ تھے ۔ اور انہوں نے اپنی قائد کے ھمراہ جام شہادت بھی نوش کیا ۔
محترمہ بھٹو کے پوسٹ مارٹم میں جان بوجھ کر سی پی او سعود عزیز راولپنڈی نے رکاوٹ ڈالی اور آصف علی زرداری کی واپسی اور اجازت کا بہانہ بنا کر محترمہ بے نظیر بھٹو کی وجہ موت پر پردہ پوشی اور مقدمہ میں ایک کمزور پہلو پیدا کیا گیا ۔
سی پی او کے لئے یہ توقع کرنا غیر حقیقی تھا کہ مسٹر زرداری کی پاکستان آمد پر پوسٹ مارٹم کرنے کی اجازت دی جائے گی جبکہ اس دوران ان کی باقیات کو تابوت میں رکھا گیا تھا اور ہوائی اڈے لایا گیا تھا۔ مسٹر زرداری کے آنے سے بہت پہلے ہی پوسٹ مارٹم آر جی ایچ میں کرایا جانا چاہئے تھا۔
کمیشن کو اطمینان دلایا گیا کہ راولپنڈی کے پولیس چیف ، سی پی او سعود عزیز اس اندھناک واقعہ میں جرم کا منظر نامہ جلد صاف کرنے اور محترمہ کے پوسٹ مارٹم نہ کروانے کے فیصلے میں وہ آزاد نہ تھے بلکہ حکام بالا کے احکامات کی تعمیل کی ھے ۔
اوون بینیٹ جونز ( Owen Bennett-Jones ) جو ایک برطانوی صحافی اور لکھاری ھیں ۔ جنہوں نے پاکستان سمیت ساٹھ ملکوں سے بی بی سی کے لئے رپورٹنگ کا کام کیا ۔ انہوں نے حال ھی میں ایک کتاب " Bhutto Dynasty " کے نام سے کتاب 27۔ اکتوبر 2020 میں شائع کی ۔
ان کے مطابق آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم تاج نے 26۔دسمبر 2007 کو محترمہ بے نظیر بھٹو سے ملاقات کی ۔ اور انہوں نے القائدہ اور طالبان پاکستان کے محترمہ کے قتل کے مشترکہ منصوبہ کے بارئے میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو بتایا ۔ جس پہ محترمہ نے کہا کہ اگر آپ کو یقین ھے کہ القائدہ اور طالبان مجھ پہ قاتلانہ حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رھے ھیں تو مجھے فول پروف سیکیورٹی دینی چاھئے ۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ راولپنڈی پولیس نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو چار سو پولیس اھلکار سیکیورٹی کے لئے مہیا کئے گئے تھے لیکن جلسہ ختم ھونے سے قبل ھی پولیس کو جلسہ گاہ سے واپس بلا لیا گیا تھا ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی واپسی جس رستے سے ھونا تھی بروقت رستہ بدل دیا گیا ۔ اور جس رستہ سے واپس ھو رھی تھیں اور رستہ کے گیٹ پر تالہ تھا اور اس تالے کی جابی پولیس کے پاس نہیں تھی جس کی وجہ سے محترمہ کو گیٹ کے کھلنے کا تقریبا پانچ منٹ تک کا انتظار کرنا پڑا ۔ اور پولیس کا حفاظتی حصار کمزور پڑنے اور گیٹ کھلنے کا انتظار کرنے کی وجہ سے قاتلوں کو محترمہ پہ نشانہ باندھنے اور ان کو شہید کرنے کا موقع فراھم کیا گیا ۔