پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن کی پریس کانفرنس
پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن کی پریس کانفرنس
پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن نے لاہور میں منعقدہ پریس کانفرنس میں حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کا عوام کی آواز بننا فرض ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈوبا ہوا ہو یا دکھی، اس کی آواز بننا ہمارا فرض ہے۔
ندیم افضل چن نے حکومت کی کسان مخالف پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے دور میں 1200 ارب روپے دیے گئے لیکن کسانوں کو کچھ نہیں دیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ 2023 کے سیلاب میں حکومت نے متاثرین کو کیا دیا؟
انہوں نے کہا کہ گندم صرف روٹی نہیں بلکہ یہ بینک گارنٹی اور کسان کی ضرورت ہے۔ حکومت نے آئی ایم ایف کا بہانہ بنایا، جس پر سعد رفیق نے بھی ٹویٹ کیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ اگر حکومت شاہ خرچیاں کسان کو دیتی تو اربوں کی گندم امپورٹ نہ کرنا پڑتی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کسانوں کو 20 ہزار روپے فی ایکڑ دے رہی ہے جبکہ بھارت اور پاکستان کی کرنسی اور کھاد، بجلی کے ریٹس میں واضح فرق ہے۔
ندیم افضل چن نے کہا کہ اصل فیصلہ یہاں بیوروکریٹ یا جاگیردار امراء کرتے ہیں، سیاسی لوگ نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بابوں والا ماڈل اپنایا جائے گا تو وہ کامیاب نہیں ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ 3 لاکھ 10 ہزار جانور سیلاب میں بہہ گئے۔ کسان کیا لائنوں میں کھڑے ہو کر ونڈہ لیں؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آج مقامی ادارے ہوتے تو سیلاب کے بعد یہ صورتحال نہ ہوتی۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ ایک سال میں لوکل باڈی الیکشن کا وعدہ ابھی تک پورا نہیں ہوا۔ انہوں نے حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ آپ اتحادیوں سے مشاورت کے عادی نہیں۔
ندیم افضل چن نے کہا کہ ہاؤسنگ سوسائٹیز کو فائدہ دینے کے لیے عوام کا پیسہ استعمال ہو رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بند اور اوور ہیڈ بنانا ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا کام نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 55.9 ارب کا سندھ ہاری کارڈ جاری ہو چکا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ پنجاب حکومت بھی یہ کارڈ جاری کرے۔ سندھ میں 21 لاکھ گھر بن چکے ہیں۔ پنجاب میں ملتان، ڈی آئی خان میں 9 ارب بلاول بھٹو کا فنڈ لگا ہے۔
ندیم افضل چن نے وضاحت کی کہ پیپلز پارٹی ایگزیکٹو کا حصہ نہیں مگر حکومت کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ شادیاں پسند اور کچھ مجبوری کی ہوتی ہیں۔
پریس کانفرنس میں فیصل میر، رانا جواد، نایاب جان، احسن رضوی، ذیشان شامی، ڈاکٹر خالد جاوید جان، چودھری ریاض، اور ڈاکٹر ضرار یوسف شریک تھے۔
No comments yet.