پاکستان پیپلز پارٹی کا اسلام آباد میں فوری بلدیاتی انتخابات اور خواتین کی شمولیت بڑھانے کا مطالبہ
ملائکہ رضا نے کہا کہ اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی ہی جمہوریت کو مضبوط بنا سکتی ہے کیونکہ مقامی حکومتیں عوام کے لیے زیادہ جوابدہ اور قابلِ رسائی ہوتی ہیں
اسلام آباد: 12 اگست 2025
پاکستان پیپلز پارٹی ہیومن رائٹس سیل کی سیکرٹری جنرل ملائکہ رضا نے اسلام آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دارالحکومت گزشتہ کئی برسوں سے مقامی حکومت کے نظام سے محروم ہے، جس کے باعث عوام براہِ راست نمائندگی اور مقامی سطح پر فیصلہ سازی کے حق سے محروم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں آخری بلدیاتی انتخابات 2015 میں منعقد ہوئے تھے، اس کے بعد سے اب تک کوئی نیا الیکشن نہیں ہوا، جو آئین اور جمہوری اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ملائکہ رضا نے کہا کہ اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی ہی جمہوریت کو مضبوط بنا سکتی ہے کیونکہ مقامی حکومتیں عوام کے لیے زیادہ جوابدہ اور قابلِ رسائی ہوتی ہیں، جس سے مسائل کا حل تیز اور مؤثر انداز میں ممکن ہوتا ہے۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکل 37 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ منتخب مقامی نمائندوں کے بغیر ریاست مکمل فعال نہیں سمجھی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد بدقسمتی سے ایک "غیر بااختیار دارالحکومت" بن چکا ہے، جہاں عوام کے پاس فیصلہ سازی میں براہِ راست کردار کا کوئی مؤثر ذریعہ موجود نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مقامی حکومت کے ڈھانچے میں خواتین کی شمولیت یقینی بنائی جائے، ایک میئر کے ساتھ دو ڈپٹی میئرز کے عہدے ہوں جن میں سے ایک ڈپٹی میئر کی نشست خاتون کے لیے مختص ہو۔
ملائکہ رضا نے اس بات پر زور دیا کہ چونکہ نیشنل اسمبلی میں اسلام آباد کی کوئی خواتین کے لیے مخصوص نشست نہیں، اس لیے لوکل باڈی الیکشنز میں خواتین کو زیادہ نمائندگی دے کر اس کمی کو پورا کیا جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ٹیکنوکریٹس یا غیر مقامی افراد کو کمیٹیوں اور لوکل باڈی کے عہدوں پر لایا گیا، جنہیں مقامی مسائل کا ادراک ہی نہ ہو، تو وسائل کا ضیاع ہوگا اور نظام مزید غیر مؤثر ہو جائے گا۔
پیپلز پارٹی رہنما نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسلام آباد میں فوری طور پر شفاف اور آزادانہ بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں تاکہ شہری اپنے نمائندے خود منتخب کر سکیں، خواتین کو زیادہ نمائندگی ملے اور مقامی وسائل مقامی عوام کے ہاتھ میں رہیں۔
No comments yet.