جمعہ ،5 جون 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

بلاول بھٹو زرداری کی ایران پر حملے کی مذمت، بھارت کو عسکری و سفارتی شکست دینے کا اعتراف اور حکومت سے زرعی بحران پر فوری اقدامات کا مطالبہ

بلاول بھٹو زرداری کی ایران پر حملے کی مذمت، بھارت کو عسکری و سفارتی شکست دینے کا اعتراف اور حکومت سے زرعی بحران پر فوری اقدامات کا مطالبہ

Editor

11 ماہ قبل

Voting Line
 
 
 
 
کراچی / اسلام آباد / لاہور : چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے آج قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجودہیں جس نے پاکستان کو بھارت پر عسکری، سفارتی اور بیانیے کی فتح سے نوازا۔چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ایران کے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کے قریب ہونے کا جھوٹ دہائیوں سے پھیلایا جا رہا ہے، یہ دعویٰ اسرائیلی وزرائے اعظم 1996، 2001، 2003، 2007، 2010، 2012، 2023، 2024 اور 2025 میں کر چکے ہیں۔ بالآخر، اسرائیلی حکومت نے اسی جھوٹ کی بنیاد پر ایران پر حملہ کر دیا۔ ہم اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ایران کی خودمختاری کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے توہین کی گئی۔ ایرانی عسکری قیادت کو میدانِ جنگ یا سرحد پر نہیں بلکہ ان کے گھروں میں نیند کے دوران نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں نہ صرف ان کی بلکہ بے گناہ شہریوں کی جانیں بھی گئیں۔ صرف فوجی اہلکار نہیں، بلکہ سائنسدان، صحافی اور میڈیا ادارے بھی نشانہ بنے۔چیئرمین بلاول نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایٹمی تنصیبات پر حملہ سب سے سنگین عمل ہے۔ کسی بھی ایٹمی تنصیب پر حملہ صرف ایران پر نہیں بلکہ پورے خطے پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی لیکج ہوئی تو اس کے اثرات پاکستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک پر مرتب ہوں گے۔ گزشتہ روز امریکا نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر بڑا حملہ کیا، اور اسرائیلی حکومت امریکی عوام کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل رہی ہے جس کی حمایت خود امریکی عوام نہیں کرتے۔ یہی جھوٹ عراق جنگ 2003 سے پہلے بولا گیا تھا۔ اب دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران کے پاس تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں۔ ہم امریکی حملوں کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔چیئرمین بلاول نے اپنی تقریر میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ وزیر خارجہ کو متحرک کیا جائے تاکہ وہ ہم خیال ممالک کے وزرائے خارجہ کا ایک گروپ تشکیل دیں جو اس جنگ کی مخالفت کرے کیونکہ ان اقوام کو خطرات لاحق ہیں۔ ہمیں زور دینا چاہیے کہ ایٹمی تنصیبات پر کسی بھی قسم کا حملہ ناقابلِ برداشت ہے۔
انہوں نے دوسری جنگ عظیم کی ایک نظم کا حوالہ دیا:
"پہلے وہ سوشلسٹوں کے لیے آئے، میں خاموش رہا، کیونکہ میں سوشلسٹ نہیں تھا۔ پھر وہ مزدور رہنماو ¿ں کے لیے آئے، میں خاموش رہا، کیونکہ میں مزدور رہنما نہیں تھا۔ پھر وہ یہودیوں کے لیے آئے، میں خاموش رہا، کیونکہ میں یہودی نہیں تھا۔ پھر وہ میرے لیے آئے، اور کوئی باقی نہ تھا جو میرے لئے بول سکتا۔"
اکتوبر 2023 سے ہم ایک نسل کش، نسلی امتیاز پر مبنی توسیع پسند حکومت کو مسلسل جنگیں پھیلاتے دیکھ رہے ہیں جو ہمیں تیسری عالمی جنگ کی جانب دھکیل رہی ہے۔ اس بار، پہلے وہ فلسطینیوں کے لیے آئے، دنیا خاموش رہی کیونکہ وہ فلسطینی نہ تھے۔ پھر وہ لبنانیوں کے لیے آئے، ہم خاموش رہے کیونکہ ہم لبنانی نہ تھے۔ پھر وہ یمنیوں کے لیے آئے، ہم خاموش رہے کیونکہ ہم یمنی نہ تھے۔ اب وہ ایران کے لیے آئے ہیں۔ اگر اب بھی ہم خاموش رہے تو جب وہ ہمارے لیے آئیں گے تو کوئی باقی نہ ہوگا جو بول سکے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کی علاقائی جارحیت کو روکنا ضروری ہے۔ ہم وہ دن دیکھنا چاہتے ہیں جب سب پرامن زندگی گزاریں۔ مگر یہ تب ممکن ہوگا جب نیتن یاہو حکومت کی ایران کے خلاف غیر قانونی جنگ روکی جائے، لبنان سے انخلاء اور جنگ بندی کے وعدے پورے کیے جائیں، اور فلسطین میں نسل کشی اور نسلی امتیاز کا خاتمہ ہو۔بلاول نے کہا کہ ہمارے خطے میں بھی نیتن یاہو کی ایک سستی نقل موجود ہے جسے ہم نے عسکری، سفارتی اور بیانیے کی شکست دے چکے ہیں۔ وزیراعظم اور صدر نے ہمیں قومی بیانیہ پیش کرنے کی ذمے داری دی تھی، اور ہم نے دنیا بھر میں پاکستان کا مو ¿قف کامیابی سے پیش کیا۔ ہم نے کشمیر، امن، اور خطے کی مستقل سلامتی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے 2019 میں جب کشمیر کی حیثیت ختم کی، ا ±س وقت کے پاکستان کے وزیراعظم بے بسی کا اظہار کر رہے تھے، لیکن اس بار جب بھارت نے حملہ کیا تو ہم نے پیچھے ہٹنے کے بجائے جنگ لڑی اور جیتی۔ سابق حکومت کے دور میں بھارت کی ریشہ دیوانیوں کا جواب صرف سڑک کا نام بدلنا تھا، موجودہ حکومت نے چھ طیارے گرا کر دشمن کو جنگ بندی پر مجبور کیا۔انہوں نے کہا کہ بھارت اب بھی سندھ طاس معاہدے کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے، جو اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔ اگر بھارت نے پانی بند کیا تو ہمیں جنگ لڑنی پڑے گی، اور ہم جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔تیسرا بڑا مسئلہ دہشتگردی کا ہے۔ بھارت پاکستان کو "دہشت گرد ریاست" کہلانا چاہتا تھا، مگر ہم نے یہ جنگ بھی جیت لی۔ نہ FATF میں بھارت کامیاب ہوا، نہ IMF میں رکاوٹ ڈال سکا۔چیئرمین بلاول نے دفتر خارجہ اور سفیروں کی تعریف کی اور کہا کہ اقوام متحدہ نے ہمیں دہشت گردی اور طالبان پر کمیٹیوں کی قیادت سونپی ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی فوج کے اعلیٰ اہلکار نے پاکستان کو دہشتگردی کے خلاف "شاندار اتحادی" قرار دیا، جبکہ صدر ٹرمپ نے جنرل عاصم منیر کو وائٹ ہاو ¿س میں مدعو کیا—کیا کوئی شکست خوردہ فوج ایسی عزت پاتی ہے؟بلاول نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پاک-بھارت مذاکرات ضروری ہیں۔ ہمیں جنگ یا الزام تراشی نہیں، امن چاہیے۔ کشمیر، دہشتگردی، اور اب پانی پر جنگ ہم پر مسلط کی جا رہی ہے یہ ناقابلِ قبول ہے۔انہوں نے بجٹ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کم ہوئی ہے، بجٹ مکمل طور پر قابل تحسین نہیں لیکن مثبت پہلو موجود ہیں۔ دفاعی بجٹ میں، 20 فیصد اضافہ ہوا ہے لیکن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لئے 20فیصد اضافہ خوش آئند ہے۔انہوں نے کہا کہ تنخواہوںپر ٹیکس کی حد ایک ملین کر دینا ایک تاریخی ریلیف ہے۔ 10 فیصد تنخواہوں اور 7 فیصد پنشن میں اضافہ خوش آئند مگر ناکافی ہے۔انہوں نے جنوبی پنجاب کے لیے PSDP میں 30 فیصد حصہ جنوبی پنجاب کے لئے رکھنے کا کہتے ہوئے، بلوچستان و خیبرپختونخوا کے لیے سیکیورٹی و ترقیاتی فنڈز کا مطالبہ کیا۔زراعت کے حوالے سے انہوں نے حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی اور 800 ارب روپے کے نقصان کا ذکر کرتے ہوئے زرعی ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکس اور سولر ٹیکس کے حوالے سے حکومت نے پیپلز پارٹی کے اعتراضات تسلیم کیے، جس پر وہ شکر گزار ہیں۔آخر میں بلاول نے کہا کہ پی پی پی منفی سیاست نہیں کرتی، ہم حکومت سے بات چیت کرکے عوام کی بھلائی کے لیے اقدامات کرواتے ہیں۔ اپوزیشن بھی چاہے تو اسی راستے پر چل سکتی ہے، مگر وہ صرف ایک "قیدی" کی رہائی کے مطالبے تک محدود ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے پانی کے خطرے سے نمٹنا ہر پاکستانی کی ذمے داری ہے، ہمیں دنیا کو پیغام دینا ہے کہ ہم اس خطرے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔انہوں نے حکومت سے کہا کہ غیر ضروری ڈیمز کا اعلان نہ کریں، جو ہماری پوزیشن کو کمزور کر دیں۔ ہمیں اس وقت فلڈ ایریگیشن سے سمارٹ ایریگیشن کی طرف جانا ہوگا۔آخر میں انہوں نے وزیراعظم اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہر محاذ پر بھارت کو شکست دی ہے۔
Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry