بینظیر: جو خواب بن کر اٹھی، اور انقلاب بن کر امر ہوئی
بقلم۔۔۔۔۔ میر لونگ خان سارنگزائی
تاریخ بعض اوقات خاموش رہتی ہے، مگر کبھی کبھی وہ ایسی آواز پیدا کرتی ہے جو وقت کی نبض بدل دیتی ہے۔ ایسی ہی ایک صدا محترمہ بینظیر بھٹو کی صورت گونجی، جو محض ایک سیاست دان نہیں، بلکہ ایک نظریاتی زلزلہ تھیں ایک ایسی تحریک، جو جبر کے کمرے میں چراغ لے کر داخل ہوئی اور اسے راکھ میں بدل کر آئی۔
یہ وہ دور تھا جب آمریت کا سایہ دھرتی کے آسمان پر چھایا ہوا تھا، جب جمہور کے خواب ریاستی بوٹوں تلے کچلے جا رہے تھے، اور جب عورت کو سیاسی افق سے ماوراء سمجھا جاتا تھا۔ مگر انہی گھٹن زدہ فضاؤں میں بینظیر نے پہلا سانس لیا — اور یہ سانس، بغاوت کی پہلی دھڑکن ثابت ہوئی۔ ان کا وجود اس روایت شکن لمحے کا آغاز تھا جس نے تاریخ کے دھارے کو موڑ دیا۔
لیکن وہ صرف ایک علامت نہ تھیں، وہ ایک ارتقائی جدوجہد کا شعور تھیں، جو بغاوت سے جنمی، شعور سے پروان چڑھی، اور قربانی سے امر ہوئی۔ اُنہوں نے جمہوریت کو ایوانوں کی سیاست سے نکال کر گلی کے عوام، عدالت کے محروم اور عورت کے ضمیر تک پھیلایا۔ ان کی سیاست صرف کرسی تک رسائی نہ تھی، بلکہ وہ ایک مسلسل مزاحمت کا نام تھی وہ مزاحمت جس نے آمریت کو بےنقاب کیا، اور اشرافیہ کے بنائے گئے جھوٹے بیانیوں کو زمین بوس کر دیا۔
جس طرح ہر انقلابی جدوجہد میں ایک قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، بینظیر نے بھی قربانی کے اس فلسفے کو اپنی زندگی سے آراستہ کیا۔ ان کی قیدیں، ان کی جلاوطنی، ان کی ماں جیسی تکلیفیں یہ سب محض حالات نہیں تھے، بلکہ عوامی شعور کی قیمت تھی جو وہ خود ادا کر رہی تھیں۔ انہوں نے اپنے زخموں کو ہتھیار بنایا، اپنے آنسوؤں کو نعرہ، اور اپنی تنہائی کو مشن اور جب وہ قتل ہوئیں، تو وہ رکی نہیں بلکہ وہ پھیل گئیں، ایک نکتہ سے لاکھوں نکتوں میں تقسیم ہو گئیں، ہر سوچ میں، ہر احتجاج میں، ہر بیٹی کی آنکھ میں بینظیر زندہ ہو گئیں۔
آج اُن کی شہادت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خون رائیگاں نہیں جاتا اگر وہ شہید ہوئیں تو اس لیے نہیں کہ وہ کمزور تھیں، بلکہ اس لیے کہ وہ اس نظام کے لیے خطرہ تھیں جس کی بنیادیں ظلم، جبر، اور ناانصافی کے اینٹوں سے بنی تھیں۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں سوال جنم لیتا ہے کیا ہم نے اس انقلاب کو وہ رخ دیا؟
کیا ہم نے بی بی کے مشن کو تختِ تاریخ پر چڑھایا یا نعرہ لگا کر بھلا دیا؟
یہ سوال ہمیں لمحہ لمحہ جھنجھوڑتے ہیں، اور یہی سوال ہمیں دوبارہ بی بی کے بیانیے سے جوڑتے ہیں۔
بینظیر ہم سے فقط محبت نہیں مانگتیں، وہ ہم سے تحریک کا تسلسل مانگتی ہیں
وہ کہتی ہیں
"اگر میں تمہارے لیے مری، تو تم میرے لیے جیو!"
ہمیں چاہیے کہ ہم ہر گلی کو مزاحمت کا قلعہ بنائیں،
ہر نوجوان کو انقلابی نظریے سے مسلح کریں،
اور ہر عورت کو قیادت کی چابی تھمائیں۔
کیونکہ بینظیر صرف ماضی نہیں،
وہ ایک مسلسل حال اور ایک ممکنہ مستقبل ہیں۔
وہ ایک فلسفہ ہیں
ایک ایسی روشنی، جو وقت کے کسی بھی اندھیرے میں بجھائی نہیں جا سکتی۔
بینظیر: تم انقلاب کی دھڑکن ہو، اور ہم تمہاری گونج ہیں!
No comments yet.