پنکی کی سالگرہ – قربانی، جمہوریت اور جرات کی روشن علامت
تحریر بشیر نیچاری
آج 21 جون ہے وہ دن جب وقت نے تاریخ کا دروازہ کھولا، اور ایک بیٹی نے جنم لیا، جو صرف ذوالفقار علی بھٹو کی پنکی نہیں تھی، بلکہ وہ ہر مظلوم کی امید، ہر جمہور پسند کی آواز، اور ہر ظالم کے لیے للکار بن کر ابھری۔
محترمہ بینظیر بھٹو ایک نام نہیں، ایک نظریہ تھا۔
ایسی بیٹی، جو تخت و تاج کی خواہش لے کر نہیں، قربان گاہ کا وعدہ لے کر پیدا ہوئی تھی۔
ان کی زندگی سنگ مرمر کے محلات میں نہیں، اذیت خانوں، جلاوطنیوں اور سیاسی سازشوں کی دھول میں گزر گئی۔
انہوں نے اپنی آنکھوں سے والد کو پھانسی چڑھتے دیکھا۔
انہوں نے بھائیوں کی لاشیں اٹھائیں۔
انہوں نے ہر قدم پر دھوکے، وار، سازش اور تنہائی دیکھی ۔
مگر زبان پر نہ شکوہ، نہ جھکاؤ، نہ سمجھوتہ۔جب جابر حکمران عورت کی آواز کو جرم سمجھتے تھے،
تب وہ پنکی ہی تھی جو حوصلے سے گرجی،
اور گونجی…
انہوں نے تخت نہیں مانگا ووٹ کی حرمت مانگی۔انہوں نے اقتدار کا سودہ نہیں کیا ۔ عوام کے حق پر پہرہ دیا۔انہوں نے اپنی خوشیوں کو دفن کر کے، عوامی خوابوں کو زندہ رکھا۔جہاں اکثر مرد سیاستدان وقت کے دربار میں سر جھکا لیتے تھے،وہاں ایک خاتون نے، ایک بیٹی نے،
اسٹیبلشمنٹ، مذہبی انتہاپسندی اور اندرونی غداریوں کے خلاف اکیلی کھڑی ہو کر تاریخ کو للکارا۔ وہ صرف رہنما نہیں تھیں وہ جمہوریت کا ستون، مظلوم کی دعا، اور مستقبل کا امکان تھیں۔
ان کے لیے اقتدار کوئی منصب نہیں، ایک امانت تھا۔
ان کے لیے سیاست کوئی کھیل نہیں، ایک قربانی تھی۔
مشکل ترین وقتوں میں ان کا کردار فولاد سے زیادہ مضبوط، اور دریا سے زیادہ گہرا نکلا۔
انہوں نے دنیا کو بتا دیا کہ نظریات کو نہ قتل کیا جا سکتا ہے، نہ جلا وطن۔
اور جب موت کی گھن گرج آئی، وہ ہنستی ہوئی، نعرہ لگاتی ہوئی،جمہوریت کے پرچم کے سائے تلے امر ہو گا آج ہم پنکی کی سالگرہ مناتے ہیں ۔ مگر یہ صرف یاد کا دن نہیں، یہ عہد کا دن ہے۔
ہمیں کیک کاٹنے سے پہلے یہ قسم کھانی ہے۔
> کہ ہم نظریے کا پرچم کبھی جھکنے نہیں دیں گے،کہ ہم شہیدوں کی قربانی کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دیں گے،کہ ہم ہر سازش کے سامنے، پنکی کے نقش قدم پر، ڈٹ کر کھڑے ہوں گے۔
سلام ہے اُس عظیم بیٹی کو،
جو آنسو نہیں، انقلاب بن کر
جو بیٹی نہیں، ایک پوری نسل کی ماں بن گئی۔ اور جس نے ہمیں سکھایا۔
"جمہوریت کا سفر، لاشوں سے ہو کر گزرتا ہے مگر رکتا نہیں!"
No comments yet.