سحر کامران کی اسرائیلی جارحیت پر شدید تنقید
پیپلز پارٹی کو اب حکومت فار گرانٹڈ نہیں لے سکتی۔ ہم نے انہیں خبردار کر دیا ہے کہ اگر ہمارے تحفظات دور نہ کیے گئے تو پیپلز پارٹی بجٹ کے لیے ووٹ نہیں دے گی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی سحر کامران نے اسرائیلی حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی امن اور استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں سحر کامران نے کہا کہ "اسرائیلی جارحیت مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، جو پوری دنیا کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔"
انہوں نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ، اور طاقتور ممالک سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مسائل کا حل جنگ میں نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارت کاری میں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی قوانین اور ریاستی خودمختاری کا احترام ضروری ہے، کیونکہ جنگ صرف تباہی، دکھ، اور عدم استحکام لاتی ہے۔
سحر کامران نے مزید کہا کہ پائیدار امن کے لیے انصاف اور انسانی حقوق کا تحفظ ناگزیر ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ پر زور دیا کہ وہ مؤثر کردار ادا کرے تاکہ خطے میں جاری کشیدگی ختم ہو سکے۔
ٹی وی کے ایک ٹاک شو میں انہوں نے کہا، "مجھے نہیں لگتا اسرائیل کو اتنی فری سپیس ملے گی اور امریکہ ایسے کھلم عام اسرائیل کی حمایت کرے گا کیونکہ اگر ایسا ہوا تو ٹرمپ مسلم ممالک کی حمایت کھو دے گا۔"
بجٹ پالیسی پر بات کرتے ہوئے سحر کامران نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، "ہم نے حکومت کو واضح کر دیا ہے کہ اگر ایچ ای سی کا بجٹ 4.8 ارب سے کم کرکے 2.8 ارب کیا گیا تو یہ ناقابل برداشت ہوگا۔ ہم سولر پر ٹیکس، سکھر موٹروے اور کے فور منصوبے کی فنڈنگ پر کٹ برداشت نہیں کریں گے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ "پیپلز پارٹی کو اب حکومت فار گرانٹڈ نہیں لے سکتی۔ ہم نے انہیں خبردار کر دیا ہے کہ اگر ہمارے تحفظات دور نہ کیے گئے تو پیپلز پارٹی بجٹ کے لیے ووٹ نہیں دے گی۔ اب حکومت کا اطمینان ہلنے والا ہے۔"
No comments yet.