جمعہ ،5 جون 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

عوامی بجٹ بمقابلہ عوام دشمن بجٹ: سندھ اور پنجاب کے بجٹ کا تقابلی جائزہ

تحریر: ثانیہ کامران

Editor

11 ماہ قبل

Voting Line

پاکستان کے دو اہم صوبے—سندھ اور پنجاب—نے مالی سال 2025-26 کے لیے اپنے بجٹ پیش کر دیے ہیں۔ ان دونوں بجٹوں کا موازنہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایک جانب پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے ایک "عوام دوست" بجٹ کے ذریعے اپنے منشور اور وعدوں پر عملدرآمد کا عملی مظاہرہ کیا، تو دوسری طرف پنجاب حکومت نے ایک "عوام دشمن" بجٹ پیش کرکے نہ صرف عوامی توقعات کو ٹھیس پہنچائی بلکہ اپنے ہی ملازمین کو مایوس کیا۔

سندھ: عوامی حکومت کا عوامی بجٹ

سندھ حکومت نے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کی قیادت میں 3451 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا، جسے بجا طور پر "عوام دوست بجٹ" کہا جا سکتا ہے۔ بجٹ میں:

  • گریڈ 1 سے 16 کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 12 فیصد اور گریڈ 17 سے 22 کے افسران کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا، جو کہ وفاق کے 10 فیصد سے بہتر اور حقیقت پسندانہ ہے۔
  • ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 8 فیصد اضافہ کیا گیا، جب کہ وفاق نے صرف 7 فیصد کا اضافہ کیا تھا۔
  • معذور ملازمین کے لیے خصوصی الاونس، پانچ مختلف ٹیکسز کا خاتمہ، اور موٹر وہیکل ٹیکس میں کمی جیسے اقدامات عام شہری کے معاشی بوجھ کو کم کرنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔

تعلیم، صحت، زراعت، ٹرانسپورٹ، اور شہری انفراسٹرکچر جیسے اہم شعبوں میں تاریخی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ خاص طور پر تعلیم کے شعبے میں 523.7 ارب روپے اور صحت کے لیے 326.5 ارب روپے کی فراہمی، حکومت کی سماجی ترقی سے وابستگی کا ثبوت ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے بینظیر ہاری کارڈ، ڈیجیٹل گورننس، اور صاف پانی و نکاسی آب جیسے منصوبے بھی اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر فیصلے کر رہی ہے۔

پنجاب: مایوسی، کٹوتیاں اور عوامی ردعمل

دوسری جانب پنجاب حکومت، جو وفاقی پالیسیوں کے تابع ہے، نہ صرف بجٹ میں بے عملی کا شکار رہی بلکہ کئی محاذوں پر پیچھے ہٹ گئی:

  • تنخواہوں میں محض 10 فیصد اضافہ کیا گیا، جبکہ وفاق کے 10 فیصد اضافے کو پہلے ہی ہدف تنقید ہے۔
  • پینشن میں اضافہ کم ترین یعنی صرف 5 فیصد کیا گیا ہے، جو کہ نہ صرف وفاق (7%) بلکہ سندھ (8%) سے بھی کم ہے۔

یہ واضح ہے کہ پنجاب حکومت نے مالی نظم و ضبط یا ریونیو کے فقدان کا بوجھ سرکاری ملازمین اور ریٹائرڈ افراد پر ڈال دیا۔ اس کے بجٹ میں کوئی ایسا بڑا اقدام نظر نہیں آیا جس سے تعلیم، صحت یا سوشل ویلفیئر کو نمایاں فائدہ پہنچے۔ مزید یہ کہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے براہ راست ریلیف کے اقدامات مکمل طور پر غائب ہیں۔

عوامی خدمت یا آئی ایم ایف کا دباؤ؟

یہاں ایک نکتہ قابل غور ہے کہ دونوں صوبوں کو وفاقی حکومت کی طرف سے فنانسنگ اور آئی ایم ایف کی شرائط کا سامنا ہے، لیکن سندھ حکومت نے ان تمام چیلنجز کے باوجود عوامی ریلیف کو ترجیح دی، جبکہ پنجاب حکومت نے ان چیلنجز کو جواز بنا کر غریب عوام کی ذندگیوں کو مذید کٹھن بنا دیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک طرف سندھ حکومت اپنے عوام کے دل جیت رہی ہے، جبکہ دوسری طرف پنجاب حکومت عوامی ناراضی کا سامنا کر رہی ہے۔

 کون عوام کے ساتھ کھڑا ہے؟

یہ موازنہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے عملی طور پر عوامی جماعت ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ تنخواہوں اور پنشن میں واضح اضافہ، سوشل سیکٹرز میں سرمایہ کاری، اور ٹیکس ریلیف جیسے اقدامات قابل تحسین ہیں۔ اس کے برعکس پنجاب حکومت کا بجٹ بے حسی، کٹوتیوں اور غیر مقبول فیصلوں کی علامت ہے، جو اسے سیاسی اور عوامی سطح پر نقصان پہنچا سکتا ہے۔

سندھ کا بجٹ نہ صرف عوام کے لیے ایک سہارا ہے بلکہ پاکستان کے دیگر صوبوں کے لیے ایک قابل تقلید مثال بھی ہے۔

Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry