جمعہ ،5 جون 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

ایران-عراق جنگ: ایک نظر اس بھولی بسری تاریخ پر — سچ، افسانہ اور ہماری غلط فہمیاں

عمار شاہ پنجابی

Editor

11 ماہ قبل

Voting Line

 

ایران عراق جنگ بہت کم لوگوں کو یاد ہوگی، خاص طور پر آج کی سنی شیعہ یوتھ تو اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئی ہوگی۔ برسوں جاری رہنے والی اس جنگ کا آغاز صدام حسین نے کیا تھا۔ اُسے اُس وقت امریکہ، اسرائیل سمیت کم و بیش تمام مغربی اور عرب ممالک کی حمایت حاصل تھی۔ دوسری طرف ایران تنہا تھا۔ عراق اُس وقت (اور شاید آج بھی) امریکی پراکسی تھا، اور اس جنگ کے پیچھے امریکہ اور مغربی تہذیب ہی تھی جو ہزاروں سال سے فارس سے برسرپیکار چلی آ رہی ہے۔

یقیناً موجودہ ایران اس عظیم جغرافیے کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے، مگر یہ اُس جغرافیے میں اپنی وسطی پوزیشن کے باعث آج بھی سولائزیشنل ہیڈکوارٹر کی حیثیت رکھتا ہے۔ مغرب نے فارسیوں سے اپنی روایتی دشمنی کے علاوہ اس جنگ کو اس لیے بھی چھیڑا کہ اس وقت ایران بہت کمزور تھا۔ ملک طویل خانہ جنگی کے بعد خمینی کی سربراہی میں مذہبی انقلاب کی چھتری تلے آ چکا تھا۔ ایران، لبرل ایران سے بنیاد پرست ایران بن رہا تھا۔

مغرب نے دنیا کو اپنے روایتی میڈیا کے ذریعے باور کروایا کہ ایرانی ملائیت دنیا کو تباہ کر دے گی اور اس سے دنیا کا امن خطرے میں پڑ جائے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہی دنوں کولڈ وار میں امریکہ، مغرب اور عرب ممالک روس کے خلاف طالبان کو "مجاہدین اسلام" بنا کر پیش کر رہے تھے۔

خیر، خمینی صاحب اپنے انقلاب اور بے مثل مقبولیت کے زعم میں یہ جنگ لڑے۔ جنگ میں کئی بار طاقت کا ترازو الٹ پلٹ ہوتا رہا۔ کبھی لگتا کہ عراق جنگ جیت رہا ہے، کبھی لگتا کہ ایران۔ دونوں طرف شدید جانی و مالی نقصان ہوتا رہا۔ پھر جنگ ختم ہونے سے کچھ ہی عرصہ پہلے ایران نے زبردست پیش قدمی کی اور عراقی افواج کو پیچھے دھکیلتا چلا گیا۔ ٹھیک سے یاد نہیں مگر ایرانی افواج عراق کے دارالحکومت کے بہت قریب پہنچ چکی تھیں۔ قریب تھا کہ عراق باقاعدہ شکست تسلیم کر لیتا یا صدام حسین اُسی وقت ایرانیوں کے ہاتھوں گرفتار ہو جاتا جیسا کہ بعد میں امریکیوں کے ہاتھوں گرفتار ہوا۔

مگر اچانک جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔ صدام حسین نے امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ کیمیاوی ہتھیاروں سے ایرانی افواج پر حملہ کر دیا۔ یہ وہی ویپنز آف ماس ڈسٹرکشن تھے جن کا بہانہ بنا کر امریکہ نے بعد میں عراق پر حملہ کیا۔

اس کے چند روز بعد ہی خمینی صاحب نے جنگ بندی کا اعلان کر دیا، حالانکہ اس سے پہلے وہ دنیا بھر کی طرف سے کی گئی جنگ بندی کی اپیلیں مسترد کر چکے تھے۔

میں جب ہنر کدہ میں پڑھتا تھا تو وہاں دو بہت خوبصورت اور ہینڈسم ایرانی مصور، اپنے فن پاروں کی نمائش کے لیے آئے تھے۔ ان سے گہری دوستی ہو گئی تھی۔ وہ کمال کے آرٹسٹ تھے اور کافی لبرل خیالات کے حامل تھے۔ جب میں نے ان سے اس جنگ کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ خمینی صاحب کی ضد کی وجہ سے اس جنگ میں ایران کو بے حد نقصان اٹھانا پڑا۔ جنگ کے آخری دنوں میں نوبت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ ایران میں 17 اور 18 برس کے لڑکے دکھائی نہیں دیتے تھے۔ ان کی اکثریت جنگ میں ماری جا چکی تھی۔

اگر خمینی صاحب اُس وقت حکمت اور دانش سے کام لیتے، اور تقریباً جیتی ہوئی جنگ پر ہی گڈ وِل جیسچر کے طور پر جنگ بندی کر دیتے، تو ایران اس جنگ کا فاتح ہی تصور ہوتا۔ مگر اُن کی ہٹ دھرمی نے ایران کو یہ اعزاز حاصل نہ ہونے دیا۔

بہر حال، اس مضمون کو لکھنے کا مقصد محض آج کی نسل تک حقائق منتقل کرنا ہے، بالخصوص پاکستان کی سنی شیعہ یوتھ تک، جو صدام حسین جیسے وار کرمنل ڈکٹیٹر کو ہیرو، اور خمینی صاحب جیسے ہٹ دھرم شخص کو "حکمت و دانش" والا سمجھ بیٹھی ہے۔

— عمار شاہ پنجابی


غیر جانبدار تبصرہ:

یہ مضمون ایک اہم تاریخی تناظر میں ذاتی مشاہدات اور تاثرات کا امتزاج پیش کرتا ہے۔
مصنف نے ایران-عراق جنگ کے محرکات، عالمی طاقتوں کے کردار اور خمینی و صدام کی قیادتوں کا جائزہ اپنے انداز میں پیش کیا ہے۔
ان کا زاویہ نگاہ خاصا جرات مندانہ اور خودمختار سوچ پر مبنی ہے، تاہم تاریخ کا یہ باب مکمل طور پر سمجھنے کے لیے مختلف بیانیوں اور تحقیقی تنقیدی نقطۂ نظر کو بھی ساتھ رکھنا ضروری ہے۔

مثلاً:

صدام کا جارحانہ رویہ اور خطے میں طاقت کی توازن کو بگاڑنے کا اس کا کردار، ایک واضح حقیقت ہے۔

خمینی کی قیادت میں ایران کا نیا انقلابی ریاستی بیانیہ، جو مغرب مخالف تھا، بھی عالمی سطح پر کشیدگی کا باعث بنا۔

جنگ کے دوران دونوں طرف جنگی جرائم، شدید انسانی نقصان، اور نوجوان نسل کی قربانیاں ایک ایسا دکھ بھرا باب ہے جس پر غیر جانبدار تحقیق اور بین الاقوامی کمیشنز نے بھی کام کیا۔

مصنف کا پیغام نوجوان نسل کو تاریخی شعور دینا ہے، جسے سراہا جانا چاہیے۔ تاہم، تاریخ کو صرف خیر و شر کی دو انتہاؤں میں تقسیم کرنے سے گریز کرتے ہوئے، اسے انسانی المیے کے تناظر میں بھی دیکھنا چاہیے۔

ایران–عراق جنگ کے دوران صدام حسین کی طرف سے کیے گئے کیمیکل حملے، جنگ کے سب سے ہولناک اور انسانیت سوز جرائم میں شمار ہوتے ہیں۔ ان حملوں کا مقصد نہ صرف ایرانی فوج کو روکنا تھا بلکہ ایرانی عوام اور جنگی رضاکاروں کے حوصلے توڑنا بھی تھا۔ ذیل میں چند مستند تاریخی حقائق پیش کیے جا رہے ہیں:

کیمیکل حملے: حقائق اور تفصیل

1. ایرانی فوج پر کیمیکل حملے (1986–1988):

صدام حسین کی فوج نے کئی محاذوں پر خردل گیس (Mustard Gas)، سارین (Sarin)، تابون (Tabun) اور VX nerve agent جیسے مہلک کیمیکل ہتھیار استعمال کیے۔

یہ حملے اس وقت کیے گئے جب ایرانی افواج نے جنوبی عراق میں فاو (Fao)، بصرہ کے نواحی علاقوں اور شمالی محاذوں پر کامیاب پیش قدمی کی تھی۔

ایرانی جوانوں میں سے ہزاروں افراد ان حملوں کے نتیجے میں جان کی بازی ہار گئے یا عمر بھر کے لیے معذور ہو گئے۔ بہت سے فوجی اور رضاکار آج بھی ان اثرات کے ساتھ زندہ ہیں۔

📍 2. سب سے مہلک واقعہ — حلبجہ قتل عام (Halabja Massacre), 1988:

یہ حملہ ایران کے خلاف نہیں بلکہ عراق کے اندر کرد شہر "حلبجہ" پر کیا گیا تھا، کیونکہ وہاں کے کردوں نے ایران کی حمایت کی تھی۔

16 مارچ 1988 کو صدام کے طیاروں نے خردل گیس اور اعصابی گیس کا مہلک مکس استعمال کیا۔

5,000 سے زائد عام شہری، جن میں زیادہ تر خواتین، بچے اور بوڑھے تھے، فوراً ہلاک ہوئے، اور 10,000 سے زائد زخمی یا معذور ہو گئے۔

یہ حملہ انسانی تاریخ میں ایک مکمل نسل کشی (chemical genocide) کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔

📍 3. صدام کو یہ ہتھیار کہاں سے ملے؟

حیران کن حقیقت یہ ہے کہ صدام کو یہ کیمیکل ہتھیار بنانے کے لیے:

مغربی یورپی کمپنیاں (خصوصاً جرمنی، فرانس اور نیدرلینڈز)

اور امریکی سائلنٹ حمایت حاصل تھی۔

1984–1988 کے درمیان، CIA کو ان حملوں کا علم تھا، مگر انہوں نے ایران کے خلاف ہونے کی وجہ سے ان پر اعتراض نہیں کیا بلکہ عراقی جنگی منصوبہ بندی میں مدد بھی کی۔

 4. جنگ بندی اور خمینی کی خاموشی:

ان کیمیکل حملوں کے بعد ایران میں شدید عوامی ردعمل پیدا ہوا۔ جنگی تھکن، معاشی تباہی، اور بین الاقوامی تنہائی کے باعث آیت اللہ خمینی نے بالآخر 20 جولائی 1988 کو اقوام متحدہ کی قرارداد 598 کے تحت جنگ بندی قبول کر لی۔

انہوں نے اس فیصلے کو "زہر کا پیالہ پینا" قرار دیا۔

 نتیجہ:

صدام حسین کے کیمیکل حملے بین الاقوامی جنگی جرائم کی بدترین مثال ہیں۔
یہ حملے اس بات کا ثبوت تھے کہ اگر کسی ڈکٹیٹر کو بین الاقوامی سپورٹ حاصل ہو تو وہ انسانیت کے خلاف کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔
یہی وہ "Weapons of Mass Destruction (WMDs)" تھے جن کا بہانہ بنا کر بعد میں 2003 میں امریکہ نے خود عراق پر حملہ کر دیا — حالانکہ وہ حملہ اس وقت کے WMDs کی حقیقت پر نہیں بلکہ سیاسی مفادات پر مبنی تھا۔

Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry