پیپلز پارٹی نے بجٹ کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کردیا
ہم ہر حد تک جائیں گے اور اس احتجاج کی تمام تر ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوگی۔
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما چوہدری منظور احمد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پارٹی حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف ملک گیر احتجاج کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہر حد تک جائیں گے اور اس احتجاج کی تمام تر ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوگی۔
چوہدری منظور نے کہا کہ آج وزیر دفاع کہتے ہیں کہ چیئرمین اور اسپیکر کی تنخواہوں میں اضافہ مالی فحاشی ہے، مگر یہ صرف انہی کی بات نہیں، بلکہ پوری کابینہ، پارلیمنٹیرینز اور عدلیہ سمیت تمام اشرافیہ کی تنخواہوں میں اضافہ اسی زمرے میں آتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوسری جانب کسان پریشان ہے، اور غربت کی شرح کا ذکر عالمی بینک کر رہا ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ دس سال بعد پنشن بند کر دی جائے گی، جو کہ ایک ظالمانہ اقدام ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018ء کی مردم شماری کے مطابق دس کروڑ سے زائد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ حکومت نے ہر شعبے کی تنخواہیں 200 فیصد سے زائد بڑھا دیں۔
چوہدری منظور نے سوال اٹھایا کہ صرف محنت کش کی باری پر حکومت کہتی ہے کہ اضافہ مہنگائی کی شرح کے مطابق ہوتا ہے۔ 6,200 ارب روپے ضائع ہوئے اور پانچ بڑی فصلیں منفی پیداوار میں جا چکی ہیں، زراعت کو تباہ کیا جا رہا ہے تاکہ شہروں میں سستی لیبر میسر آ سکے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے 50 فیصد تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کیا تھا، مگر حکومت کو صرف اشرافیہ کی فکر ہے، عوام کی نہیں۔ 37 ہزار روپے کی کم از کم تنخواہ میں بجلی کا بل ہی پورا ہو جاتا ہے، باقی ضروریات کیسے پوری ہوں؟
No comments yet.