بلاول بھٹو کی قیادت میں سفارتی کامیابیوں پر بیرسٹر عامر حسن کا بیان
بلاول بھٹو کی قیادت میں سفارتی کامیابیوں پر بیرسٹر عامر حسن کا بیان
لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما بیرسٹر عامر حسن نے آج ایک اہم بیان میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پاکستانی وفد کی امریکہ میں سفارتی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ جب قوم عید الفطر کی چھٹیاں منا رہی تھی، تب بھی چیئرمین بلاول بھٹو کی قیادت میں پاکستانی وفد امریکہ میں مصروف عمل تھا۔ بیرسٹر عامر حسن نے زور دے کر کہا کہ بھارت کی طرف سے مسلط کی گئی جنگ کا پاکستان نے دندان شکن جواب دیا اور سفارتی محاذ پر بھی یہ جنگ جیت لی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط مذاکرات اور موثر سفارتکاری کے ذریعے پاکستان نے اپنا موقف دنیا کے سامنے کامیابی سے منوایا۔
انہوں نے کہا کہ موثر سفارتکاری کے لیے خصوصی طور پر چیئرمین بلاول بھٹو کی قیادت میں وفد تشکیل دیا گیا تھا۔ بیرسٹر حسن نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ماضی کی دہائیوں میں پاکستان کی سفارتکاری اتنی موثر نہیں رہی اور بدقسمتی سے ہمارے پاس سفارتی سطح پر کوئی موثر آواز موجود نہیں تھی۔ ان کے مطابق، چیئرمین بلاول بھٹو کی ذاتی ڈپلومیسی کی بدولت اب پاکستان کی سفارتکاری پراایکٹو ہو گئی ہے۔ انہوں نے بلاول بھٹو کے نیو یارک میں دیے گئے بیان "آج میں اقوام متحدہ میں پاکستان کی آواز بنوں گا" کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ چیئرمین نے واضح کیا تھا کہ کسی کو بھی دہشت گردی کے بہانے پاکستانی سرحدوں کی خلاف ورزی نہیں کرنے دی جائے گی۔
بیرسٹر عامر حسن نے بتایا کہ چیئرمین بلاول بھٹو نے نیو یارک میں چین، روس، اقوام متحدہ کے سفراء اور امریکی کانگریس کے اراکین سے ملاقاتیں کیں اور ان کے سامنے پاکستان کا موقف واضح اور مدلل انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ جارح قوتیں ہمیشہ رات کی تاریکی میں حملہ آور ہوتی ہیں، لیکن بھارت کو پاکستان نے بہترین جواب دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان اب 1970 کا پاکستان نہیں بلکہ ایک ایٹمی طاقت ہے اور ہماری مسلح افواج کسی بھی مسلط کردہ جنگ کا جواب دینا جانتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا رچایا ہوا تماشہ کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
بیرسٹر حسن نے کہا کہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ اس کے پاس شہید ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا بیٹا موجود ہے۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ جس مودی کو دہشت گرد قرار دے چکا ہے، وہ پاکستان کو دھمکیاں دے رہا ہے۔ ان کے مطابق، انٹرنیشنل میڈیا اور غیر جانبدار مبصرین بھارت اور پاکستان کی سفارتکاری میں واضح فرق بلاول بھٹو کی شخصیت کو قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین بھٹو جنگ جیتنے کے باوجود مذاکرات کی بات کر رہے ہیں اور دنیا کے بچے بچے کے منہ پر ان کا مودی کے متعلق تاریخی فقرہ "اگر آپ اسرائیل سے مل کر پاکستان کو غزہ بنانا چاہتے ہیں تو ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے" گونج رہا ہے۔ بیرسٹر حسن نے واضح کیا کہ بھارت اسرائیل بننے کی کوشش ناکام ہو جائے گی کیونکہ پاکستان فلسطین نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہونے تک دونوں ممالک میں حقیقی امن قائم نہیں ہو سکتا اور پاکستان سفارتکاری اور روایتی جنگ دونوں محاذوں پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بیرسٹر عامر حسن نے سندھ طاس معاہدے پر سفارتکاری نہ کرنے کے ممکنہ نقصانات سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے پاس مضبوط وزیر خارجہ ہوتا تو پاکستانی موقف دنیا میں اور زیادہ مضبوطی سے پیش ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو نے اقوام عالم کے ذریعے مودی کو واضح امن کا پیغام دیا ہے اور وہ اس وقت پاکستان کی بھرپور نمائندگی کر رہے ہیں۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران انہیں کبھی پاکستان کا دفاع کرتے نہیں دیکھا گیا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر یہ جنگی حکمت عملی اتفاق فاؤنڈری میں تیار ہوتی تو نواز شریف کو ضرور فائدہ ہوتا۔ بیرسٹر حسن نے پنجاب کی وزیر اطلاعات پر الزام لگایا کہ وہ نوکری چاکری میں حد سے زیادہ جھوٹ بولتی ہیں۔ انہوں نے نواز شریف پر تنقید جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وہ تین بار وزیر اعظم رہے لیکن کبھی مدبر ثابت نہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب چاہتے تو گھر آ کر مودی کو اپنی سفارتکاری کے لیے استعمال کرتے۔ اختتام پر بیرسٹر عامر حسن نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف جہاندیدہ سیاستدان ہیں، اسی لیے انہوں نے سفارتکاری کے لیے بلاول بھٹو کی خدمات
No comments yet.