چائلڈ میرج بل/ پاکستان پیپلزپارٹی ہیومن رائٹس سیل کی جنرل سیکرٹری ملائکہ رضا نے اس تاریخی قدم کو خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کی بڑی جیت قرار دے دیا
چائلڈ میرج بل پر دستخط سے اب قانونی طور پر 18 سال سے کم عمر کی شادیوں پر پابندی عائد ہو گئی ہے جو کہ ایک انقلابی اقدام ہے۔
اسلام آباد - صدر آصف علی زرداری کے چائلڈ میرج بل 2025 پر دستخط کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی ہیومن رائٹس سیل کی جنرل سیکرٹری ملائکہ رضا نے اس تاریخی قدم کو خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کی بڑی جیت قرار دیا ہے۔
ملائکہ رضا نے اپنے ردعمل میں کہا کہ صدر آصف علی زرداری کا یہ تاریخی قدم ملک میں نئی اصلاحاتی راہیں کھولے گا۔ چائلڈ میرج بل پر دستخط سے اب قانونی طور پر 18 سال سے کم عمر کی شادیوں پر پابندی عائد ہو گئی ہے جو کہ ایک انقلابی اقدام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کم عمری کی شادیوں کی روک تھام اور خواتین و بچوں کے حقوق کے تحفظ کی یہ بڑی جیت ہے۔ یہ قانون نہ صرف بچیوں کو تحفظ فراہم کرے گا بلکہ انہیں تعلیم اور صحت کی نئی امید بھی دے گا۔
پی پی پی ہیومن رائٹس سیل کی جنرل سیکرٹری نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی اور سماجی دباؤ کے باوجود صدر مملکت نے بچیوں کے مستقبل کو ترجیح دی ہے۔ یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کس طرح مشکل وقت میں بھی اصولوں پر قائم رہتی ہے۔ ملائکہ رضا نے کہا کہ چائلڈ میرج کے خلاف قانون سازی سے اب بچیوں کو تعلیم حاصل کرنے کا بہتر موقع ملے گا۔ جب بچیاں اپنی تعلیم مکمل کر کے شادی کریں گی تو وہ نہ صرف اپنی بلکہ اپنے خاندان اور معاشرے کی بہتری میں بھی کردار ادا کر سکیں گی۔
انہوں نے وفاقی سطح پر اس تاریخی اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر صوبے بھی اس قسم کی قانون سازی کی جانب بڑھیں۔ سندھ نے پہلے سے ہی اس سلسلے میں پیش قدمی کی ہے، اب پنجاب اور خیبر پختونخوا کو بھی اسی راہ پر چلنا چاہیے۔ ملائکہ رضا نے کہا کہ یہ قانون صرف اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری تک محدود نہیں رہ سکتا۔ پاکستان کے تمام بچے، چاہے وہ کسی بھی صوبے میں ہوں، اس قسم کے تحفظ کے مستحق ہیں۔
پی پی پی ہیومن رائٹس سیل کی جنرل سیکرٹری نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم صدر پاکستان آصف علی زرداری، سینیٹر شیری رحمان اور ایم این اے شرمیلا فاروقی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ یہ قانون ان کی انتھک محنت اور عزم کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خاص طور پر سینیٹر شیری رحمان نے اس بل کو سینیٹ میں پیش کرنے میں بے مثال جرأت کا مظاہرہ کیا۔ مخالف عناصر کے دباؤ کے باوجود وہ اپنے موقف پر قائم رہیں اور آخر کار کامیابی حاصل کی۔
ملائکہ رضا نے کہا کہ قانون سازی تو ہو گئی، اب اصل چیلنج اس کے نفاذ میں ہے۔ ہمیں معاشرتی سطح پر بھی لوگوں کو آگاہ کرنا ہوگا کہ کم عمری کی شادیاں کیوں نقصان دہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور بیداری کے ذریعے ہم اس قانون کو مؤثر طریقے سے نافذ کر سکتے ہیں۔ والدین کو سمجھانا ہوگا کہ بچیوں کی تعلیم اور صحت ان کی ترجیح ہونی چاہیے، نہ کہ جلدی شادی کر دینا۔
پی پی پی ہیومن رائٹس سیل کی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ یہ قانون پاکستان کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ جب ہماری بچیاں تعلیم یافتہ ہوں گی، تو وہ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گی۔ ملائکہ رضا نے اپنے بیان کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر شہید بے نظیر بھٹو تک، اور اب صدر آصف علی زرداری تک، یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہ قانون اس بات کا ثبوت ہے کہ پی پی پی اپنے اصولوں پر قائم ہے اور عوام کی فلاح کے لیے کام کر رہی ہے۔
No comments yet.