جمعہ ،5 جون 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

یومِ تکبیر - عزم، قربانی اور خودمختاری کی  تابندہ علامت

تحریر: عثمان اعوان

Editor

ایک سال قبل

Voting Line

28 مئی 1998 کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا ناقابلِ فراموش سنگِ میل ہے، جس نے دنیا کو یہ غیر مبہم پیغام دیا کہ پاکستان نہ صرف ایک خودمختار اور باوقار ریاست ہے بلکہ اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کی صلاحیت اور جرأت بھی رکھتا ہے۔ یہ دن صرف ایٹمی دھماکوں کی سالگرہ نہیں بلکہ ایک قوم کے غیرمتزلزل عزم، بے مثال قربانیوں اور مدبرانہ قیادت کی لازوال داستان ہے۔ اس دن پاکستان نے بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کا جواب چھ دھماکوں سے دے کر جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن بحال کیا، اور دنیا کو باور کرایا کہ ہماری خودمختاری کوئی سودے بازی کا موضوع نہیں۔ لیکن اس تاریخی کامیابی کی بنیاد کئی دہائیاں قبل رکھ دی گئی تھی، جب ایک عظیم رہنما نے یہ طے کیا کہ دفاعِ وطن کسی مصلحت کا محتاج نہیں، بلکہ ایک قومی فرض ہے۔
1972 میں جب پاکستان مشرقی پاکستان کے سانحے سے دوچار تھا، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور میں پاکستانی سائنسدانوں کا ایک اجلاس بلایا اور اس موقع پر اُنہوں نے تاریخی الفاظ ادا کیے: "ہم گھاس کھائیں گے، فاقے کریں گے، لیکن ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔"یہ کوئی سیاسی نعرہ نہیں، بلکہ ایک قومی عہد تھا۔ اس کے بعد انہوں نے کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری کے قیام کی منظوری دی، جہاں ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور دیگر سائنسدانوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی۔ بھٹو صاحب نے نہ صرف بین الاقوامی دباؤ کو برداشت کیا بلکہ خود کو اس پروگرام کے لیے وقف کر دیا۔ وہ جانتے تھے کہ ایک مضبوط دفاع ہی قوم کی بقا کی ضمانت ہے، اور وہ ہر قیمت پر یہ ہدف حاصل کرنا چاہتے تھے۔
شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے والد کے وژن کو زندہ رکھا اور پاکستان کے دفاع کو مزید جدید خطوط پر استوار کیا۔ 1988 میں وہ جب پہلی مرتبہ وزیراعظم بنیں، تو پاکستان کا ایٹمی پروگرام فیصلہ کن مرحلے میں تھا۔ محترمہ نے اسے نہ صرف جاری رکھا بلکہ عالمی دباؤ کے باوجود اس کی رفتار تیز رکھی۔ ایک اور ناقابلِ فراموش کارنامہ یہ ہے کہ اُنہوں نے پاکستان کو میزائل ٹیکنالوجی دلوانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اُس وقت پاکستان کو ایسے جدید ہتھیاروں کی شدید ضرورت تھی جو دور مار کر سکیں، اور بھارت کی بڑھتی ہوئی عسکری طاقت کا جواب دے سکیں۔ محترمہ نے نہایت خفیہ اور حکمت عملی کے تحت چینی ماہرین اور دیگر ذرائع سے تعاون حاصل کیا، اور پاکستان کو شاہین اور غوری جیسے میزائل پروگرامز کی بنیاد فراہم کی۔ ذرائع کے مطابق، ان حساس معاملات پر فیصلہ کرتے وقت محترمہ کو نہ صرف عالمی طاقتوں کی دھمکیوں کا سامنا تھا، بلکہ ملک کے اندرونی سیاسی دباؤ بھی موجود تھا، لیکن وہ ڈٹی رہیں۔ اُنہوں نے ایک بار کہا تھا:"ہماری سالمیت اور دفاع کسی کی خیرات نہیں، یہ ہمارا حق ہے، اور ہم اسے حاصل کر کے رہیں گے۔"
2008 میں صدر آصف علی زرداری نے جب عہدہ سنبھالا تو پاکستان اندرونی خلفشار، دہشت گردی، اور عالمی دباؤ کا شکار تھا۔ ایسے وقت میں ایٹمی اثاثوں کی حفاظت اور عالمی برادری میں پاکستان کا موقف مضبوطی سے پیش کرنا ایک بڑی ذمے داری تھی۔ صدر زرداری نے "نیشنل کمانڈ اتھارٹی" کے نظام کو مزید فعال اور شفاف بنایا، اور دنیا کو یقین دلایا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ ترین ہاتھوں میں ہیں۔ اُنہوں نے نہ صرف عسکری قیادت کے ساتھ مکمل ہم آہنگی رکھی بلکہ بین الاقوامی کانفرنسز میں پاکستان کے دفاعی مؤقف کا کھل کر دفاع کیا۔ 
جب بھارت نے مئی 1998 میں ایٹمی دھماکے کیے، تو پاکستان پر عالمی دباؤ شدید ہو گیا۔ امریکی صدر بل کلنٹن کی جانب سے پاکستان کو اربوں ڈالر کی پیش کش کی گئی کہ اگر وہ جواباً دھماکے نہ کرے تو اُس کے اقتصادی مسائل حل کر دیے جائیں گے۔ وزیراعظم نواز شریف اس دباؤ میں کئی دن ہچکچاتے رہے۔ ان کے قریبی مشیروں اور عالمی دباؤ کے حامی عناصر نے اُنہیں روکنے کی کوشش کی۔ مگر پاکستان کی عسکری قیادت، اسٹیبلشمنٹ، عوامی رائے عامہ، اور محب وطن حلقوں کا دباؤ اتنا شدید ہو گیا کہ بالآخر 28 مئی کو چاغی کے پہاڑوں میں چھ ایٹمی دھماکے کر دیے گئے۔ یہ حقیقت آج بھی تاریخی طور پر بیان کی جاتی ہے کہ اگر صرف نواز شریف کی ذاتی رائے پر ہوتا، تو شاید پاکستان اس دن ایٹمی قوت نہ بنتا۔ لیکن ملکی اداروں، سائنسدانوں، اور عوامی عزم نے اس فیصلے کو ممکن بنایا۔ 
28 مئی کو ہونے والے ایٹمی تجربات برسوں کی شب و روز محنت، قومی عزم، اور قیادت کی دور اندیشی کا عملی مظہر تھے۔ یہ دن ہمیں شہید ذوالفقار علی بھٹو کے جرات مندانہ ویژن، محترمہ بینظیر بھٹو کی تدبرانہ حکمت عملی، صدر آصف علی زرداری کی مدبرانہ بصیرت، اور قوم کے اجتماعی ارادے کی یاد دلاتا ہے۔ یومِ تکبیر کوئی محض تاریخی جشن نہیں بلکہ ہماری قومی خودی، قربانی اور اتحاد کی علامت ہے۔ آج جب پاکستان کو ایک بار پھر داخلی و خارجی چیلنجز کا سامنا ہے، ہمیں اسی جذبے، اسی استقلال، اور اسی ولولے کی ضرورت ہے جس نے ہمیں ایک ایٹمی طاقت بنایا۔ ہماری نئی نسل کو یہ باور کروانا ہوگا کہ دفاع صرف اسلحے سے نہیں، بلکہ ویژن، قربانی، اور قیادت سے ہوتا ہے۔
یومِ تکبیر زندہ باد
پاکستان ہمیشہ پائندہ باد

Comments
Muhammad Anzar ایک سال قبل

G A Bhutto,s

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry