جمعہ ،5 جون 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

’’سدبلھےنوں میری دھمال ویکھے’’:تجمل کلیم کےلیےحرف تعزیت

ناصر عباس نیّر

Editor

ایک سال قبل

Voting Line


تجمل کلیم کے انتقال کی خبر نے سوگوار کردیا ہے۔ موت ہر لمحہ ، ہر جگہ ہے ، اس کے باوجود یہ ہم انسانوں کے لیے روزمرہ کی عام ، نظرانداز کر دیے جانے کے قابل حقیقت نہیں بن پاتی ، ہم ہر موت کو  گویا نئے سرے سے تجربہ کرتے ہیں اور ہم پر اوّلین غم کی کیفیت طاری ہوتی ہے۔

 ایک تخلیق کار کی موت تو اور بھی غمناک ہوا کرتی ہے۔ تخلیق کرنے کے کئی اسباب ہیں، ان میں ایک بڑا سبب، فنا کے خلاف انسان کی جدوجہد بھی ہے۔انسان گزر جاتاہے، ا س کی  جدوجہد کی کہانی اور اس کا ثمر باقی رہ جاتا ہے۔
 
 شاعروں، تخلیق کاروں کے خاندان میں وہ سب ہی لوگ شامل ہوتے ہیں جو انھیں پڑھتے اور ان کے لفظوں کی تخلیق کردہ دنیا میں سانس لینے لگتے ہیں۔

 کل بانو مشتاق کے ایک انٹرویو میں ایک جملہ تھا کہ دنیا میں ہر جگہ تقسیم ہے مگر  ادب واحد سیکولر سپیس ہے جہاں ہم ایک دوسرے کے ذہنوں میں رہ سکتے ہیں، خواہ یہ قیام چند صفحات تک ہی ہو۔ لیکن یہ چند صفحات کا قیام، کسی تفریحی قیام کی مانند سرسری اور وقتی اثر کا حامل نہیں ہوتا بلکہ کسی قدیم ، پراسرار جگہ پر قیام، کسی گہرے قرب کی حامل روح کے ساتھ قیام کی مانند ہوا کرتا ہے۔ا س کا اثر دیر تک رہتا ہے۔
 
تجمل کلیم کی شاعری بھی ایک حقیقی سیکولر سپیس ہے۔ یہ لکھی پنجابی میں گئی ہے،مگر یہ ان سب کے لیے ہے، جو شاعری کی زبان سمجھتے ہیں۔

 شاعری کی زبان، ہم انسانوں کی گھٹی  میں موجود ہے۔ ہوسکتاہے،ہم شاعر کی زبان نہ سمجھتے ہوں، مگر اس کی شاعری کی زبان ہم سمجھ لیا کرتے ہیں۔  اس لیے کہ شاعری ،اپنی زبان خود ہم پر راز کھولتی ہے،اورہم قدیم زمانوں سے شاعری کےلیےایک گہری انسیت اپنےاندررکھتےہیں۔ 

تجمل کلیم کی شاعری میں دکھ اور جمالیات کاعجب امتزاج ہے۔ ایک مسلسل دکھ، اس دکھ کا جسارت مندانہ مگر غلبہ آفریں قسم کا اظہار، دکھ کاباعث بننے والوں سے رنج آمیز شکوہ اور کہیں کہیں واضح انداز میں مزاحمت موجود ہے۔رنج آمیزشکوےنےان کی شاعری کوایک عجب کیفیت کاحامل بنادیاہے۔دل کوچیردینےوالی کیفیت۔

 اہم بات یہ ہے کہ وہ  کسی الٹرا جدید شاعر کی مانند دکھ میں کسی جمالیات کو دریافت نہیں کرتے....جو بالآ خر دکھ کو جواز دینے کی ایک صورت ہوا کرتی ہے،اور دکھ کا باعث بننے والوں کو دکھ کے ڈسکورس سے خارج کرنے کاذریعہ ہوا کرتی ہے.... بلکہ دکھ کو شاعرانہ جمالیات کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔

ان کی جمالیات ایک طرف  پنجابی (دیہی وشہری بہ یک وقت ) ثقافت ،جس کا کینن  بلھے شاہ محسوس ہوتا ہے، سے ماخوذ ہے، دوسری طرف کم سے کم لفظوں میں زیادہ  سے زیادہ کہنے سے عبارت ہے۔ چھوٹی بحر میں ان کی غزلیں، بڑے معانی کو پیش کرتی محسوس ہوتی ہیں۔ وضاحت سے زیادہ اشارات ہیں ،اور ان کے لفظوں اور مصرعوں میں خالی جگہیں ہیں  جو قاری کے تخیل کو مہمیز کرنے والی ہیں۔ 
 
تجمل کلیم  منفرد انداز میں  شعرپڑھا کرتے تھے۔ شعر کے ایک ایک لفظ میں موجود معنی و احساس کو اپنی پڑھت سے ، گویا زندہ کردیا کرتے تھے۔ شعر پڑھنے کے دوران، ان کا پورا وجود شعر میں گویا ڈھل  جاتا تھا۔
 
ان کی غزلوں سے چند منتخب اشعار۔ ان میں سے کتنے ہی اشعار ، ہمارے عہد کی زندگی پر استغاثے کی حیثیت رکھتے ہیں۔
تجمل کلیم کےدنیابھرمیں پھیلےخاندان سےتعزیت۔

جیہڑے دن توں کنڈ کرنی اے 
اوسے دن میں مر جانا ای

لبھو کون اے لُٹن والا
جو وی اے، تقدیر نئیں ہندی

اوہ بمب والا شہید سمجھاں؟
تے ایہہ وچارے مرے نیں جیہڑے

تُوں صرف لاشاں ویکھا ریہا ایں
تے ساڈے چُلہے ٹھرے نیں جیہڑے

ربا تینوں تھوڑ اے کیہڑی
تیتھوں وی نہیں رجدے بندے

سُجے پیر مجبوری دے چھالیاں توں
اُتوں عشق نے آکھیا، لگ اگے

میرا سینہ دم کرواؤ
میرے اندروں ڈر نئیں جاندا

اتھرو کیہڑے بھارے نیں
ایویں سُٹی جاندے او

ماواں کد تک جین گیاں
رُکھ تے پُٹی جاندے او

لٹھے دی تھاں پاٹے لیرے
چور قبر نوں پُٹ کے رویا

میں نچیاں جگ دے سُکھ پاروں
سد بُلھے نوں میری دھمال ویکھے

میرے چھپر نے اڈ ای جانا اے 
ایہہ تیرا آسمان تھوڑا اے 
ناصر عباس نیّر
۲۳ مئی ۲۰۲۵ء

Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry