جمعہ ،5 جون 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

علماءکا سینٹ کے کم عمری کی شادی پر پابندی کے بل کو مسترد کرنے کا اعلان، 'یہ شریعت محمدی ﷺ اور آئین پاکستان کے خلاف ہے

علماءکا اتحاد: کم عمری کی شادی پر پابندی کا بل شریعت و آئین کے منافی"

Editor

ایک سال قبل

Voting Line
 
 
 
 
 
 
 

لاہور(سیاسی رپورٹڑ)تمام مکاتب فکر کے علماءنے سینٹ سے منظور کردہ کم عمری کی شادی کی ممانعت کے بل کو کو شریعت محمدی ﷺ، قرآن و سنت اور اسلامی خاندانی نظام پر کھلا حملہ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ شریعت مطہرہ کے مطابق نکاح کے لیے عمر کی نہیں بلکہ بلوغت کی شرط ہے۔ شریعت میں نکاح کے جواز کے لیے بلوغت اور رضامندی کو بنیاد بنایا گیا ہے،18 سال سے کم عمر کی شادی پر پابندی خلافِ اسلام اور شرم ناک ہے۔ان خیالات کا اظہار علماءملی مجلس شرعی کے سیکرٹری اطلاعات حافظ عمران طہاوی،جماعت اہلحدیث پنجاب کے امیر حافظ عبدالوحیدشاہد روپڑی،جے یو آئی (ف) کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا امجد خان،جے یو پی کے مرکزی نائب صدر پیر صفدر شاہ،،رابطةالعلماءپاکستان کے صدر مولانا عبدالرب امجد،مرکزی جمعیت اہلحدیث کے مرکزی رہنماعلامہ معتصم الٰہی ظہیر، مرکزی جے یو آئی کے سرپرست اعلیٰ مولانا محمد اجمل قادی،جامعہ علمیہ لاہور کے مہتمم مفتی محمد کریم خان،مرکزی مسلم لیگ پنجاب کے صدر چوہدری محمدسرور،جمعیت اہلحدیث پاکستان کے صدر علامہ ہشام الٰہی ظہیر ،جے یو پی کی سپریم کونسل کے چیئر مین علامہ قاری زوار بہادر اورمکتبہ دار لسلام انٹرنیشنل کے چیئر مین مولانا عبدالمالک مجاہد’نے’ایمراءو بلدیات “ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ حافظ عمران طہاوی، حافظ عبدالوحیدشاہد روپڑی،اورل مولانا امجد خان نے کہا کہ پاکستان میں 1973ءکے آئین کے مطابق شریعت اسلامی کے خلاف قانون سازی نہیں ہو سکتی،حکومت جان بوجھ کر حالات خراب کرنا چاہتی ہے، قوم بڑی مشکل سے متحد ہوئی ہے ،کم عمری کی شادی سے متعلق شریعت مخالف بل کا منظور ہونا اسلامی احکام کی کھلی خلاف ورزی ہے اورسینیٹ میں منظور شدہ کم عمری کی شادی کا بل شریعتِ محمدیﷺ سے متصادم ہے۔ اور1973 ءکے آئین کی خلاف ورزی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ مبارک میں صحابہ و صحابیات رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شادیاں کم عمری میں ہوئیں، اور یہ عمل قرآن و سنت کی روشنی میں جائز تھا۔مولانا عبدالرب امجد،علامہ معتصم الٰہی ظہیر، مولانا محمد اجمل قادی نے کہا کہ حکمران خلاف سریعت قانونسازی پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں،شرعیت میں عمر کی حد مقرر نہیں بلکہ بلوغت شرط ہے،یہ قانون اسلامی خاندانی نظام کے خلاف ہے، اسے فوری ختم کیا جائے اس قسم کے حساس دینی و معاشرتی امور میں قانون سازی سے قبل اسلامی نظریاتی کونسل سے رجوع کرنا ضروری تھا۔ علما کی رائے کو نظرانداز کر کے شریعت کے برخلاف فیصلہ صادر کرنا نہ صرف دینی روایات بلکہ آئینی تقاضوں کے بھی خلاف ہے۔مفتی محمد کریم خان چوہدری محمدسرور،اورر علامہ ہشام الٰہی ظہیر نے کہا کہ دینِ اسلام میں بلوغت کو نکاح کا معیار قرار دیا گیا ہے، اور جب کوئی لڑکا یا لڑکی بالغ ہو جائے اور اسے نکاح کی ضرورت ہو تو اس پر نکاح فرض ہو جاتا ہے تاکہ وہ زنا اور دیگر معاشرتی برائیوں سے محفوظ رہ سکیں۔ بلوغت کے بعد نماز فرض ہو جاتی ہے، تو نکاح کو مو ¿خر کرنا شریعت کی صریح خلاف ورزی ہے، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے پاس کردہ بل جس کے مطابق نکاح رجسٹرار 18 سال سے کم عمر جوڑوں کے نکاح کا اندراج نہ کرنے کا پابند ہو گا اور ایسا کرنے پر لڑکے، نکاح رجسٹرار اور گواہوں کو قابلِ دست اندازی جرم قرار دے کر سب پر بامشقت قید اور جرمانے کی سزا عائد ہوگی، پھر یہ کہ نکاح کو بھی فاسد قرار دیا جائے گا۔ یہ سب قرآن و سنت کی صریح خلاف ورزی ہے۔علامہ قاری زوار بہادر اورمکتبہ دار لسلام انٹرنیشنل کے چیئر مین مولانا عبدالمالک مجاہداور پیر صفدر شاہ نے کہا کہ اسلامی معاشرہ نکاح کے ذریعے طہارت اور تحفظ کا ضامن بنتا ہے، جبکہ یہ قانون معاشرتی بگاڑ اور اخلاقی تباہی کو دعوت دے رہا ہے۔ مطالبہ کیا کہ یہ بل فی الفور واپس لیا جائے اور ایسی قانون سازی صرف اسلامی نظریاتی کونسل کی منظوری سے مشروط کی جائے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بننے والا ملک ہے اور پاکستان میں ایسے بل کا منظور ہونا افسوسناک امر ہے۔ متنازعہ بل سینٹ اور قومی اسمبلی سے فی الفور واپس لیا جائے۔

Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry