کم عمری کی شادی نسلوں کی تباہی
تحریر : محمد ضرار یوسف
بیٹیوں کی کم عمری کی شادی صرف ایک بیٹی کی زندگی متاثر نہیں کرتی، بلکہ یہ ایک ایسے دائرے کا آغاز کرتی ہے جو نسل در نسل مسائل اور محرومیوں کو جنم دیتا ہے۔ اس میں جسمانی و ذہنی صحت پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں نابالغ لڑکیوں کے لیے حمل، زچگی اور بچوں کی پرورش نہ صرف جسمانی طور پر نقصان دہ ہے بلکہ ان کی ذہنی نشونما پر بھی برا اثر ڈالتی ہے۔ کم عمر دلہنوں کی تعلیم کا خاتمہ کا خاتمہ ہو جاتا ہے ۔ ناخواندہ اور کم عمر ماؤں کی وجہ سے نہ صرف گھر کا ماحول متاثر ہوتا ہے بلکہ پوری قوم کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ کم عمر ماؤں کے بچے اکثر کمزور، بیمار اور تعلیم سے محروم رہتے ہیں، جس سے ایک نئی نسل بھی محرومیوں کا شکار ہو جاتی ہے۔
قانونی طور پر اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادی جرم قرار دینا ملک کو صحتمند قوم مہیا کرنا ہے ۔ اور تقریبا تمام مذاہب بھی بالغ ہونے اور رضا مندی کو نکاح کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں ۔
بچیوں کے مسائل کو دیکھتے ہوئے اور قوم کی صحت تندرستی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومتیں اہم فیصلے کرتی ہیں ۔ اور ایک طبقہ حقائق سے نظریں چرا کر بچیوں کی معصومیت سے دشمنی کرتے ہوئے ان کی نابالغ عمر میں ہی شادی کرنے کی وکالت کرتا ہے ۔ یہ وکالت کرنے والا طبقہ خود کو مذھبی کہلواتا ہے ۔ اخلاقی ، قانونی ، مذھبی اور حفظان صحت کے قوانین اٹھارہ سال سے کم عمر بیٹی کی شادی کی مخالفت کرتے ہیں ۔
اس قومی مسلئہ پہ حکومت پاکستان اور صوبائی حکومتوں نے حل کرنے کی کوشش کی کہ بچیوں کی شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی جا سکے اس حوالے سے وفاقی اور مختلف صوبائی حکومتوں نے کوششیں کی ماسوائے صوبائی حکومت کے پی کے اور حکومت بلوچستان کے جو آج بھی چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929پہ ڈھیلا ڈھالا عملدرآمد کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔
سب سے پہلے سندھ اسمبلی نے 28 اپریل 2014 کو "چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ" منظور کیا۔ جس کے تحت لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی گئی۔ یہ قانون کم عمری کی شادی کو قابل سزا جرم قرار دیتا ہے ۔ جس میں تین سال تک قید اور جرمانہ شامل ہے۔
پھر پاکستان سینٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے 2018 میں "پابندی ازدواج اطفال ترمیمی بل" پیش کیا۔ جسے 30 اپریل 2019 کو سینیٹ نے منظور کیا۔ اس بل کے تحت شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی گئی تھی ۔
پنجاب اسمبلی میں بھی لڑکیوں کی شادی کی عمر 16 سے بڑھا کر 18 سال کرنے کی قراردادیں پیش کی گئیں ۔ لیکن یہ صرف قراردادیں تھیں، قانون سازی نہیں ہوئی ۔
وفاقی سطح پر، چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929 کے تحت لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر 16 سال اور لڑکوں کی 18 سال مقرر تھی ۔ تاہم، 18ویں آئینی ترمیم کے بعد یہ معاملہ صوبوں کے دائرہ اختیار میں آ گیا ۔ جس کی وجہ سے مختلف صوبوں میں مختلف قوانین نافذ ہیں۔
پنجاب میں لڑکیوں کی کم از کم شادی کی عمر 16 سال مقرر ہے اس قانون میں ترمیم کی تجویز کئی سالوں سے زیر غور ہے ۔ اپریل 2024 میں چائلڈ پروٹیکشن ویلفیئر بیورو نے پنجاب حکومت کو ایک نیا بل تجویز کیا ہے ۔ جس میں لڑکیوں کی شادی کی عمر 18 سال کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ یہ بل فی الحال منظوری کے مراحل میں ہے۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں اب بھی چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929 نافذ العمل ہے ۔ جس کے تحت لڑکیوں کی شادی کی عمر 16 سال ہے۔ جبکہ خیبر پختونخوا اسمبلی نے 2016 میں شادی کی عمر 18 سال کرنے کا بل پیش کیا تھا ۔ لیکن وہ منظور نہیں ہو سکا۔
سندھ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2013 کے خلاف وفاقی شرعی عدالت میں دائر درخواست کے جواب میں
وفاقی شرعی عدالت نے مارچ 2023 میں فیصلہ دیا کہ شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنا اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے ۔ کیونکہ یہ لڑکیوں کو تعلیم مکمل کرنے اور ذہنی پختگی حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
جولائی 2024 میں پاکستان نے عیسائی برادری کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے کا قانون منظور کیا، تاکہ کم عمری کی شادیوں اور جبری تبدیلی مذہب کے خلاف تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
حکومت پاکستان نے لڑکیوں کی شادی کے لیے کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنا ایک اہم سماجی، طبی، اور اخلاقی فیصلہ ہے ۔ جس کی حمایت اسلامی اصولوں اور عمومی مصلحت کی بنیاد پر کی جانی چاھئے ۔
اسلام میں شادی کی ایک بنیادی شرط صرف بلوغت (puberty) نہیں ہے بلکہ اس کے ہمراہ عقل و شعور ہونا بھی بہت ضروری ہے ۔ بلکہ نکاح کے مقاصد کو سمجھنے، حقوق و فرائض ادا کرنے کی اہلیت بھی ضروری ہے۔ اس کے لئے قرآن میں سورہ النساء کی آیت نمبر 6 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔
"وَابْتَلُوا الْيَتَامَىٰ حَتَّىٰ إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ..."
(النساء 6)
ترجمہ: "اور یتیموں کو آزماتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں۔"
اس آیت میں نکاح کی عمر کے ساتھ عقل کی آزمائش کی بات ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف جسمانی بلوغت کافی نہیں بلکہ ذہنی پختگی بھی شادی نکاح کی اہم شرط ہے۔
کم عمر ماؤں کے حمل کے دوران پیچیدگیوں کی وجہ سے کم عمر ماں اور بچے کی شرح اموات میں اضافہ کے ساتھ کم عمر لڑکیاں عام طور پر ذہنی طور پر ناپختہ ہوتی ہیں اور گھریلو ذمہ داریوں کو سنبھالنے کے قابل نہیں ہوتیں۔ اور بیٹیوں کی تعلیمی اور سماجی فلاح کے لئے 18 سال کی عمر تک تعلیم حاصل کرنا لڑکیوں کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ باشعور شہری بنیں۔ تعلیم یافتہ خواتین بہتر مائیں اور شریک حیات بنتی ہیں۔
جدید دور کے اسلامی اسکالرز جیسے مولانا ابواعلی مودودی، شیخ یوسف القرضاوی، اور دیگر کا موقف ہے کہ شریعت میں کوئی مخصوص عمر مقرر نہیں کی گئی ۔
دنیا کے مختلف اسلامی علماء اور مفکرین نے مختلف اوقات میں شادی کے لیے کم از کم عمر 18 سال یا اس کے آس پاس کی عمر کو مناسب قرار دیا ہے۔ ان علماء کی رائے عموماً موجودہ زمانے کے سماجی، طبی، تعلیمی اور نفسیاتی حقائق کی روشنی میں دی گئی ہے، نہ کہ صرف فقہی متون کی بنیاد پر رائے دی
یہاں کچھ اہم علماء اور مفکرین کا ذکر کر رہا ہوں ۔ جنہوں نے شادی کے لیے کم از کم عمر (اکثر 18 سال) کی حمایت کی ہے ۔
شیخ محمد الغزالی (مصر)
مصری مصلح اور معروف عالم دین ہیں جنہوں نے تعلیم اور بلوغ فکری کی بنیاد پر کم عمری میں شادی کے خلاف بات کی۔ وہ سمجھتے تھے کہ لڑکی کو شادی کے لیے صرف جسمانی بلوغ نہیں، بلکہ ذہنی و تعلیمی پختگی بھی ضروری ہے۔
شیخ یوسف القرضاوی (قطر) نے مختلف مواقع پر کہا کہ اگر ریاست 18 سال کی عمر کو شادی کے لیے قانون بناتی ہے تو یہ شریعت کے خلاف نہیں، بلکہ شریعت کے مقاصد (مقاصد الشریعہ) کے مطابق ہے، کیونکہ اس میں لڑکی کی فلاح اور تحفظ کا خیال رکھا گیا ہے۔
مولانا وحید الدین خان (بھارت)
نے زور دیا کہ تعلیم اور شعور کی بنیاد پر شادی ہونی چاہیے۔ ان کا مؤقف تھا کہ جلد بازی میں کی جانے والی شادیوں سے سماجی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
مولانا طاہر اشرفی (چیئرمین پاکستان علما کونسل) نے 18 سال کی عمر کے قانون کی مخالفت نہیں کی بلکہ اس پر بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کی۔
مولانا امین شہیدی اور کچھ شیعہ علما نے بھی کہا کہ اگر ریاست عوامی مفاد کے تحت کوئی عمر مقرر کرتی ہے تو وہ شریعت سے متصادم نہیں ہے۔
جامعہ الازہر (مصر) نے 18 سال کی عمر کو شادی کے لیے مناسب سمجھا ہے اور مصر میں اسی کے مطابق قانون سازی کی گئی۔ الازہر کے مفتیان نے کہا کہ یہ عمر کی پابندی شریعت کے اصولوں کے خلاف نہیں۔
اسلام میں شادی کے لیے "بلوغ" (جسمانی اور ذہنی بلوغت) کو بنیاد بنایا گیا ہے، لیکن اس کی تعیین وقت اور حالات کے اعتبار سے بدل سکتی ہے۔ اس لیے جدید علما "مقاصد شریعت" یعنی انسانی فلاح، تحفظ، اور عدل کو مدنظر رکھتے ہوئے قانونی عمر کی تعیین کو درست سمجھتے ہیں۔
کم عمری کی شادی کے کئی طبی (میڈیکل) نقصانات ہوتے ہیں، خصوصاً جب لڑکی جسمانی، ذہنی اور جذباتی طور پر ماں بننے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ یہ نقصانات نہ صرف لڑکی کی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ بچے کی صحت اور خاندانی زندگی پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
نوعمر لڑکیوں کے جسم پوری طرح بالغ نہیں ہوتے، اس لیے حمل اور زچگی کے دوران پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
ماؤں کی شرح اموات (Maternal Mortality) کم عمر شادیوں میں زیادہ ہوتی ہے۔
زچگی کی پیچیدگیاں (Obstetric Complications)
قبل از وقت ولادت (Preterm birth)
کم وزن بچہ پیدا ہونا (Low birth weight)
ولادت کے دوران شدید خون بہنا (Postpartum hemorrhage)
کولہے کی ہڈیوں کی مکمل نشوونما نہ ہونے کی وجہ سے مشکل زچگی میں مبتلا ہونا ۔
کم عمر ماؤں کے بچے اکثر کمزور، بیمار یا غذائی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ ان بچوں میں نوزائیدہ اموات (Infant Mortality) کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔
کم عمر لڑکیوں کو ازدواجی اور گھریلو ذمہ داریاں نبھانے میں شدید ذہنی دباؤ کا سامنا ہوتا ہے۔ جس پہ ڈپریشن، anxiety، اور PTSD جیسی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔
لڑکی کو اپنی تولیدی صحت کی مکمل معلومات نہ ہونے کے باعث ماں کی کسی بیماری میں مبتلا ہونے کی بنا پر حمل روکنے کے طریقے، جنسی بیماریوں سے بچاؤ وغیرہ کی آگاہی کم ہوتی ہے۔
کم عمری میں حمل ہونے کی صورت میں بانجھ پن (Infertility) کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
کم عمری میں شادی کے بعد تعلیم اکثر چھوٹ جاتی ہے، جو لڑکی کی ذہنی، جسمانی اور معاشی نشوونما کو متاثر کرتا ہے۔
ورلڈ ھیلتھ آرگنائزیشن کے ماہرین اور یونیسیف جیسے ادارے واضح طور پر کہتے ہیں کہ 18 سال سے کم عمر میں شادی لڑکی کی صحت، تعلیم اور زندگی کے لیے نقصان دہ ہے۔
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ شادی اس وقت ہونی چاہیے جب فرد جسمانی، ذہنی اور سماجی طور پر مکمل بالغ ہو۔
لیکن حکومتیں معاشرتی بہتری کے لیے کم از کم عمر مقرر کر سکتی ہیں۔
No comments yet.