جمعہ ،5 جون 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

اداریہ: پاک چین دوستی — ایک ناقابلِ فراموش رشتے کی داستان

پاک چین دوستی کا یہ سفر جذبوں، اعتماد اور مشترکہ کامیابیوں سے لبریز ہے۔ صدر زرداری کے الفاظ میں یہ رشتہ "عارضی مفادات" نہیں، بلکہ اقدار اور باہمی طاقت پر کھڑا ہے۔

Editor

ایک سال قبل

Voting Line

 

صدر مملکت آصف علی زرداری کا پاک چین سفارتی تعلقات کی 74 ویں سالگرہ پر جاری کردہ پیغام دونوں ممالک کے درمیان گہرے، ناقابلِ شکست اور تاریخی اتحاد کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ تعلقات نہ صرف خطے کی استحکام اور ترقی کا سنگِ میل ہیں بلکہ مشترکہ مفادات، اعتماد اور یکجہتی کی ایک ایسی مثال ہیں جو عالمی سطح پر مثالی تسلیم کی جاتی ہے۔  


صدر زرداری نے پاک چین تعلقات کو "تاریخی اور وقت کی کسوٹی پر پرکھے گئے" الفاظ سے تعبیر کیا، جو گزشتہ 7 دہائیوں میں ایک جامع سٹریٹیجک شراکت داری میں ڈھل چکے ہیں۔ دونوں ممالک کو "آہنی بھائی" کہنا محض ایک علامتی بیان نہیں، بلکہ یہ اُس سدا بہار دوستی کی حقیقی تصویر ہے جو ہر سیاسی اور عالمی اتار چڑھاؤ میں بھی مضبوط تر ہوتی گئی۔ صدر کے الفاظ میں یہ رشتہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہے، جس میں خودمختاری، ترقی اور امن کے مشترکہ اصول شامل ہیں۔  

پاکستان کا "ون چائنا" پالیسی پر اٹل مؤقف صرف ایک سفارتی بیان نہیں، بلکہ چین کی علاقائی سالمیت اور قومی عزائم کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کا اظہار ہے۔ صدر زرداری نے اسے دونوں قوموں کے مشترکہ مفادات کی علامت قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ چین کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ اسی طرح، چین نے بھی پاکستان کے معاشی بحران، دفاعی ضروریات اور سماجی ترقی کے ہر موڑ پر ناقابلِ فراموش تعاون کیا ہے۔ یہ باہمی اعتماد کا وہ نادر نمونہ ہے جو دنیا کو دکھاتا ہے کہ حقیقی دوستی مشکلات میں بھی پھلتی پھولتی ہے۔  


چین پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کو صدر زرداری نے دونوں ممالک کے تعلقات کی "درخشاں مثال" قرار دیا۔ یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان میں بنیادی ڈھانچے، توانائی اور معیشت کو نئی زندگی دے رہا ہے، بلکہ یہ چین کی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) کا وہ جواہر ہے جس نے جنوبی ایشیا کو عالمی معیشت سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سی پیک کی کامیابی نے ثابت کیا ہے کہ جب دو قومیں مشترکہ مقاصد کے لیے یکجان ہوں تو ترقی کی راہیں خود بخود کھلتی چلی جاتی ہیں۔  

 صدر زرداری نے مستقبل کے لیے معاشی تعاون کو ٹیکنالوجی، دفاع، تعلیم اور تجارت جیسے نئے شعبوں تک پھیلانے پر زور دیا۔ ان کا عزم ظاہر کرتا ہے کہ پاک چین شراکت داری جامد نہیں، بلکہ وقت کے ساتھ بدلتی ہوئی عالمی ضروریات کے مطابق ڈھلتی رہے گی۔ اس کے ساتھ ہی، دونوں ممالک خطے میں امن، استحکام اور رابطوں کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں، جو نہ صرف ایشیا بلکہ پوری دنیا کے لیے امید کی کرن ہے۔  

پاک چین دوستی کا یہ سفر جذبوں، اعتماد اور مشترکہ کامیابیوں سے لبریز ہے۔ صدر زرداری کے الفاظ میں یہ رشتہ "عارضی مفادات" نہیں، بلکہ اقدار اور باہمی طاقت پر کھڑا ہے۔ جب دنیا تقسیم اور تنازعات کا شکار ہے، پاکستان اور چین کی یہ دوستی ثابت کرتی ہے کہ جب قومیں سچے دل سے مل کر چلیں تو کوئی چیلنج ناقابلِ تسخیر نہیں رہتا۔ 74 سال کی کامیابیوں کے بعد، دونوں ممالک کا 75 ویں سال میں داخلہ ایک نئی داستان کا آغاز ہے — ایسی داستان جو انسانی ترقی، امن اور اخوت کے سنہری اصولوں پر لکھی جائے گی۔  

پاک چین دوستی زندہ باد!

Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry