وزیراعظم شہباز شریف نے بھارتی پراپیگنڈے کو بے نقاب کرنے کیلئے سفارتی وفد تشکیل دے دیا، بلاول بھٹو زرداری قیادت کریں گے
وزیراعظم شہباز شریف نے بھارتی پراپیگنڈے کو بے نقاب کرنے کیلئے سفارتی وفد تشکیل دے دیا، بلاول بھٹو زرداری قیادت کریں گے
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھارت کے پراپیگنڈے اور خطے میں امن کو تباہ کرنے کی مزموم سازشوں کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی سفارتی وفد تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے اس وفد کی قیادت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو سونپی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے انہیں اس اہم ذمہ داری کے بارے میں آگاہ کیا۔ وفد میں ڈاکٹر مصدق ملک، انجینئیر خرم دستگیر، سینیٹر شیری رحمن، حنا ربانی کھر، فیصل سبزواری، تحمینہ جنجوعہ اور جلیل عباس جیلانی جیسی نامور شخصیات شامل ہیں۔
یہ وفد لندن، واشنگٹن، پیرس اور برسلز میں بین الاقوامی فورمز پر بھارت کے پراپیگنڈے کو بے نقاب کرے گا اور خطے میں امن کو تباہ کرنے کی بھارتی کوششوں کے خلاف پاکستان کا مؤقف واضح کرے گا۔ وفد کا اہم مقصد عالمی برادری کو پاکستان کی طرف سے خطے میں پائیدار امن کے لیے کی جانے والی کوششوں سے آگاہ کرنا بھی ہوگا۔
وزیراعظم کے اس فیصلے کو حکومت کی طرف سے بھارت کی تخریب کاریوں کے خلاف سفارتی محاذ پر مضبوط ردعمل کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وفد میں تمام اہم سیاسی جماعتوں کے نمایندوں کو شامل کرنا ملکی یکجہتی کا واضح پیغام ہے۔ وفد کی تشکیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان بھارت کی جانب سے پیدا کی جانے والی غیر مستحکم صورتحال کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک اہم پیغام جاری کیا، جس میں انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ان سے رابطہ کرتے ہوئے یہ درخواست کی کہ وہ ایک وفد کی قیادت کرتے ہوئے عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کریں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیراعظم نے ان سے یہ بھی گزارش کی کہ وہ دنیا کے سامنے پاکستان کے امن کے مؤقف کو مؤثر طریقے سے پیش کریں۔
انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ انہیں عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کی یہ ذمہ داری قبول کرنے پر فخر ہے اور وہ موجودہ مشکل حالات میں ملک کی خدمت کے لیے پُرعزم ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس موقع کو پاکستان کے مثبت امیج کو فروغ دینے اور بین الاقوامی برادری کے سامنے ملک کے پرامن ایجنڈے کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔
یہ اقدام حکومت پاکستان کی جانب سے عالمی سطح پر ملک کے موقف کو مضبوطی سے پیش کرنے کی کوششوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس میں بلاول بھٹو زرداری جیسے نمایاں رہنما کو شامل کرنا اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس فیصلے کو پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اتحاد اور یکجہتی کی علامت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
No comments yet.